ضمیمہ 1

’’معجزہ‘‘ کا مفہوم اور شق قمر کے واقعہ پر اُس کا اطلاق

’معجزۃ‘ ’اعجاز‘ سے اسم فاعل ہے۔ اِس کے معنی ’’عاجز کر دینے والے‘‘ کے ہیں۔ عام مفہوم میں یہ کسی عظیم الشان اور غیر معمولی واقعے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ خلافِ عادت امر ہے، جو انسانی دسترس سے باہر ہو اور اللہ کے حکم پراُس کے نبیوں سے صادر ہو۔ ہماری علمی روایت کے مطابق یہ جن مفاہیم اور اطلاقات کو شامل ہے، وہ درجِ ذیل ہیں:

* معجزہ خارقِ عادت ہوتا ہے۔

* اللہ کے اذن پر مبنی ہوتا ہے۔

* نبی کی ذات سے ظاہر ہوتا ہے۔

* دعواے نبوت کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔

* کبھی منکرین کے مطالبے پر نازل کیا جاتا ہے۔

* کبھی کفار کو تحدی (چیلنج) کرنا مقصود ہوتا ہے۔

* کبھی ثباتِ ایمان کے لیے صادر ہوتا ہے۔

* کبھی اہل ایمان کو اللہ کی نصرت سے فیض یاب کرتا ہے۔

* مخاطبین اِس کی مثل پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

* نتیجتاً یہ نبی کے مخاطبین پر اتمام حجت کا باعث بنتا ہے۔

چند جلیل القدر اہل علم کے اقتباسات نقل ہیں:

علامہ سعد الدین تفتازانی (793 ھ) ’’شرح عقائد النسفی‘‘ میں لکھتے ہیں:

المعجزۃ ھی امر یظھر بخلاف العادۃ علٰی یدی مدعی النبوۃ عند تحدی المنکرین علٰی وجہ یعجز المنکرین عن الاتیان بمثلہ.(125)

’’معجزہ خلافِ عادت امر ہے ۔ یہ نبوت کے مدعی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ منکرین (نبوت) کو اِس (خلافِ عادت امر) کی مثل پیش کرنے کی دعوت دی جائے اور وہ ایسا کرنے سے عاجز ہوں۔‘‘

علی بن محمد الشریف الجرجانی (816 ھ) نے اپنی معروف کتاب ’’معجم التعریفات‘‘ میں معجزہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

المعجزۃ امر خارق للعادۃ داعیۃ الی الخیر والسعادۃ مقرونۃ بدعوی النبوۃ قصد بہ اظھار صدق من ادعی انہ رسول من اللّٰہ. (184)

’’معجزہ وہ خلافِ معمول امر ہے جو خیر و برکت کی دعوت اور نبوت کے دعوے کو شامل ہو اور اِس کا مقصد اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرنے والے کی صداقت کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘

امام جلال الدین السیوطی (849 ھ) نے لکھا ہے:

المعجزۃ: امر خارق للعادۃ، مقرون بالتحدی، سالم عن المعارضہ.

(الاتقان فی علوم القرآن 2/311)

’’معجزہ ایسے خارقِ عادت امر کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ تحدی (چیلنج) بھی شامل ہو اور اُس کا مقابلہ نہ کیا جا سکے۔‘‘

محمد علی تھانوی (1158ھ) کی تالیف ’’کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ میں ہے:

المعجزۃ: ھی فی الشرع امر خارق للعادۃ یظہر علیٰ ید مدعی النبوۃ موافقًا لدعواہ. (1575)

’’معجزہ: شریعت میں اِس سے مراد وہ خلافِ معمول امر ہے، جو نبوت کے مدعی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا اور اُس کے دعوے کی تائید کرتا ہے۔‘‘

امام شاہ ولی اللہ (1174ھ)نے انبیا کے معجزات کی نوعیت اور ضرورت کو طبیب اور دوا کی مثال سے واضح کیا ہے۔ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

مثلہ في ذلک کمثل سید مرض عبیدہ، فأمر بعض خواصہ: أن یکلفہم شرب دواء أشاؤا ام أبوا، فلوأنہ أکرہہم علی ذلک کان حقًا، ولکن تمام اللطف یقتضی ان یعلمھم اولاً انھم مرضی، وان الدواء نافع، وان یعمل اموراً خارقۃً تطمئن نفوسھم بھا علی انہ صادق فیما قال، وان یشوب الدواء بحلو فحینئذ یفعلون ما یؤمرون بہ علی بصیرۃ منہ، وبرغبۃ فیہ؛ فلیست المعجزات ولا استجابۃ الدعوات ونحو ذلک الا امورًا خارجۃً عن اصل النبوۃ، لازمۃً لھا فی الاکثر. (2/64)

’’( نبوت کے) اِس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی مثال اُس آقا جیسی ہے، جس کے غلام بیمار ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اُس نے اپنے خاص کارکنان میں سے کسی کارکن کو حکم دیا ہے کہ وہ اُنھیں دوا پینے کا مکلف بنائے، اِس کے باوجود کہ وہ پینا چاہیں یا اُس کا انکار کریں۔ لہٰذا اگر وہ اِس معاملے میں اُن پر سختی کرے تو وہ حق بجانب ہو گا۔ تاہم، کامل مہربانی کا تقاضا ہے کہ (سختی سے ) پہلے وہ اُنھیں سمجھائے کہ وہ بیمار ہیں اور یہ دوا اُن کے لیے مفید ہے۔ مزید یہ کہ وہ کچھ خارقِ عادت امور کو ظاہر کرے، جو اُنھیں اِس پر مطمئن کر دیں کہ وہ اپنے قول میں سچا ہے۔ یعنی دوا میں شیرینی ملا دے۔ اِس کے نتیجے میں غلام پوری بصیرت اور رغبت کے ساتھ وہ کام کریں گے، جن کا اُنھیں حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ معجزات کا ظہور، دعاؤں کی قبولیت اور اِس طرح کے دیگر امور نبوت کی حقیقت سے خارج ہیں، البتہ اکثر حالات میں نبوت کے اسباب و لوازم میں شامل ہوتے ہیں۔‘‘

شاہ عبدالحق محدث دہلوی بیان کرتے ہیں:

’’معجزہ خرقِ عادت کو کہتے ہیں، جو مدعی رسالت و نبوت کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس سے مقصود تحدی ہے۔ تحدی کے معنی کسی کام میں برابری کرنا اور دشمن کو عاجز کر کے غلبہ حاصل کرنا ہے۔ تحقیق یہی ہے کہ معجزہ میں تحدی شرط نہیں ہے۔‘‘

(مدار ج النبوہ 1/ 229)

مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

’’جو نبی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نبی ہوں . . .میری متابعت کے بغیر کوئی راستہ نجات کا نہیں ہے۔ اور اُس کی دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ اللہ جل شانہ میرے ہاتھوں اور زبان سے وہ چیزیں ظاہر فرمائے گا، جو اُس کی عام عادت کے خلاف ہوں گی اور دنیا اِس کی مثال لانے سے عاجز ہو گی۔ پھر اِس کے موافق مشاہدہ بھی کیا جا رہا ہو تو یہ خدا کی جانب سے عملاً اُس کے دعویٰ کی تصدیق ہے۔ درحقیقت معجزہ نبی کے دعویٰ کی عملی تصدیق ہوتی ہے۔‘‘

(اعجاز القرآن 31)

 معجزہ کے معنی و مفہوم کی اِس تفصیل کے بعد اب یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ قرآنِ مجید  کی اصطلاح نہیں ہے۔ یہ عربی زبان ہی کا لفظ ہے اور اِس کے بعض اسالیب کلام الٰہی میں مذکور بھی ہیں۔ لیکن جہاں تک درجِ بالا اصطلاحی مفہوم کا تعلق ہے تو اِس مفہوم میں یہ یا اِس کا کوئی اشتقاق کتاب الٰہی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔

یہی معاملہ کتب احادیث کا بھی ہے۔ اِن میں بھی یہ لفظ اختیار نہیں کیا گیا۔  تاہم، محدثین نے ابواب کے عنوانات کے لیے اِس لفظ کو اختیار کیا ہے۔

اِسی بنا پر بعض اہل علم کا موقف ہے کہ انبیا کے خوارق کے لیے معجزہ کے لفظ کو استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ سید سلیمان ندوی ’’سیرت النبی‘‘ میں ’’اِن واقعات کا اصطلاحی نام‘‘ کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں:

’’حضرات انبیاے کرام علیہم السلام سے یہ جو مافوق العادت کیفیات اور اعمال صادر ہوتے ہیں، اِن کے لیے عام طور پر معجزہ کا لفظ بولا جاتا ہے، لیکن یہ اصطلاح کئی حیثیتوں سے غلط ہے، اول تو اِس لیے کہ قرآنِ مجید اور احادیث میں یہ لفظ مستعمل نہیں ہوا ہے، بلکہ اِس کی جگہ آیت (نشانی) اور برہان (دلیل ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو اپنے مفہوم کو نہایت خوبی سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدیم محدثین نے اِن کی جگہ دلائل اور علامات کے الفاظ استعمال کیے ہیں، جو الفاظ قرآنی کے ہم معنی ہیں۔ دوسرے یہ کہ عام استعمال کی بنا پر ’’معجزہ‘‘ کے ساتھ کچھ خاص لوازم ذہنی پیدا ہو گئے ہیں، جو حقیقت میں صحیح نہیں ہیں، مثلاً: اِس لفظ سے عوام میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ وہ خود پیغمبر کا فعل ہوتا ہے، جس کا صدور خاص اُس کے اعضا و جوارح سے ہوتا ہے اور نیز یہ کہ اِس لفظ کے سبب سے اِس کا معجزہ ہونا گویا اِس کی حقیقت میں داخل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ دونوں خیالات غلط ہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ معجزہ پر عقلی حیثیت سے جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں، اُن کا ایک بڑا حصہ خود لفظِ معجزہ کے غلط استعمال سے پیدا ہو گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم کو ایک ایسا جامع لفظ درکار ہے، جس میں نبوت کے تمام خواص، کیفیات، مشاہدات اور اعمالِ خارقۂ عادت و غیر خارقۂ عادت، سب داخل ہیں، لیکن معجزہ کا لفظ اتنا وسیع نہیں. . . لیکن چونکہ ہماری زبان میں معجزہ کا لفظ عام طور پر چل گیا ہے، اِس لیے اِس کو یک قلم ترک بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘(3/21- 22)

اِس مفہوم کے لیے کتاب اللہ میں ’آیۃ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی نشانی کے ہیں۔ تاہم،وہاں اِس سے مرادصرف انبیا کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی نشانیاں ہی نہیں ہیں، اِس کے ساتھ وہ نشانیاں بھی اِس کے مصداقات میں داخل ہیں، جو انفس و آفاق میں روز مرہ ظاہر ہوتی ہیں اور وہ خلافِ معمول نشانیاں بھی داخل ہیں، جنھیں اللہ براہِ راست ظاہر کرتے ہیں۔ مزید برآں ،قرآنِ مجید کے فقروں کے لیے بھی یہی لفظ آیت استعمال ہوتا ہے۔ [15]

اب سوال یہ ہے کہ کیا شق قمر کے واقعے پر لفظ معجزہ کا اطلاق درست ہے؟ درجِ بالا تعریفات کی روشنی میں اِس کا جواب نفی میں ہو گا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کے مطابق معجزہ وہ خارقِ عادت واقعہ ہے، جو اللہ کے حکم سے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ شق قمر، بلا شبہ خارقِ عادت واقعہ ہےاور اللہ ہی کے حکم سے ظاہر ہوا ہے، مگر قرآن و حدیث سے واضح ہے کہ اِس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ اللہ چاہتا تو اِس کے لیے اپنے پیغمبر کا توسط اختیار کر لیتا، جیسا کہ قرآن و حدیث میں مذکور متعدد دیگر معجزات میں اختیار کیا گیا ہے۔ اگر اللہ نے اپنی حکمت کے تحت ایسا نہیں کیا تو ہمیں اِسے معجزے کے بجاے آیتِ الہٰی سے تعبیر کرنا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا تو بلا شبہ، اُن کا معجزہ کہلائے گا، مگر اُن کے بن باپ کے پیدا ہونے کو اُن کا معجزہ نہیں کہا جائے گا، بلکہ اللہ کی آیت قرار دیا جائے گا۔

____________