قرآنِ مجید میں شق قمر کا واقعہ سورۂ قمر (54) کی ابتدا ئی آیات میں مذکور ہے۔ اِس کی نوعیت اورحقیقت اور غرض و غایت کو جاننے کے لیے اِن آیات کے معانی و مطالب کو سمجھنا ضروری ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ. وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ. وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ. (القمر 54: 1-3) | ’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔ (مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے،جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ (چنانچہ یہی ہوا ہے) اور اِنھوں نے اب بھی جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ اور (ہم نے اُسی وقت اِن کو نہیں پکڑا، اِس لیے کہ ہمارے ہاں) ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ |
اِس مقام کو جب قرآنِ مجید کے مجموعی مطالب اور نظم کلام کی روشنی میں پڑھا جائے تو درجِ ذیل باتیں متعین ہوتی ہیں:
1۔ سورہ کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارِ عام میں نازل ہوئی ہے۔ سورہ کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ اِس میں خدا کی دینونت کے ظہور سے استدلال کیا گیا ہے۔
2۔ سورہ کے مضمون سے یہ بھی واضح ہے کہ اِس میں خطاب قریش مکہ سے ہے، جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔درجِ بالا آیات میں ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے) کے الفاظ بھی اِسی بات کی تصریح کرتے ہیں۔
3۔ سورہ میں قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے۔ واضح کیا ہے کہ اِن کی طرف اللہ کے رسول مبعوث ہوئے۔ اُن کے ساتھ اللہ نے اپنی نشانیاں بھی نازل فرمائیں، مگر یہ آخر دم تک جھٹلانے ہی پر کمر بستہ رہیں۔ لہٰذا اللہ نے اُن پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ قریش مکہ کا معاملہ اِن سے مختلف نہیں ہے۔ چنانچہ اُن کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہو گا، جو سابقہ اقوام کے مجرمین کے ساتھ ہوا تھا۔اِس بات کو ایک حتمی پیش گوئی کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ سورہ کی آیت 45کے الفاظ ہیں:
سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ. (54 :45) | ”اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔“ |
عذاب کی اِس پیش گوئی کے حوالے سے استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’یہ صریح پیشین گوئی ہے، جو ہجرت سے برسوں پہلے کر دی گئی تھی اور جس طرح کی گئی تھی، حرف بہ حرف اُسی طرح پوری ہو گئی۔ قریش پر اتمام حجت کے بعد یہ منظر پہلی مرتبہ معرکۂ بدر کے موقع پر دیکھا گیا۔ خدا کی افواجِ قاہرہ کے مقابل میں اُن کے جتھے اِس کے بعد کسی میدان میں بھی ٹھیر نہیں سکے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا اور لوگوں نے ہر جگہ اُنھیں اپنی آنکھوں سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے دیکھ لیا۔‘‘(البیان 91/5)
4۔ سورہ کا آغاز ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ (قیامت کی گھڑی قریب آ گئی) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ استاذِ گرامی کے الفاظ میں ’السَّاعَۃُ‘ سے یہاں قیامت کی گھڑی مراد ہے، ’’جو رسول کے مکذبین کے لیے اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں اُن پر لازماً آتا ہے۔‘‘[11] یعنی اُن کے اخروی فیصلے کا نفاذ اِسی دنیا میں ہو جاتا ہے اور اُن کی سزا بھی یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ آخرت میں اُن کا مزید حساب کتاب نہیں ہوتا۔ وہ پہلے دنیوی عذاب جھیلتے ہیں، پھر قبر کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر اُسی کے تسلسل میں دوزخ کا ایندھن بنتے ہیں۔ کفار ِقریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ تکذیب اور تکفیر کی اِسی روش پر قائم رہے تو اُن کا انجام بھی یہی ہوگا۔ عنقریب اُن کا فیصلہ صادر ہو جائے گا اور اُن کے سلسلۂ عذاب کا آغاز ہو جائے گا۔
5۔ ’وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ‘ کے الفاظ چاند کے شق ہونے یا اُس کے پھٹ جانے کے بارے میں بالکل صریح ہیں۔ ’انۡشَقَّ‘ ماضی کا فعل ہے، جو کسی عمل کے وقوع اور تکمیل پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی شق ہونے کا فعل واقع ہو کر پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ اِس سے آگے متصل آیت بھی اِسی بات کی تاکید و توثیق کر رہی ہے کہ یہ مستقبل میں ہونے والا کوئی واقعہ[12] نہیں ہے، جسے ابھی ظہور پذیر ہونا ہے، بلکہ ایسا واقعہ ہے، جو واقع ہو چکا ہے۔ اگلی آیت یہ ہے: ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے)۔
استاذِ گرامی بیان کرتے ہیں:
’’’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ ‘، ’’اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے‘‘ کا جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ مستقبل کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس سے قرآن نے عذاب اور قیامت کے وقوع پر استدلال کیا ہے۔ اِس لیے کہ ’اِنْشَقَّ الْقَمَرُ‘کے معنی اگر یہ کیے جائیں کہ چاند شق ہو جائے گا تو اِس کے بعد یہ جملہ بالکل بے جوڑ ہو جاتا ہے۔‘‘(البیان5/ 83)
6۔ اِسی طرح اِسے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے کسی زمانے سے بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ آیت 2 سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اِس کے مخاطبین قریش ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ وہ اِس نوعیت کی نشانیوں کو جادو قرار دے کر جھٹلانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔