شق قمر کو قرآنِ مجید نے ’آیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کے معنی و مصداق اور اطلاق و استعمال کے حوالے سےپہلے باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ اِس بحث کی نوعیت اگلے مباحث کے فہم میں گویا مقدمے کی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے علم و استدلال اور تحلیل و تجزیہ میں اِسے اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس بنا پر مناسب ہو گا کہ گذشتہ باب کا خلاصہ سامنے رکھ لیا جائے۔ یہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے:
* ’آیۃ‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
* یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اِس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
* قرآنِ مجید جب انسانوں کو اللہ کی صفات کے بارے میں توجہ دلانا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیات کو بہ طورِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔
* اِس اصطلاحی مفہوم میں یہ لفظ قرآنِ مجید میں چار مختلف مصداقات کے لیے استعمال ہوا ہے۔
ایک، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اللہ کا انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا یا سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا یا آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کرنااِسی نوعیت کی آیات ہیں۔
دوسرے، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانۂ رسالت میں بنی اسرائیل پر من و سلویٰ اترنا، صحراے سینا میں اُن پر مستقل بادلوں کا سایہ رہنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا ہونا اور گہوارے میں کلام کرنا اِسی کی مثالیں ہیں۔
تیسرے، ـــــانفس و آفاق کی خلافِ معمول ظاہر ہونے والی اُن آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے حکم پر اُس کے نبیوں کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِنھی کو مذہبی اصطلاح میں ’’معجزہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس کے نظائر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بننا، اُس کی ضرب سے بارہ چشموں کا پھوٹنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر کلام الٰہی کا جاری ہونا شامل ہیں۔
چوتھے، ــــــ انفس و آفاق میں حسبِ معمول اور خلافِ معمول ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی کے لیے ــــــجو قرآن کے بین الدفتین درج ہیں اور اُس کی سورتوں کے فقروں کے طور پر تلاوت کی جاتی ہیں۔
اِن نکات کی روشنی میں اب سوال یہ ہے کہ سورۂ قمر میں لفظ ’ آیۃ‘ مذکورہ چار اطلاقات میں سے کس اطلاق کو قبول کرتا ہے؟
اگر ہم اِسےقرآن کے جملے یا آیت کے مفہوم میں لینا چاہیں تو ظاہر ہے کہ اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ کا جملہ، بلاشبہ قرآن کی آیت ہے، مگر اِس جملے کے اندر استعمال ہونے والے لفظ ’آیۃ ‘ کا مطلب آیت قرآنی ہر گز نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کے کسی فقرے یا بیان کے لیے نہیں، چاند شق ہونے کے واقعے کے لیے استعمال ہوا ہے۔
اِسی طرح اگر اِس کا اطلاق انفس و آفاق کی معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی نشانیوں پر کیا جائے تو یہ بھی درست نہ ہو گا، کیونکہ یہ معمول کا واقعہ نہیں ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ پیش آیا ہے۔ چاند کا طلوع و غروب، اُس کا عروج و محاق، اُس کی ماہِ نو، ماہِ کامل اور ماہِ مشبہ کی مختلف صورتیں، اُس کا جزوی یا مکمل گرہن، اُس کی سرخی، سفیدی اور سیاہی، اُس کی گردش سے مہ و سال کا تعین، اُس کی کشش سے سمندر کا مد و جزر، اُس کی دل کش روشنی اور اُس روشنی میں رات کے مسافروں کے لیے رہنمائی کا سامان، یہ سب اللہ کی آیات ہیں، اُس کی عظیم نشانیاں ہیں، مگر یہ سب روز مرہ اور معمول کے واقعات ہیں۔ اِن کے وقوع میں تسلسل اور تواتر ہے۔ انسان اِن سے مانوس اور مربوط ہوتے ہیں۔ یہ آفاق کی عاداتِ مستمرہ ہیں، خوارقِ عادات نہیں ہیں۔ اِن سب کے برعکس شق قمر ایک خلاف معمول اور خارقِ عادت واقعہ ہے، اِس لیے آیت کے اِس مفہوم کا بھی اِس پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔
جہاں تک اُن آیات کا تعلق ہے، جو معجزات و خوارق کی صورت میں انبیا کے توسط سے ظاہر ہوتی ہیں تو اُن کے زمرے میں بھی اِس واقعے کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی نہ آپ نے اپنی زبان سے کوئی الفاظ صادر فرمائے، نہ دستِ مبارک کے اشارےسے چاند کو دو ٹکڑے ہونے کا حکم دیا اور نہ اُس کی جانب کسی چیز کو پھینکا۔ ایسی کوئی صورت ہوتی تو بلاشبہ، اِس واقعے کا شمار اُن آیات میں ہوتا،جو اللہ کے اذن پر انبیا کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہیں۔
اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ اِسے آیاتِ الہٰی کی اُس نوعیت پر محمول کیا جائے، جو خارقِ عادت تو ہے، مگراللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہوئی ہے۔
چنانچہ درست تاویل یہی ہے کہ یہ واقعہ ایسی غیر معمولی نشانی ہے، جو اللہ کے براہ ِ راست حکم سے ظاہر ہوئی اور اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی اِس کا شمار اُسی طرح کی نشانیوں میں ہوتا ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اِسی طرح کی نشانیاں دکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سورۂ حٰم السجدہ اور سورۂ نمل میں بیان ہواہے۔ حٰم السجدہ میں اعلان فرمایاہے:
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ.... (41: 53) | ’’(تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، اور یہ بھی متنبہ ہو جائیں)، اِنھیں ہم عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود اِن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اِن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے...۔ ‘‘ |
سورۂ نمل میں ارشاد ہے:
وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ. (27: 93) | ’’اور کہہ دو کہ شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ عنقریب اپنی نشانیاں تمھیں دکھائے گا اور تم اُنھیں پہچان لو گے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، تمھارا رب اُس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ |
امام امین احسن اصلاحی نے حٰم السجدہ کے اعلان کو ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور مکذبین قرآن کے لیے تہدید و وعید‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کی وضاحت میں اُنھوں نے لکھا ہے:
’’ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اُس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اُس کی تصدیق کے لیے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے، جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اِس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ پکار اٹھیں گے کہ بے شک، قرآن بالکل حق ہے۔ ’آیات‘ سے مراد غلبۂ حق اور ہزیمتِ باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں، جن کی قرآن نے پیشین گوئی کی ہے۔ یہ پیشین گوئی اِس سورہ میں بھی پیچھے تاریخی دلائل کی روشنی میں گزر چکی ہے۔ ابتداءً تو قریش کے لیڈروں نے اِن باتوں کو تعلّی پر محمول کر کے اِن کا مذاق اڑایا، لیکن جب مدینہ میں اور خود مکہ کے اندر اور اُس کے اطراف میں، یہاں تک کہ خود قریش کے اچھے لوگوں کے اندر بھی اسلام جڑ پکڑنے لگا، تب اُن کو اور اُن کے پشت پناہوں کو کچھ تنبہ ہوا۔ بالآخر ہجرت کے بعد غلبۂ اسلام کے ایسے واقعات پیش آئے کہ قریش تو درکنار روم و فارس کے لیے بھی اسلام کے مقابل میں ٹکنا ناممکن ہو گیا۔‘‘ (تدبر قرآن 7/128- 129)
استاذ ِگرامی سورۂ نمل کی مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں:
’’یعنی تمھیں پتا چل جائے گا کہ یہ وہی نشانیاں ہیں، جن کے بارے میں میں نے تمھیں خبردار کر دیا تھا۔ چنانچہ معلوم ہے کہ ہجرت کے بعد یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں اور لوگوں نے بہ چشم سر دیکھ لیا کہ خدا کے پیغمبر نے کتنی سچی باتیں بتائی تھیں۔‘‘
(البیان 3/581)
چاند کو دو ٹکڑے کرنا، درحقیقت اُسی فیصلے کا اظہار تھا، جس کا اعلان پہلے کر دیا گیا تھا۔ یہ آفاق میں ظاہر ہونے والی نہایت غیر معمولی اور عظیم الشان نشانی تھی۔ اِس کی حیرت انگیزی، اِس کی شان، اِس کے ہول اور اور اِس کےرعب و دبدبے نے اِسے ایک عظیم آیتِ الٰہی کے طور پر نمایاں کیا تھا۔نوعیت کے اعتبار سے اِس کا شماراُن آیات میں ہوتا ہے، جو اللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر کی گئی تھیں اور جن میں انبیا کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ گویا یہ اُسی قسم کی نشانیوں میں سے ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔ اِن کی مثالیں من و سلویٰ کا اترنا، بدلیوں کا سایہ فگن ہونا، کوہِ طور کا معلق ہونا، سیدنا مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے تخلیق پاناہیں۔