گذشتہ ابواب میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف پوری تفصیل سے سامنے آ گیا ہے۔ یہ اپنے بنیادی استدلال اور مرکزی خیال کے لحاظ سےسید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے نقطہ ہاے نظر پر مبنی ہے۔ اِس موضوع پر اپنی گفتگو میں اُنھوں نے اِس بات کو نہایت صراحت سے بیان کیا ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں:
’’میں شق قمر کے معاملے میں متفرد نہیں ہوں، میری کوئی الگ راے نہیں ہے۔ اِس میں محقق علما کا ایک نقطۂ نظر ہے، میں اُسے صحیح سمجھتا ہوں۔ مجھ سے پہلے دو جلیل القدر اہل علم نے یہ نقطۂ نظر اپنی تفسیروں میں بیان کر دیا ہے۔ میرے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کو اپنی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں بیان کیا ہے اور اُن سے پہلے دورِ حاضر کے جلیل القدر داعی مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے اِسے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اِس باب کی تمام چیزوں کو موضوع بنایا ہےاور نہایت خوبی کے ساتھ پورے مواد کا تجزیہ کر کے یہ بتا یا ہے کہ واقعے کی نوعیت کیا ہے؟ روایات میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟ اِس کو دیکھنا کیسے چاہیے؟ اِس پر کیا اعتراضات ہوتے ہیں؟ اِس میں جو مختلف تعبیریں اختیار کی گئی ہیں، اُن میں کتنا وزن ہے؟ اِن تمام چیزوں کا بہت عمدہ تجزیہ کر دیا ہے۔ میں اِن کے حرف حرف سے اِس معاملے میں اتفاق کرتا ہوں۔ اِس لیے یہ بات ہی درست نہیں ہے کہ میں اِس میں متفرد ہوں یامیری کوئی الگ راے ہے۔‘‘(ویڈیو ریکارڈنگ 23 اعتراضات، شق القمر)
اِس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ موضوع کے جملہ مباحث پر اِن جلیل القدر علما کی توضیحات کو بعینہٖ نقل کر دیا جائے۔ اِس سے وہ مندرجات سامنے آ جائیں گے، جن کی تفصیل گذشتہ صفحات میں کی گئی ہے۔
مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کا مذکورہ موقف اُن کی تفاسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ اور ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں سورۂ قمر کی ابتدائی آیات کے تحت بیان کیا ہے۔ اِس کے مباحث درجِ ذیل ہیں۔