دونوں مفسرین شق قمر کو معجزات النبی کے زمرے میں شمار نہ کرنے کے باوجود اِس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی صداقت کی تاکید اور آپ کے انذار اور دعوت کی تائید کرتا ہے۔
مولانا اصلاحی نے لکھا ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اِس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اُس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے، جس سے رسول کے انذار اور اُس کے دعواے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اِس سنتِ الہٰی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم ایک آیت بہ طور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے:
’سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ‘ (حٰم السجدہ 53) (ہم عنقریب اُن کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اِس کائنات میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی)۔
اِن نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے، اُس کی تائید کے آثار و شواہد اِس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اِسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن اُن کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اُس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں اُن کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں،بلکہ یہ حقائق ہیں، جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، اِن کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اِس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن8/ 90- 91)
مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:
’’یہ اِس لحاظ سے حضور کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں، یہ واقعہ اُن کی تصدیق کررہا تھا۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/ 230)
____________