شق قمر کے واقعے کا مقصد

  قرآن سے یہ بھی واضح ہے کہ شق قمر کی نشانی کفارِ قریش کے لیے تھی اور اِس کا مقصد اُنھیں ’الساعۃ ‘ ،یعنی قیامت کی  گھڑی کے بارے میں متنبہ کرنا تھا۔ رسول کے مکذبین کے لیے قیامت کی یہ گھڑی اُس عذاب سے شروع ہوتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں دنیا ہی میں برپا ہو جاتا ہے اور اِس گھڑی کا اتمام اُس وقت ہو گا، جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت واقع ہو جائے گی۔

 اِس عذاب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انبیا کی دعوت کو سمجھنا ضروری ہے۔  اِس کی تفصیل اِس طرح ہےکہ اللہ کے نبی  دعوت الیٰ اللہ  اور قیامت کے انذار و بشارت کے لیے دنیا میں آتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مخاطبین کو اللہ پروردگارِ عالم کی طرف بلاتے ہیں اور ماننے والوں کو قیامت میں اچھے انجام کی خوش خبری سناتے ہیں اور نہ ماننے والوں کو برے انجام سے خبردار کرتے ہیں۔ یہ نبیوں کا منصبی فریضہ ہے۔ اُن کے اِس فریضے کو قرآن نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ....

 (البقرہ2: 213)

’’لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر (اُن میں اختلاف پیدا ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے...۔ ‘‘

نبی آخر الزماں  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حکم اِن لفظوں میں آیا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا. وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا.

 (الاحزاب33: 45-46)

’’اے نبی، (تم بھی بے پروا ہو جاؤ)، ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والا اور خبردار کرنے والابنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کے اذن سے اُس کی طرف دعوت دینے والا اور (لوگوں کو تاریکیوں سے نکالنے کے لیے) ایک روشن چراغ۔‘‘

اِن نبیوں میں سے بعض ہستیوں کو اللہ ’’نبوت‘‘ کے ساتھ ’’رسالت‘‘کے منصب پر بھی فائز کرتے ہیں۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نبی اپنے مخاطبین پر حق کو آخری درجے میں واضح کر کے اُن  پر اللہ کی حجت تمام کر دے۔ آسمان کی عدالت زمین پر لگ جائے اور جھٹلانے والوں کے اخروی اور حتمی انجام کو اِسی دنیا میں طے اور عملاً نافذ کر دیا جائے۔ گویا  رسول کے مکذبین کے لیے ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو اور اُن کی جنت اور جہنم کا فیصلہ اِسی زندگی میں ہو جائے۔ قرآن میں اِن رسولوں کی جوسرگذشتیں بیان ہوئی ہیں، اُن سے واضح ہے کہ حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت ہود، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ علیہم السلام کے منکرین کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ وہ آفاتِ سماوی کے ذریعے سے نیست و نابود کیے گئے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذبین کو بھی اِسی قانون کے تحت  آپ کے صحابہ کی تلواروں کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔

اِس تناظر میں دیکھیے، سورہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ قریش کے منکرین کے لیے ’الساعۃ‘ ، یعنی عذاب کی گھڑی قریب آ گئی، جس کے بارے میں اللہ کا رسول اُنھیں متنبہ کر رہا تھا او ر اِس کی نشانی کے طور پر اللہ نے چاند کو شق کر کے دکھا دیا ہے۔ اِس تمہید کے بعد انبیاے سابق کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے مخاطبین نے بھی اُنھیں جھٹلایا تھا تو اللہ نے اُنھیں  نیست و نابود کر دیا۔ چنانچہ قوم نوح نے جھٹلایا تو اُسے پانی میں غرق کر دیا، عاد نے جھٹلایا تو اُنھیں بادِ تند سے ہلاک کر دیا اور اُن کی لاشیں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہو گئیں، جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھک رہے تھے، ثمود نے جھٹلایا تو اللہ نے اُن کے لیے اونٹنی کو نشانی بنا دیا اور جب اُنھوں نے اُس کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے اُنھیں ہول ناک کڑک اور ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کر دیا اور اُن کی آبادیوں کو بالکل پامال کر ڈالا، قوم لوط نے تکذیب کی تو اُنھیں پتھر برسانے والی ہوا سے تباہ و برباد کر دیا، قوم فرعون نے جھٹلایا تو اُسے بھی زبردست قوت سے دبوچ کر فنا کر ڈالا۔ اِن تاریخی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر اِن قوموں کے جھٹلانے کا نتیجہ عذاب کی صورت میں نکلا ہے تو تمھارے جھٹلانے کا نتیجہ مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر تم کچھ دیر اور اِسی روش پر قائم رہے تو سمجھ لو تمھارے عذاب کا وقت بھی قریب آ لگا ہے۔ شق قمر کا غیر معمولی واقعہ اِسی کی ایک نشانی ہے۔یہ اِس حقیقت کا پتا دیتی ہے کہ جو قادر ِمطلق چاند جیسے عظیم کرّے کو دو ٹکڑے کر کے پھر جوڑ سکتا ہے، اُس کے لیے تمھارے جوڑ بند الگ کر کے دوبارہ جوڑنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ آگاہ رہو کہ تمھاری قیامتِ صغریٰ کی ساعت بھی قریب ہے اور اُسی کے تسلسل میں قیامت کبریٰ کی ساعت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ سورہ کے آخری حصے میں ارشاد فرمایا ہے:

اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ. اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ. سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَیُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ. بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ.

(القمر 54: 43-46)

’’(قریش کے لوگو، پھر) تمھارے یہ منکرین کیا اُن سے کچھ بہتر ہیں یا صحیفوں میں تمھارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟ کیا اِن کا زعم ہے کہ ہم ایسا جتھا ہیں، جو مقابلہ کر لے گا؟ (سن لو)، اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔ نہیں، بلکہ اِن سے جو وعدہ ہے، اُس کے پورا ہونے کا اصل وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن (اِن منکروں کے لیے) بڑا سخت اور بڑا ہی تلخ ہو گا۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے سورہ کے آغاز اور اختتام میں لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘  کی جس طرح وضاحت کی ہے، اُس سے شق قمر  کا مقصد پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’’اَلسَّاعَۃُ‘ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے۔...یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اُس عذاب سے جو اِس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے، اگر وہ رسول کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتی، بلکہ اُس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اُس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ اِن دونوں عذابوں میں فرق صرف آغاز و تکمیل یا تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے، وہ درحقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے، اِس وجہ سے لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ بسا اوقات اِن دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اِس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آ گیا، اُس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آ گئی۔ گویا ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ کا اسلوب بیانِ مبالغہ کا اسلوب نہیں، بلکہ یک سر بیانِ حقیقت ہے۔

’وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اِس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اِس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے، جن سے رسول کے انذار اور اُس کے دعواے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے...

اِن نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے، اُس کی تائید کے آثار و شواہد اِس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اِسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن اُن کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اُس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں اُن کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں، بلکہ یہ حقائق ہیں، جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، اِن کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اِس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔...

کفارِ قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اِس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی، خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اُن سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔...

یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اوپر والی آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ) میں اُس عذاب و ہزیمت کا ذکر تھا، جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اِسی دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ اِس آیت (بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ)میں اُس عذاب کا حوالہ ہے، جو اصل روزِ حساب، یعنی قیامت میں اُن کے سامنے آئے گا اور جو بڑا ہی کٹھن ہو گا۔ اِس کتاب میں جگہ جگہ ہم اِس سنت الٰہی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے اِس دنیا میں بھی لازماً شکست کھاتے ہیں اور آخرت تو اُن کی رسوائی کی جگہ ہے ہی۔‘‘

(تدبر قرآن8/ 90-91، 113)

____________