دونوں مفسرین کے نزدیک سورہ کے مخاطبین کفارِ قریش ہیں۔ اُنھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے۔ اِس کی نشانی کے طور پر چاند شق کر کے دکھا دیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر وہ سمجھنا چاہیں تو اِس واضح نشانی کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں۔ اِس کے بعد اب اُن کے پاس بہت تھوڑا وقت بچا ہے۔ سابقہ اقوام کے انجام کا ذکر کر کے متنبہ کیا ہے کہ اگر تمھاری یہ روش جاری رہی تو تمھارا انجام بھی اُنھی جیسا ہو گا۔
مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:
’’اِس میں کفارِ مکہ کو اِس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے، جو اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اِس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اُس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ ... کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اُسی وقت مانیں گے، جب قیامت فی الواقع برپا ہو جائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داورِ محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔
اِس کے بعد اُن کے سامنے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے، جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ ِراست پر آ جائے تو اُن عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی، جو اِن قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اِس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجاے کوئی اِسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔‘‘
(تفہیم القرآن5 /226-227)
مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:
’’مخاطب اِس میں وہ مکذبین ہیں، جو قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے کسی ایسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، جو اُنھیں قائل کر دے کہ فی الواقع قرآن کی یہ دھمکی سچی ہو کے رہے گی، اگر وہ اِس کو جھٹلاتے رہے۔ اُن کو پچھلی قوموں کی تاریخ، جس کی طرف پچھلی سورہ میں بھی اشارہ ہے، نسبتاً تفصیل کے ساتھ سنا کر متنبہ فرمایا ہے کہ آخر اِن قوموں کے انجام سے کیوں عبرت نہیں حاصل کرتے؟ کیوں مچلے ہوئے ہو کہ جب یہی کچھ تمھارے سروں پر بھی گزر جائے گا، تب مانو گے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اُس نے تمھیں عذاب کی نشانی دکھانے کی جگہ ایک ایسی کتاب تم پر اتاری ہے، جو تمھاری تعلیم و تذکیر اور تمھارے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ہر پہلو سے جامع و کامل اور تمام ضروری اوصاف و محاسن سے آراستہ ہے۔ لیکن تمھارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جگہ تم اُس کے عذاب کے طالب بنے ہوئے ہو۔‘‘ (تدبر قرآن 87/8)