شق قمر کا واقعہ قرآنِ مجید کے علاوہ احادیث و آثار میں بھی مذکور ہے۔ صاحبِ ’’تدبر ‘‘ اور صاحبِ ’’تفہیم‘‘ یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث و آثار کو قرآنِ مجید کے متابعات کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ چنانچہ دونوں نے روایات کا ذکر اِس طرح کیا ہے کہ گویا قرآن کے متن کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور روایات میں اُسی کی بعض تفصیلات نقل ہوئی ہیں۔ مزید برآں، لفظاً بھی اِس امر کی تصریح کر دی ہے۔
سید مودودی لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ قرآن کے صریح الفاظ سے ثابت ہے اور حدیث کی روایات پر اُس کا انحصار نہیں ہے۔ البتہ، روایات سے اِس کی تفصیلات معلوم ہوتی ہیں اور پتا چلتا ہے کہ یہ کب اور کیسے پیش آیا تھا۔‘‘ (تفہیم القرآن 5/ 229)
مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے:
’’رہا یہ سوال کہ اِس طرح کا کوئی واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو اِس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اِس کی تائید ہوتی ہے۔ صورتِ واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں،لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔‘‘(تدبر قرآن8/ 91- 92)