شق قمر کی حقانیت پر بعض لوگوں کی طرف سے اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تاریخ کی روشنی کے زمانے میں دنیا میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے اور کسی کو اِس کی خبر نہ ہو؟ چنانچہ اُن کے نزدیک یہ واقعہ اگر ہوا تھا تو یہ ضروری تھا کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگ اِسے دیکھتے اور ہر خطے میں اِس کی روایتیں بیان ہوتیں۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کی کتابوں کے سوا اِس کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک یہ اعتراض کئی پہلوؤں سے بے بنیاد ہے۔
اولاً، قرآن اور حدیث، دونوں سے واضح ہے کہ یہ نشانی فقط قریش کے لیے تھی۔ باقی دنیا سے اِس کا اصلاً کوئی تعلق نہیں تھا۔ اِس کے ظہور کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کو آنے والے عذاب سے پوری طرح متنبہ کر دیا جائے۔ گویا یہ اُسی طرح کی نشانی تھی، جیسی ناقہ کی شکل میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سامنے ظاہر ہوئی یا سیدنا مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی صورت میں بنی اسرائیل کے سامنے آئی تھی۔اِن نشانیوں کا تعلق اُنھی اقوام سے تھا، جن میں یہ ظاہر ہوئی تھیں۔ اِس طرح کی نشانیوں کو تمام دنیا اور تمام اقوام کے حوالے سے دیکھنا درست نہیں ہے۔
ثانیاً، یہ خبر قرآن میں مذکور ہے۔ اِس کتاب کے مندرجات کی بنا پر علم و عقل مجبور ہیں کہ اِسے الہامی اور غیر انسانی کلام کے طور پر قبول کریں۔ چنانچہ اگر مسلم ہے کہ یہ کتاب اپنے بیان میں ایک خارقِ عادت معجزہ ہے تو عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں اِس کی تمام اطلاعات کو صحیح مانا جائے۔
ثالثًا، مذکورہ اعتراض پر جواباً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ غلط ہے تو جس خطے میں اور جن لوگوں میں یہ واقعہ بلا انقطاع بیان ہو رہا ہے، اُن میں سے کسی نے اِس کی تردید کیوں نہیں کی؟ یہ کوئی ایسی خبر نہیں تھی، جو بند کمروں میں چند لوگوں کے سامنے بیان ہو رہی تھی اور سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہو رہی تھی۔ ہر گز نہیں، یہ تو اعلانِ عام تھا، جو قرآن کے ذریعے سے گلیوں کوچوں میں دن رات نشر ہورہا تھا۔ سننے والوں میں نصاریٰ بھی تھے، یہود بھی تھے، مشرکین بھی تھے۔ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اُن کا کوئی مصنف، کوئی شاعر، کوئی مورخ اِس زبان زدِ عام خبر کی تردید کر دیتا، جو بعد ازاں تاریخی دستاویز کے طور پر اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی۔
رابعاً، مسلمانوں کے حوالے سے بھی دیکھیے تو یہ کوئی ایسی خبر نہ تھی کہ جس کا تعلق عقیدہ و ایمان یا زندگی بعد الموت سے ہو اور جسے اُس زمانے کے اہل ایمان کو فقط اِس بنا پر قبول کر نا پڑتا ہو کہ یہ قرآن میں مذکور ہے۔ اِس کے بجاے یہ ایک حسی واقعہ تھا۔ تو کیا ابتدائی صدی کے مسلمانوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا پیدا نہیں ہوا،جو اِس کے وقوع کی تردید کرے اور قرآن کے الفاظ کی کوئی مختلف تاویل کرنے کی کوشش کرے؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو اِس کا مطلب ہے کہ یہ قرآن کی مصدقہ خبر تھی، جسے صحابہ اور تابعین نے اپنے اجماع و تواتر سے آگے منتقل کیا۔ اِس لیے اِس خبرِ متواتر کا انکار ایک بدیہی امر کا انکار ہے۔
خامساً، مزید یہ کہ یہ خبربخاری و مسلم جیسے مستند ترین تاریخی ماخذوں میں نقل ہوئی اور اِس کے بیان کرنے والوں میں وہ لوگ ہیں، جن کی ثقاہت ہر شک و شبہے سے پاک ہے۔ اُن میں سے بعض اِس کے عینی شاہدین بھی ہیں۔ اِس لیے یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ تاریخ اِس کے بارے میں خاموش ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس تاریخ کو اِس کے بارے میں بولنا چاہیے، وہ ببانگِ دہل اِس کا اعلان کر رہی ہے۔ مذکورہ اعتراض کے جواب میں ہمارے اہل علم نے بھی اپنے اپنے انداز سے دلائل پیش کیے ہیں۔ اُن میں سے چند اقتباسات درجِ ذیل ہیں۔
تاریخ و سیرت کے محقق سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
’’سوال یہ ہے کہ ایک ملک کا مشہور واقعہ جو دوسرے ملک کی معاصر تاریخوں میں مذکور نہ ہو۔ صرف اُس کا یہ عدم ذکر کیا اُس کے انکار کی سند ہو سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو ہندوؤں کی مہابھارت کا تم انکار کر سکتے ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے تمام معجزات، بلکہ واقعاتِ زندگی تک کا انکار کر سکتے ہو کہ شام و مصر کے معاصر رومی مورخوں نے ایسے عجیب و غریب واقعات کا ایک حرف بھی قلم بند نہیں کیا۔ اِس کے برخلاف ابھی اوپر کی روایتوں میں بیان کیا جا چکا ہے کہ عرب و شام سے آنے والے مسافروں نے یہ بیان کیا کہ اُنھوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے۔‘‘(سیرت النبی 3/ 311)
اُنھوں نے مزید لکھا ہے:
’’اللہ نے یہ نشانی اہل مکہ کے لیے ظاہر کی تھی اور اُنھی کے لیے یہ آئینۂ ثبوت تھی۔ اِس لیے تمام دنیا میں اِس کے ظہور اور رؤیت کی حاجت نہ تھی۔اِس بنا پر بالفرض اگر دنیا کے دوسرے حصوں میں شق قمر مشاہدہ نہ ہوا ہو تو یہ حیرت اور تعجب کی بات نہیں۔ بلکہ اہل مکہ کے علاوہ اور لوگوں کو دوسرے شہروں اور ملکوں میں اِس کا نظر نہ آنا ہی مصلحت الٰہی تھی کہ اگر یہ عام طور سے دوسرے اقطاع عالم کے لوگوں کو بھی نظر آتا تو یہ سمجھا جا سکتا کہ یہ آسمان کے طبعی انقلاب میں سے کوئی انقلاب تھا، جیسا کہ اور سینکڑوں قسم کے تغیرات اِس سے پہلے ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ فلکیات اور علم بدءخلق (کسموگریفی اور نیچرل ہسٹری) میں مذکور ہے۔ لیکن جب اہل مکہ کے علاوہ جو شہر میں تھے یا باہر قافلہ میں تھے صرف اُنھی کو نظر آیا، تو اِس بات کی صاف اور صریح دلیل ہے کہ یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نشان کے طور پر ظاہر ہوا۔ وللہ الحمد۔‘‘
(سیرت النبی 3/ 312)
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اِس اعتراض پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’(یہ اعتراض)اِس لیے بے وزن ہے کہ یہ واقعہ اچانک بس ایک لحظہ کے لیے پیش آیا تھا۔ ضروری نہیں تھا کہ اِس خاص لمحے میں دنیا بھر کی نگاہیں چاند کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ اِس سے کوئی دھماکا نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کی توجہ اِس کی طرف منعطف ہوتی۔ پہلے سے کوئی اطلاع اِس کی نہ تھی کہ لوگ اِس کے منتظر ہو کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوتے۔ پورے روے زمین پر اِسے دیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا، بلکہ صرف عرب اور اُس کے مشرقی جانب کے ممالک ہی میں اُس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔ تاریخ نگاری کا ذوق اور فن بھی اُس وقت تک اتنا ترقی یافتہ نہ تھا کہ مشرقی ممالک میں جن لوگوں نے اِسے دیکھا ہوتا،وہ اِسے ثبت کر لیتے اور کسی مورخ کے پاس یہ شہادتیں جمع ہوتیں اور وہ تاریخ کی کسی کتاب میں اِن کو درج کر لیتا۔ تا ہم، مالابار کی تاریخوں میں یہ ذکر آیا ہے کہ اُس رات وہاں کے ایک راجہ نے یہ منظر دیکھا تھا۔ رہیں علم نجوم کی کتابیں اور جنتریاں، تو اُن میں اِس کا ذکر آنا صرف اِس حالت میں ضروری تھا،جب کہ چاند کی رفتار، اور اُس کی گردش کے راستے، اور اُس کے طلوع و غروب کے اوقات میں اِس سے کوئی فرق واقع ہوا ہوتا۔ یہ صورت چونکہ پیش نہیں آئی، اِس لیے قدیم زمانے کے اہل تنجیم کی توجہ اِس کی طرف منعطف نہیں ہوئی۔ اِس زمانے میں رصد گاہیں اِس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعہ کا نوٹس لیتیں اور اُس کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیتیں۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/ 230- 231)
مولانا امین احسن اصلاحی نے اِس اعتراض کا نہایت مسکت جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اِس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اِس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین اور دوسرے کُرّوں میں اِس طرح کی شکست و ریخت اور اُن کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں،جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں، لیکن پہلے زمانہ میں اِن کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اِس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور رصد گاہیں وجود میں آ گئی ہیں، اِس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اُس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کر دیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اُس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے، اِس وجہ سے اُس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے، اِس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 8/ 92)
____________