تمہیدی باب میں ’’ ’آیۃ‘ کا مفہوم و مصداق ‘‘ کے زیرِ عنوان یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی تھی کہ قرآنِ مجید میں یہ لفظ اللہ کی نشانیوں کے لیے آیا ہے۔ یہ جہاں اللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہونے والی نشانیوں کے مفہوم میں ہے، وہاں انبیاے کرام کے معجزات کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ دونوں میں اِس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہیں اور اُسی کے حکم سے صادر ہوتی ہیں، مگر اظہار کے لحاظ سے یہ فرق ضرور ہے کہ اول الذکر میں اللہ تعالیٰ نبی کی وساطت کے بغیر براہِ راست معاملہ کرتے ہیں، جب کہ ثانی الذکر میں نبی کا توسط اختیار کیا جاتا ہے۔ ہماری مذہبی اصطلاح میں معجزے کا لفظ اُس نشانی کے لیے اختیار کیا گیا ہے، جو مخاطبین کے مطالبے پر نبی کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اِس تناظر میں دیکھیے تو شق قمر کے لیے معجزہ یا معجزۂ نبوت کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ اِسے آیتِ الٰہی سے تعبیر کرنا چاہیے۔ مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی، دونوں اِسی موقف کے قائل ہیں۔
مولانا مودودی نے اپنے موقف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے اُن روایتوں پر بھی جرح کی ہے، جنھیں معجزے کے مفہوم پر محمول کرنے کے لیے بہ طورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ ایک معجزہ تھا، جو کفارِ مکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا؟ یا یہ ایک حادثہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو اُس کی طرف توجہ صرف اِس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قرب قیامت کی ایک نشانی ہے؟ علماے اسلام کا ایک بڑا گروہ اِسے حضور کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور اُن کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبہ پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا۔ لیکن اِس راے کا مدار صرف بعض اُن روایات پر ہے، جو حضرت انس سے مروی ہیں۔ اِن کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ ’’فتح الباری‘‘ میں ابنِ حجر کہتے ہیں کہ ’’یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے، اُن میں سے کسی میں بھی حضرت انس کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔‘‘ (باب انشقاق القمر)۔ ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اِس مضمون کی نقل کی ہے، مگر اُس کی سند ضعیف ہے، اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتب حدیث میں ابنِ عباس سے منقول ہوئی ہیں، اُن میں سے کسی میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ بریں حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن عباس، دونوں اِس واقعہ کے ہم عصر نہیں ہیں۔ بخلاف اِس کے جو صحابہ اِس زمانے میں موجود تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اُس پر شق القمر کا یہ معجزہ اُن کو دکھایا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید خود بھی اِس واقعہ کو رسالتِ محمدی کی نہیں، بلکہ قرب قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/229- 230)
مولانا اصلاحی کا بیان یہ ہے:
’’اِس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے اِن کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو، بلکہ اِن کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اِسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو، جو ظاہر ہوئی، بلکہ اُن کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اِس لیے بھی اِن کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا اُن کو جواب مل جائے۔ کفارِ قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اُس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے،اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی،خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اِن سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔‘‘
(تدبرقرآن 8/ 91)