شق قمر کے واقعے کو قرآنِ مجید نے’ آیۃ‘سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ. (القمر 54: 2-1) | ’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔(مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی آیت دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔‘‘ |
’آیۃ‘ عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ اِس سے وہ مظاہر مراد ہیں، جو کسی مضمر شے یا حقیقت یا واقعے کی نشان دہی کریں۔ مثال کے طور پر نشاناتِ راہ راستوں کا پتا دیتے ہیں، آثار ِقدیمہ اجڑے دیار کی یادگار ٹھہرتے ہیں اور تخلیقات اور مصنوعات اپنے اپنے خالق یا صانع سے باخبر کرتی ہیں۔ [1]اِن کا باہمی تعلق گویا اشارہ اور مشار الیہ کا ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر لفظِ ’آیۃ‘ اِس لغوی معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورۂ یونس میں فرعون کی لاش کو عذاب الٰہی کے واقعے کی نشانی کے طور پر باقی رکھنے کا فیصلہ مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ. (10: 92) | ’’سو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تو (خدا کے عذاب کی) نشانی بن کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں۔‘‘[2] |
سورۂ شعراء میں قوم عاد کے اِس عمل کو کارِ لاحاصل قرار دیا ہے کہ وہ بلند و بالا عمارتوں کی صورت میں اپنی عظمت کے نشان قائم کرتے تھے۔ ارشاد ہے:
اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ. وَتَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ. (26: 129-128) | ’’(یہ تمھارا کیا حال ہے)؟ کیا ہر اونچی زمین پر تم اِسی طرح لا حاصل یادگاریں بناتے رہو گے؟ اور اِسی طرح بڑے بڑے محل تعمیر کرتے رہو گے گویا تمھیں ہمیشہ رہناہے؟‘‘ |
علامت، نشانی، یادگار کے بنیادی مفہوم سے آگے بڑھ کر قرآن نے اِسے اپنی ایک اصطلاح کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ لفظ انفس و آفاق کے اُن دلائل کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اللہ پروردگارِ عالم کی صفاتِ عالیہ کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ صفات اللہ کی عظمت، خلقت، قدرت، رحمت، ربوبیت، عدالت اور علم و حکمت سے عبارت ہیں۔ انسان کی عقل و فطرت اِن کے شعور کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اگر اِسے درست طریقے سے استعمال کرے تو اللہ کی معرفت کی راہ تک پہنچ سکتا ہے۔ انسان کی جو صلاحیتیں اِس معاملے میں اُس کی رہنمائی کرتی ہیں، وہ غور و فکر، عقل و ادراک اور ذکر و تذکیر ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِنھیں ’يَتَفَكَّرُوۡنَ‘،’يَعۡقِلُوۡنَ‘ اور ’يَذَّكَرُوۡنَ‘سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَعَلَی اللّٰہِ قَصۡدُ السَّبِیۡلِ وَ مِنۡہَا جَآئِرٌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ. ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّ مِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ. یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَالنَّخِیۡلَ وَ الۡاَعۡنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ. | ’’(اُس کو پانا چاہتے ہو تو جان لو کہ) اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے، جب کہ راہیں ٹیڑھی بھی ہیں۔ اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو اُسی ایک راہ کی ہدایت دے دیتا۔ وہی ہے، جس نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے تم پیتے بھی ہو اور اُسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں، جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ وہ تمھارے لیے اُسی سے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے، جو غور کریں۔ |
وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ. | رات اور دن اور سورج اور چاند کو اُسی نے تمھارے کام میں لگا رکھا ہے اور اُسی کے حکم سے ستارے بھی تمھارے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں، جو عقل سے کام لیں۔ |
وَمَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ. (النحل 16:13-9) | اور یہ جو رنگ رنگ کی چیزیں اُس نے تمھارے لیے زمین میں بکھیر دی ہیں، اُن میں بھی یقیناً بہت بڑی نشانی ہے، اُن لوگوں کے لیے جو یاددہانی حاصل کریں۔‘‘ |
اِس سے واضح ہے کہ اللہ کی نشانیاں اُس کی ذات و صفات کی معرفت کے لیے ایک وسیلے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ گویا صفاتِ الہٰی اور آیاتِ الٰہی کے مابین علت و معلول اور سبب اور مسبب کا تعلق ہے۔ صفات کا مظہر آیات ہیں اور آیات کو دیکھ کر صفات کو پہچانا جا سکتا ہے۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں قرآنِ مجید کے موقف کو بیان کیا ہے، وہاں صفات اور آیات کے باہمی تعلق کو بھی واضح کیا ہے۔ اِس بیان کے چند متعلقہ اجزا درج ذیل ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح انسان کے حیطۂ ادراک میں نہیں آ سکتی۔ اِس لیے کہ ادراک کے ذرائع جس ہستی نے پیدا کیے ہیں، وہ تو یقیناً اُنھیں پا سکتی اور اُن کا احاطہ بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ ذرائع کسی طرح اُس کا احاطہ نہیں کرسکتے، جو خود اُن کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ...
اللہ تعالیٰ کی صفات، البتہ کسی نہ کسی درجے میں انسان کی گرفت میں آتی ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صفات سے متعلق کچھ چیزیں، خواہ وہ کتنی ہی حقیر ہوں، انسان کے پاس بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وخبر، قدرت، ربوبیت اور رحمت و حکمت سے کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمایا ہے۔ اِس پر قیاس کر کے خدا کی اِن صفات کا کچھ تصور ہم قائم کر سکتے ہیں۔ ... تاہم اِس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل کو بیدار رکھے اور وحی الٰہی کی رہنمائی میں انفس و آفاق کے اندر خدا کی آیات پر غور کرتا رہے۔ قرآن نے اپنے مخاطبین کو اِسی بنا پر باربار تعقل، تفکر اور تذکر کی دعوت دی ہے ... اِس طریقے سے غور کیا جائے تو انفس وآفاق کی ہر چیز گواہی دیتی ہے کہ خدا محض علت العلل اور واجب الوجود نہیں ہے کہ جس سے سلسلۂ علت و معلول شروع ہوا اور جو ہر حال میں تھا اور ہے اور رہے گا، بلکہ ایک ایسی صاحبِ ارادہ وادراک ہستی ہے، جو تمام اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔‘‘(96-99)
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’آیۃ‘ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اُس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ اِس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ وہ خالق کائنات ہے، مالکِ ارض و سما ہے اور مشرق و مغرب کا رب ہے۔ لطیف و خبیر ہے، سمیع و بصیر ہے، رؤف و رحیم ہے، عزیز و حکیم ہے، بکل شیء علیم اورعلیٰ کل شیء قدیر ہے۔ چنانچہ جب قرآنِ مجید انسانوں کو اِن صفات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیاتِ بینات کو بہ طور ِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔
انفس و آفاق کی یہ نشانیاں ہر لحاظ سے واضح اور نمایاں ہیں۔ دیکھنے والی آنکھیں اِنھیں دیکھ سکتی، عقل والے دماغ اِنھیں سمجھ سکتے اور بصیرت والے دل اِن سے خالق کی معرفت حاصل کر سکتے اور انجام سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔لیکن اِس کے باوجود اگر وہ اِن کی طرف متوجہ نہ ہو سکیں تو اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کرتے ہوئے اِنھیں اپنی کتاب میں بالتفصیل بیان کر دیا ہے تاکہ ابہام و اشکال کی کوئی گنجایش باقی نہ رہ جائے۔ ارشاد ہے:
...یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ. ( یونس 10: 5) | ’’...وہ اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔‘‘ |
...یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّکُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ. (الرعد 13: 2) | ’’...وہ اپنی اِن نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے، اِس لیے کہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرو۔‘‘ |
استاذِ گرامی سورۂ رعد کی اِس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’یعنی اپنی کتاب میں اِن(نشانیوں) کی تفصیل کرتا ہے تاکہ جن حقائق پر یہ دلالت کر رہی ہیں، تم اُن کو سمجھو اور اِس کے نتیجے میں کائنات کی اِس عظیم حقیقت کا یقین حاصل کرلو کہ جس نے اپنی بے پایاں قدرت اور کمال حکمت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے، وہ اِسے اتمام و تکمیل تک پہنچائے بغیر یوں ہی ختم نہیں ہونے دے گا، بلکہ لازماً اُس منزل تک لے جائے گا،جو اِس کے لیے مقرر ہے۔‘‘(البیان 2/573)
درجِ بالا تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ’آیۃ‘کے لغوی معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ اِس سے مراد وہ ظاہری شے ہے، جو کسی مخفی شے یا حقیقت کی نشان دہی کرے۔ جیسا کہ مثال کے طور پر تخلیق خالق کی، مصنوع صانع کی اور تصویر مصور کی نشان دہی کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کی اصطلاح میں اِس سے مراد انفس و آفاق کے وہ دلائل و براہین ہیں، جو اللہ کی ذات و صفات کے عرفان کی منزل تک پہنچنے کے لیے نشاناتِ راہ کا کردار ادا کرتے ہیں اور انسان کو اُس کے اخروی انجام سے باخبر کرتے ہیں۔
اِس اصطلاحی مفہوم میں اِس لفظ کے چار مختلف اطلاقات متعین ہوتے ہیں:
1۔ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
2۔ انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
3۔ انفس و آفاق میں نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
4۔ انفس و آفاق میں ظاہر ہونے والی جملہ آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیات ِ قرآنی
آئیے، اِن چاروں اطلاقات کو قرآنِ مجید کی روشنی میں قدرے تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں اِس امر کو جاننا آسان ہو جائے گا کہ شق القمر کے واقعے کو اِن میں سے کس کے تحت رکھا جا سکتا ہے۔
____________