1۔ شق قمر کا واقعہ قرآنِ مجید میں سورۂ قمر (54) کی ابتدائی آیات میں بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے: ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ وَ اِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً ‘، ’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔(مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی آیت دیکھ لیں۔‘‘
2۔ اِس سے واضح ہے کہ قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو ’آیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے۔
3۔ ’آیۃ‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
4۔ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اِس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
5۔ قرآنِ مجید جب انسانوں کو اللہ کی صفات کے بارے میں توجہ دلانا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیات کو بہ طورِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔
6۔ اِس اصطلاحی مفہوم میں یہ لفظ قرآنِ مجید میں چار مختلف اطلاقات کے لیے استعمال ہوا ہے:
i۔ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اللہ کا انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا یا سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا یا آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کرنااِسی نوعیت کی آیات ہیں۔
ii۔انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانۂ رسالت میں بنی اسرائیل پر من و سلویٰ اترنا، صحراے سینا میں اُن پر مستقل بادلوں کا سایہ رہنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا ہونا اور گہوارے میں کلام کرنا اِسی کی مثالیں ہیں۔
iii۔انفس و آفاق کی خلاف معمول ظاہر ہونے والی اُن آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے حکم پر اُس کے نبیوں کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِنھی کو مذہبی اصطلاح میں ’’معجزہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس کے نظائر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بننا، اُس کی ضرب سے بارہ چشموں کا پھوٹنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کلام الٰہی کا جاری ہونا شامل ہیں۔
iv۔انفس و آفاق میں حسبِ معمول اور خلافِ معمول ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی کے لیے ــــــ جو قرآن کے بین الدفتین درج ہیں اور اُس کی سورتوں کے فقروں کے طور پر تلاوت کی جاتی ہیں۔
7۔ اب سوال یہ ہے کہ سورۂ قمر میں لفظِ ’آیۃ‘ مذکورہ چار اطلاقات میں سے کس اطلاق کو قبول کرتا ہے؟اِس کے جواب میں اگر ہم اِسےقرآن کے جملے یا آیت کے مفہوم میں لینا چاہیں تو اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے،کیونکہ یہاں یہ لفظ کسی فقرے کے لیے نہیں، بلکہ واقعے کے لیے استعمال ہوا ہے۔اِسی طرح اگر اِس کا اطلاق انفس و آفاق کی معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی نشانیوں پر کیا جائے تو یہ بھی درست نہ ہو گا، کیونکہ یہ معمول کا واقعہ نہیں ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ پیش آیا ہے۔ جہاں تک اُن آیات کا تعلق ہے،جو معجزات و خوارق کی صورت میں انبیا کے توسط سے ظاہر ہوتی ہیں تو اُن کے زمرے میں بھی اِس واقعے کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی نہ آپ نے اپنی زبان سے کوئی الفاظ صادر فرمائے، نہ دستِ مبارک کے اشارےسے چاند کو دو ٹکڑے ہونے کا حکم دیا اور نہ اُس کی جانب کسی چیز کو پھینکا۔ ایسی کوئی صورت ہوتی تو بلاشبہ، اِس واقعے کا شمار اُن آیات میں ہوتا،جو اللہ کے اذن پر انبیا کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہیں۔اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ اِسے آیاتِ الٰہی کی اُس نوعیت پر محمول کیا جائے، جو خارقِ عادت تو ہے، مگراللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہوئی ہے۔
8۔ چنانچہ درست تاویل یہی ہے کہ یہ واقعہ ایسی غیر معمولی نشانی ہے، جو اللہ کے براہ ِراست حکم سے ظاہر ہوئی اور اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی اِس کا شمار اُسی طرح کی نشانیوں میں ہوتا ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔ اِن کی مثالیں من و سلویٰ کا اترنا، بدلیوں کا سایہ فگن ہونا، کوہِ طور کا معلق ہونا، سیدنا مسیح کا بن باپ کے تخلیق پاناہیں۔
9۔ قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخری رسالت کے زمانے میں بھی اِسی طرح کی نشانیاں دکھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ سورۂ حٰم السجدہ(41) کی آیت 53 میں اِن الفاظ میں بیان ہواہے: ’’(تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، اور یہ بھی متنبہ ہو جائیں)، اِنھیں ہم عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود اِن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اِن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے۔‘‘
10۔ قرآن سے یہ بھی واضح ہے کہ شق قمر کی نشانی کفارِ قریش کے لیے تھی اور اِس کا مقصد اُنھیں ’الساعۃ ‘، یعنی قیامت کی گھڑی کے بارے میں متنبہ کرنا تھا۔ رسول کے مکذبین کے لیے قیامت کی یہ گھڑی اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں دنیا ہی میں برپا ہو جاتا ہے اور اِس گھڑی کا اتمام اُس وقت ہو گا،جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت واقع ہو جائے گی۔
11۔ شق قمر کا واقعہ اصلاً قرآنِ مجید میں مذکورہے۔ اُس نے اِس قسم کی نشانیوں کے پس منظر اور خاص اِس واقعے کی نوعیت اور غرض و غایت کو پوری صراحت سے واضح کیا ہے۔ چنانچہ اِس واقعے کی تشریح و تفصیل میں اُسی کے مندرجات کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔
12۔ تاہم، اِس کا ذکر متعدد صحابۂ کرام نے بھی کیا ہے۔ اِن میں حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت انس بن مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین نمایاں ہیں۔ اِن میں سے بعض عینی شاہدین ہیں اور بعض نے اِسے دوسروں کی شہادت پر روایت کیا ہے۔
13۔ روایتوں کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ یہ واقعہ زمانۂ رسالت میں ہجرت سے کم و بیش 5 سال پہلے رونما ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب منیٰ میں موجود تھے۔ چاند بدرِ کامل کی صورت میں تھا اور واضح نظر آ رہا تھا۔ یک بہ یک وہ پھٹا اور دو ٹکڑے ہو کر الگ ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔ یہ حیرت انگیز منظر لحظہ بھر کے لیے قائم رہا اور پھر دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم اِس واقعے کے گواہ رہنا۔کفار نے یہ منظر براہِ راست دیکھا، مگر اُنھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اِس لیے اُنھوں نے اِسے جادو کہہ کر جھٹلانے کی کوشش کی۔ اُن میں سے بعض نے تجویز دی کہ حتمی راے قائم کرنے سے پہلے سفر پر گئے ہوئے لوگوں کو واپس آ لینے دیں۔ اُن کا مشاہدہ فیصلہ کن ہو گا، کیونکہ ہماری آنکھیں تو مسحور ہو سکتی ہیں، مگر غیر موجود ہونے کی وجہ سے وہ سحر زدہ نہیں ہو سکتے۔ یہ تجویز قبول ہوئی۔ جب لوگ آئے تو معلوم ہوا کہ اُنھوں نے بھی بعینہٖ چاند کے پھٹنے کا مشاہدہ کیا تھا۔ چنانچہ کفار کے لیے واقعے کا انکار ممکن نہیں رہا۔ تاہم، اِس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تردید و تکذیب پر کمر بستہ رہے۔
14۔ اِس مجموعی مفہوم کی صحت پر علما ومحدثین متفق ہیں۔
15۔ اِس متفق علیہ مفہوم پر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منسوب بعض طرق میں یہ اضافہ شامل ہے کہ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات دو مرتبہ واقع ہوا تھا اور قریش کے مطالبۂ نشانی کےجواب میں رونما ہوا تھا۔ محدثین و مفسرین میں سے بعض نے اِس اضافے کو قبول کیا ہے اور بعض نے راویوں کا تسامح سمجھ کر رد کیا ہے۔ قرآنِ مجید کے نظائر، سورۂ قمر کی آیات اور انشقاقِ قمر کے موضوع کی تمام روایتوں کو جمع کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ اضافہ صحیح نہیں ہے۔
16۔ شق قمر کی معجزانہ نوعیت کے بارے میں بھی علما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حدیث و تفسیر کے اکثر علما اسے معجزاتِ نبوت میں شامل کرتے اور اِس کے صدور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر کے دو جلیل القدر علما مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی اِسے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیتے ہیں، مگر معجزے کی معروف اصطلاح کا اطلاق اِس پر نہیں کرتے۔ اُن کے نزدیک اِسے معجزاتِ نبوت میں شمار کرنا علمی اور اصطلاحی لحاظ سے درست نہیں ہے، کیونکہ یہ ایساخارقِ عادت واقعہ ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا ۔چنانچہ اِس کے لیے معجزہ یا معجزۂ نبوت کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ اِسے آیتِ الٰہی سے تعبیر کرنا چاہیے۔
17۔ جناب جاوید احمد غامدی شق القمر کی بحث کے تمام اجزا میں مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کی مجموعی راے سے اتفاق کرتے اور اِسی کو اپنے موقف کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
18۔ شق قمر کے بارے میں غامدی صاحب کےموقف کو اِن نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
i۔ غامدی صاحب شق قمر کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں۔
ii۔ وہ اِسے ایک حسی واقعہ مانتے اور پروردگارِ عالم کی قدرتِ کاملہ کا مظہر قرار دیتے ہیں۔
iii۔ اُن کے نزدیک شق قمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے انذارکی تائید میں اور آپ کے مکذبین کے لیے عذاب کی نشانی کے طور پر واقع ہوا تھا۔
iv۔ وہ اپنے موقف کی بنا قرآنِ مجید پر قائم کرتے ہیں، مگر اُس کی تائید و تفہیم میں صحابہ کی روایات کو پوری طرح قبول کرتے ہیں۔
v۔ جہاں تک اِس کے لیے معجزے کی اصطلاح کے استعمال کا تعلق ہے تو وہ اُسے صحیح نہیں سمجھتے۔ اِس معاملے میں وہ مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کے موقف کو قرآن و حدیث کے مطابق سمجھتے ہیں اور علما کے روایتی موقف کو قرآن و حدیث کے منشا کے موافق خیال نہیں کرتے۔
vi۔ اُن کے نزدیک اِس معاملے میں کلیدی حیثیت لفظِ ’آیۃ‘ کے مفہوم و مصداق کو حاصل ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ واقعے کے لیے قرآن نے یہی لفظ اختیار کیا ہے۔
vii۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اِس لفظ کا مصداق قرآنِ مجید کے نظائر کی روشنی میں طے کیا جائے تو اِس کا شمار اُن نشانیوں میں ہو گا،جو اللہ کے براہ ِراست حکم سے ظاہر ہوئیں اور جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔
viii۔ تاہم، وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن تمام معجزات و خوارق کو برحق مانتے ہیں، جو قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں یا حدیث و سیرت کی مستند روایات میں منقول ہیں۔
____________