ضمیمہ 3

شق قمر پر  ماہرین فلکیات اور سائنس کی خاموشی 

ایک اعتراض کا جواب

شق قمر کے وقوع پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ علم فلکیات سے متعلق ہے، مگر نہ اِسے زمانۂ رسالت کے ماہرین فلکیات نے بیان کیا ہے اور نہ دورِ حاضر کی رصد گاہوں اور سائنسی آلات نے اِس کی تصدیق کی ہے۔ لہٰذا یہ واقعہ علمی لحاظ سے ثابت نہیں ہے۔

ہمارے نزدیک یہ اعتراض درجِ ذیل وجوہ سے درست نہیں ہے۔

اولاً، اِس بات کے شواہد دستیاب نہیں ہیں کہ زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں ایسے لوگ موجود تھے، جو اِس طرح کے علوم و فنون میں دل چسپی اور مہارت رکھتے ہوں۔ اگر کسی خطے میں ایک علم و فن کے ماہرین موجود نہ ہوں تو وہاں اِس سے متعلق اطلاعات کے محفوظ رہنے اور آگے منتقل ہونے کی توقع غیر حقیقی ہے۔

ثانیاً، قرآن و حدیث میں واقعے کے بیان سے واضح ہے کہ اِس کے نتیجے میں چاند کی گردش پر کوئی اثر واقع نہیں ہوا تھا۔ اگر چاند کی گردش رکتی تو اُس کی رفتار کا حساب رکھنے والے منجمین، ممکن ہےکہ اِس امر کی طرف متوجہ ہوتے۔ اُس صورت میں بھی یہ سوال بہرحال قائم رہتا ہے  کہ آیاوہ یہ مہارت رکھتے تھے کہ چاند کی گردشِ محوری اور گردشِ دوری میں لحظہ بھر کے تعطل کو متعین کر سکیں؟

ثالثًا، اِس اعتراض پر اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا واقعے کے وقوع سے تا دم تحریر کسی ماہر فلکیات نے، کسی رصد گاہ نے، کسی سائنس دان نے یا کسی تحقیقی  ادارے نے شق قمر کے واقعے کی تحقیق کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے؟ ہمارے علم کی حد تک اِس کا جواب نفی میں ہے۔عین ممکن ہے کہ چاند پر جا کر اِس کی گہری تحقیق کی جائے تو اِس کے شق ہونے کے آثار دستیاب ہو جائیں۔

رابعاً، یہ بھی ممکن ہے کہ شق ہونے کے بعد جب دونوں ٹکڑے دوبارہ جڑے ہوں تو پہلی حالت کے عین مطابق بہ تمام و کمال جڑ گئے ہوں۔ یعنی شکست و ریخت کا معمولی شائبہ بھی باقی نہ رہا ہو۔ بالکل اُسی طرح جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار پرندے ذبح کر کے الگ الگ پہاڑوں پر رکھے اور پھر اُنھیں پکارا تو وہ اللہ کے حکم سے اُسی حالت میں واپس آ گئے، جیسے ذبح ہونے سے پہلے تھے۔ یہ واقعہ سورۂ بقرہ میں نقل ہوا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ وَاعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ . (2: 260)

’’اور (اِس سلسلے میں) وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم نے کہا تھا کہ پروردگار، مجھے دکھا دیں کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟ فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ عرض کیا: ایمان تو رکھتا ہوں، لیکن خواہش ہے کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہو جائے۔ فرمایا: اچھا، تو چار پرندے لو، پھر اُن کو اپنے ساتھ ہلا لو، پھر (اُن کو ذبح کر کے) ہر پہاڑی پر اُن میں سے ایک ایک کو رکھ دو، پھر اُنھیں پکارو، وہ (زندہ ہو کر) دوڑتے ہوئے تمھارے پاس آ جائیں گے، اور (آیندہ کے لیے) خوب سمجھ لو کہ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

ہمارے اہل علم نے بھی اِس اعتراض پر سیر حاصل کلام کیا ہے۔

سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

’’حوادث فلکی کے حدوث اور وقوع میں بڑی چیز یہ ہے کہ اُس کا مشاہدہ مطالع اور مغارب پر موقوف ہے اور ہر جگہ کے مطالع و مغارب دوسری جگہ سے نہایت مختلف ہیں۔ بلکہ بالخصوص قمر کے مطالع میں تو اور بھی سخت اختلاف ہے اور ایک جگہ چاند ڈوبتا ہے دوسری جگہ نکلتا ہے، ایک جگہ چاندنی ہے دوسری جگہ اندھیرا ہوتا ہے، ایک جگہ چاند کو گہن لگتا ہے اور دوسرے مقامات کے لوگوں کو وہ نظر تک نہیں آتا۔ اِس لیے اگر تمام دنیا نے اِس معجزہ کو نہیں دیکھا تو یہ شق قمر کی نفی کی دلیل نہیں۔ چنانچہ دنیا کی مختلف باخبر قوموں نے اپنی اپنی کتابوں میں مختلف حوادث فلکی کا ذکر کیا ہے، لیکن جس واقعہ کو ایک نے بڑے شد ومد سے بیان کیا ہے، اُس کی معاصر قوموں کی کتابیں اُس کی شہادت سے قطعاً خالی ہیں۔ لیکن کیا یہ خاموشی اُس کے عدم وقوع کی سند ہو سکتی ہے؟ علاوہ اور وجوہ کے اِس خاموشی اور اختلاف کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ تمام دنیا کا ایک مطلع نہیں ہے۔ اِس لیے ایک چیز ایک جگہ نظر آتی ہے، دوسری جگہ نہیں آتی۔ ‘‘ (سیرت النبی 3/312)

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اُن کی بنا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرّہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اُس زبردست انفجار سے اُس کے دو ٹکڑے دور تک چلے جائیں، اور پھر اپنے مرکز کی مقناطیسی قوت کے سبب سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ آ ملیں۔

...رہیں علم نجوم کی کتابیں اور جنتریاں، تو اُن میں اِس کا ذکر آنا صرف اُس حالت میں ضروری تھا، جب کہ چاند کی رفتار، اور اُس کی گردش کے راستے، اور اُس کے طلوع و غروب کے اوقات میں اِس سے کوئی فرق واقع ہوا ہوتا۔ یہ صورت چونکہ پیش نہیں آئی، اِس لیے قدیم زمانے کے اہل تنجیم کی توجہ اِس کی طرف منعطف نہیں ہوئی۔ اُس زمانے میں رصد گاہیں اِس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعہ کا نوٹس لیتیں اور اُس کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیتیں۔‘‘(تفہیم القرآن 5/ 230- 231)

مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

’’ہو سکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہو جائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا، لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اِس طرح کے کتنے انکشافات ہیں، جو ہمارے کرۂ ارض سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ اُن کو باور کر رہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اِس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے؟ سائنس نے اگر ابھی اِس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اُس کی نارسائی کی دلیل ہے۔ انتظار اور صبر کیجیے، شاید مستقبل میں وہ بھی اِس کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔‘‘(تدبر قرآن 8/ 92)

____________