بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ‘ میں عہدِ رسالت کے کسی واقعے کا بیان نہیں ہے، بلکہ قیامت کے موقع پر ہونے والے حادثےکی پیشین گوئی ہے۔ اِس تصور پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ’انشق‘ تو ماضی کا فعل ہے، اِس سے مستقبل کا واقعہ کیسے مراد لیا جا سکتا ہے؟ اِس کے جواب میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مستقبل کے کسی واقعے کی قطعیت اور حتمیت کو نمایاں کرنے کے لیے ماضی کے صیغے کا استعمال عربی زبان و ادب کا مسلمہ قاعدہ ہے۔ مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی، دونوں اِس قاعدے کو تسلیم کرتے ہیں، مگر مذکورہ مقام پر اُنھوں نے اِس کے اطلاق کو غلط قرار دیا ہے۔ چنانچہ اُن کے نزدیک یہ زمانۂ رسالت ہی کا واقعہ ہے۔
’’تدبرِ قرآن‘‘ میں ہے:
’’بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اِس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ اُن کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اِس زمانے میں بھی اِس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے، لیکن سیاقِ کلام اِس سے اِبا کرتا ہے۔ اِس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں، لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بے جوڑ ہو جاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اُس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اِس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجیے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اُس کے بعد یہ بات کہنے کا کیا محل تھا؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا، بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی، وہ حرف حرف سچی نکلی۔ چنانچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ ’یَقُوْلُ الْکَافِرُونَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘ (اُس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آ گیا)۔‘‘ (92-91/8)
’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان ہوا ہے:
’’بعض لوگوں نے اِس فقرے کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’چاند پھٹ جائے گا۔‘‘ لیکن عربی زبان کے لحاظ سے چاہے یہ مطلب لینا ممکن ہو، عبارت کا سیاق و سباق اِس معنی کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔ اول تو یہ مطلب لینے سے پہلا فقرہ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ چاند اگر اِس کلام کے نزول کے وقت پھٹا نہیں تھا، بلکہ وہ آیندہ کبھی پھٹنے والا ہے تو اِس کی بنا پر یہ کہنا بالکل مہمل بات ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ گئی ہے۔ آخر مستقبل میں پیش آنے والا کوئی واقعہ اُس کے قرب کی علامت کیسے قرار پا سکتا ہے کہ اُسے شہادت کے طور پر پیش کرنا ایک معقول طرزِ استدلال ہو۔ دوسرے، یہ مطلب لینے کے بعد جب ہم آگے کی عبارت پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اِس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ آگے کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ لوگوں نے اُس وقت کوئی نشانی دیکھی تھی، جو امکانِ قیامت کی صریح علامت تھی، مگر اُنھوں نے اُسے جادو کا کرشمہ قرار دے کر جھٹلا دیا اور اپنے اِس خیال پر جمے رہے کہ قیامت کا آنا ممکن نہیں ہے۔ اِس سیاق و سباق میں اِنْشَقَّ الْقَمَرُ کے الفاظ اُسی صورت میں ٹھیک بیٹھ سکتے ہیں، جب کہ اُن کا مطلب ’’چاند پھٹ گیا ‘‘ ہو۔’’پھٹ جائے گا‘‘ کے معنی میں اُن کو لے لیا جائے تو بعد کی ساری بات بے جوڑ ہو جاتی ہے۔ سلسلۂ کلام میں اِس فقرے کو رکھ کر دیکھ لیجیے، آپ کو خود محسوس ہو جائے گا کہ اِس کی وجہ سے ساری عبارت بے معنی ہو گئی ہے:
’’قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ اُن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ اُنھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی۔‘‘‘‘ (229-228/5)