شق قمر کے وقوع کا زمانہ

شق قمر کا واقعہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت سے پہلے رونما ہوا تھا۔  تاریخ و سیرت اور حدیث و تفسیر کے علما کا اِس پر اتفاق ہے۔ اُن کے اندازے کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پیش آیا تھا۔ آپ اُس وقت منیٰ میں تھے۔ اِس موقع پر متعدد صحابۂ کرام اور کفارِ قریش نے اِس کا مشاہدہ کیا تھا۔

شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں انشقاق القمر کی روایتوں کے تحت لکھتے ہیں:

قال: انشقّ القمر بمكة يعني: أن الانشقاق كان وهم بمكة قبل أن يهاجروا إلى المدينة. ( 7/184 )

’’ایک روایت میں راوی (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا ہےکہ شق قمر کا واقعہ مکہ میں رونما ہوا تھا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا تو وہ مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے۔‘‘

’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں علامہ  احمد بن محمد قسطلانی نے لکھا ہے:

كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين. ( 2/254)

’’یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے رونما ہوا۔‘‘

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِسی تاریخ کی تصریح کی ہے۔ وہ  لکھتے ہیں:

’’تمام روایات کو جمع کرنے سے اِس کی جو تفصیلات معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ یہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قمری مہینے کی چودھویں شب تھی۔ چاند ابھی ابھی طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ پھٹا اور اُس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ یہ کیفیت بس ایک ہی لحظہ رہی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم جڑ گئے۔ نبی صلی الله علیہ و سلم اُس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔‘‘

(تفہیم القرآن 5/229)

سید سلیمان ندوی نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ کفارِ قریش کے لیے آخری نشانِ ہدایت تھا۔ اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر بھی جب قریش ایمان نہ لائے تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اب حجت تمام ہو گئی ہے، اِس لیے اِس قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائیے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہدایت کی اِن نشانیوں میں کفارِ مکہ کے لیے سب سے آخری اور فیصلہ کن نشان شق قمر کا تھا، جس کے بعد آیاتِ ہلاکت کا آغاز ہونے والا تھا...ہجرت سے پہلے شق قمر کا نشان ظاہر ہوا اور اُس کو دیکھ کر بھی جب قریش کے رؤسا اسلام نہ لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا اور ہلاکت کے عذاب کے نازل ہونے کا وقت قریب آ گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اسرارِ نبوت کے جو محرم تھے، وہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے کہ یہ ہجرت قریش کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ مستدرک حاکم (جلد 3، ص : 7) اور مسند ابن حنبل (جلد 1، ص : 216) میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا (انا للّٰہ) مکہ والوں نے اپنے پیغمبر کو نکال دیا،اب یہ ضرور ہلاک ہو جائیں گے، چنانچہ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ) والی قتال کی آیت نازل ہوئی۔‘‘

(سیرت النبی3/172- 173)