باب سوم

شق قمر کا واقعہ ـــــــ احادیث و آثار کی روشنی میں

شق قمر کا واقعہ اصلاً قرآنِ مجید میں مذکورہے۔ اُس نے اِس قسم کی نشانیوں  کے پس منظر اور خاص اِس واقعے کی نوعیت اور غرض و غایت کو پوری صراحت سے واضح کیا ہے۔ چنانچہ اِس واقعے کی تشریح و تفصیل میں اُسی کے مندرجات کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم، اِس کا ذکر  متعدد صحابۂ کرام نے بھی کیا ہے۔ اِن میں حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم نمایاں ہیں۔ اِن میں سے بعض عینی شاہد ہیں اور بعض نے اِسے دوسروں کی شہادت پر روایت کیا ہے۔ یہ روایات احادیث و آثار کی صورت میں بخاری، مسلم، ترمذی، احمد، ابو عوانہ، ابو داؤد طیالسی، عبدالرزاق، ابن جریر، بیہقی، طبرانی، ابن مردویہ اور ابو نعیم اصفہانی کے مجموعوں میں متعدد اور مختلف سندوں کے ساتھ منقول ہیں۔اِن روایات کو راویوں کے مشاہدے کے اعتبار سے دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ شق قمر  کا مشاہدہ کرنے والے اصحاب کی روایات

2۔ شق قمرکا مشاہدہ نہ کرنے والے اصحاب کی روایات

ذیل میں اِسی ترتیب سے مذکورہ روایات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ البتہ، اِس کے مطالعے سے پہلے شق قمر کے زمانے کا تعین ضروری ہے۔

شق قمر کے وقوع کا زمانہ

شق قمر کا واقعہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت سے پہلے رونما ہوا تھا۔  تاریخ و سیرت اور حدیث و تفسیر کے علما کا اِس پر اتفاق ہے۔ اُن کے اندازے کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پیش آیا تھا۔ آپ اُس وقت منیٰ میں تھے۔ اِس موقع پر متعدد صحابۂ کرام اور کفارِ قریش نے اِس کا مشاہدہ کیا تھا۔

شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں انشقاق القمر کی روایتوں کے تحت لکھتے ہیں:

قال: انشقّ القمر بمكة يعني: أن الانشقاق كان وهم بمكة قبل أن يهاجروا إلى المدينة. ( 7/184 )

’’ایک روایت میں راوی (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا ہےکہ شق قمر کا واقعہ مکہ میں رونما ہوا تھا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا تو وہ مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے۔‘‘

’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں علامہ  احمد بن محمد قسطلانی نے لکھا ہے:

كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين. ( 2/254)

’’یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے رونما ہوا۔‘‘

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِسی تاریخ کی تصریح کی ہے۔ وہ  لکھتے ہیں:

’’تمام روایات کو جمع کرنے سے اِس کی جو تفصیلات معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ یہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قمری مہینے کی چودھویں شب تھی۔ چاند ابھی ابھی طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ پھٹا اور اُس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ یہ کیفیت بس ایک ہی لحظہ رہی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم جڑ گئے۔ نبی صلی الله علیہ و سلم اُس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔‘‘

(تفہیم القرآن 5/229)

سید سلیمان ندوی نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ کفارِ قریش کے لیے آخری نشانِ ہدایت تھا۔ اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر بھی جب قریش ایمان نہ لائے تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اب حجت تمام ہو گئی ہے، اِس لیے اِس قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائیے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہدایت کی اِن نشانیوں میں کفارِ مکہ کے لیے سب سے آخری اور فیصلہ کن نشان شق قمر کا تھا، جس کے بعد آیاتِ ہلاکت کا آغاز ہونے والا تھا...ہجرت سے پہلے شق قمر کا نشان ظاہر ہوا اور اُس کو دیکھ کر بھی جب قریش کے رؤسا اسلام نہ لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا اور ہلاکت کے عذاب کے نازل ہونے کا وقت قریب آ گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اسرارِ نبوت کے جو محرم تھے، وہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے کہ یہ ہجرت قریش کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ مستدرک حاکم (جلد 3، ص : 7) اور مسند ابن حنبل (جلد 1، ص : 216) میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا (انا للّٰہ) مکہ والوں نے اپنے پیغمبر کو نکال دیا،اب یہ ضرور ہلاک ہو جائیں گے، چنانچہ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ) والی قتال کی آیت نازل ہوئی۔‘‘

(سیرت النبی3/172- 173)

شق قمر  کا مشاہدہ کرنے والے اصحاب کی روایات

واقعے کی تفصیلات اور روایات کے بعض اشارات سے قرین قیاس یہی ہےکہ اِس موقع پر صحابۂ کرام کی ایک معتد بہ تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےہم راہ موجود تھی۔ تاہم، جن اصحاب نے اِسے روایت کیا ہے، اُن میں سے عینی شاہدین کی تعداد تین ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم ہیں۔ اِن کی روایات درجِ ذیل ہیں:

1۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکی صحابی ہیں۔ اِن کا شمار ابتدائی ایمان لانے والوں میں ہوتا ہے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر تقریباً چوبیس پچیس سال تھی۔ اِس واقعے کی روایات میں اِنھی کی روایت کو بنیادی روایت کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ واقعے کے عینی شاہد ہیں اور اُنھوں نے اِس کے وقوع کے زمانے اور مقام،دونوں کا تعین کیاہے۔ اِسی طرح اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعے پر رد ِعمل بھی مذکور ہے۔ یہ روایت  کم و  بیش اُن تمام محدثین نے نقل کی ہے، جنھوں نے انشقاق القمر کو اپنی کتابوں میں موضوع بنایا ہے۔ اِس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

* بخاری و مسلم کے مختلف طرق سے  واضح ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ [13]  میں موجود تھے۔ 

* اُنھوں نے دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے۔

* ایک ٹکڑا الگ ہو کر پہاڑ کے دوسری جانب چلا گیا۔

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہنا۔

بیہقی کے طریق میں یہ اضافہ ہے کہ اِس واقعے پر کفار نے تبصرہ کیا کہ لگتا ہے کہ  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔ لہٰذا  باہر سے آنے والوں کا انتظار کرو۔ اگر وہ تصدیق کریں تو اِس کا مطلب ہے کہ واقعہ حقیقی ہے۔جب باہر سے آنے والوں سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ وہ بھی اِس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

روایت کے چند نمایندہ طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا عبدان، عن ابي حمزة عن الاعمش، عن إبراهيم، عن ابي معمر، عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه، قال: انشق القمر ونحن مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم بمنى، فقال: اشهدوا وذهبت فرقة نحو الجبل.

(بخاری، رقم 3869)

’’ہم سے عبدان نے بیان کیا، اُن سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، اُن سے اعمش نے، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابومعمر نے اور اُن سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا تھا: لوگو، گواہ رہنا۔ اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا۔‘‘

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب، وإسحاق بن إبراهيم جميعًا، عن ابي معاوية. وحدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي كلاهما، عن الاعمش. وحدثنا منجانب بن الحارث التمیمی واللفظ له اخبرنا ابن مسهر، عن الاعمش، عن إبراهيم عن ابي معمر، عن عبد اللّٰه بن مسعود، قال: بينما نحن مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بمنى إذا انفلق القمر فلقتين، فكانت فلقة وراء الجبل وفلقة دونه فقال لنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: اشهدوا.

(مسلم، رقم 7250)

‏‏‏‏’’ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، اُن سے ابومعاویہ نے بیان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ اِن دونوں کو میرے والد نے الاعمش کے حوالے سے بیان کیا۔ اور ہم سے منجاب بن الحارث التمیمی نے بیان کیا، اور یہ لفظ اُنھی کے لیے ہے، ہمیں ابن مسہر نے خبر دی، اُن سے اعمش نے بیان کیا، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابو معمر نے، اُن سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا تو پہاڑ کے اِس طرف رہا اور ایک اُس طرف چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  گواہ رہو۔“

حدثنا عبيد اللّٰه بن معاذ العنبري، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن ابي معمر، عن عبد اللّٰه بن مسعود، قال: انشق القمر على عهد رسول اللّٰه صلى اللّٰہ عليه وسلم فلقتين، فستر الجبل فلقةً، وكانت فلقة فوق الجبل، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: اللهم اشهد . (مسلم، رقم 7251)

‏‏‏‏’’ہم سے عبيد اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابی معمر نے اور اُن سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ پس ایک ٹکڑے نے پہاڑ کو ڈھانک لیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ، میں گواہی دیتا ہوں۔‘‘

أخبرنا أبو عبد اللّٰه محمد بن عبد اللّٰه الحافظ، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا العباس بن محمد، ثنا سعيد بن سليمان، ثنا هشيم، ثنا مغيرة، عن أبِي الضحى، عن مسروق، عن عبد اللّٰه يعني ابن مسعود، قال: انشقّ القمر بمكة حتى صار فرقتين فقال كفار أهل مكة هذا سحر سحركم به ابن أبي كبشة.

’’ہمیں ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے خبر دی کہ اُن سے ابو عباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے عباس بن محمد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، اُن سے مغیرہ نے، اُن سے ابو ضحٰی نے، اُن سے مسروق نے، اُن سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  مکہ میں چاند پھٹ گیا، یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو گیا۔ کفار نے (ایک دوسرے سے ) کہا کہ یہ جادو تھا، جو ابنِ ابی کبشہ[14] نے تم لوگوں پر کر دیا تھا۔

انظروا السفار فإن كانوا رأوا ما رأيتم فقد صدق وإن كانوا لم يروا ما رأيتم فهو سحر سحركم به قال فسئل السفار قال: وقدموا من كل وجه، فقالوا رأينا.

(الاعتقاد البیہقی 1/269)

باہر کے لوگوں کا انتظار کرو۔  اگر اُنھوں نے بھی وہی دیکھا، جو تم نے دیکھا ہے تو پھر تو وہ سچ ہو گا اور اگر اُنھوں نے وہ کچھ نہیں دیکھا، جو تم نے دیکھا ہے تو پھر یہ جادو ہو گا،جو اُس نے تم پر کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب مختلف اطراف سے لوگ آئے تو اُن سے یہ سوال پوچھا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہم بھی یہ منظر دیکھ چکے ہیں۔‘‘