ضمیمہ 4

لفظ ’آیۃ‘ 

کے مختلف مصداقات

ایک اشکال کی وضاحت

اِس تالیف کا ابتدائی باب ’’ ’ آیۃ‘ کا مفہوم و مصداق ‘‘ کے زیرِ عنوان ہے۔ اُس میں بیان ہوا ہے کہ ’ آیۃ‘ کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ بہ طورِ اصطلاح آیا ہے اور چار مختلف اطلاقات کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کسی مقام پر اِن چار اطلاقات میں سے کون سا اطلاق صادق آتا ہے،اِس کا تعین کلام کرتا ہے۔اِس بات پر بادی النظر میں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لفظ چار مختلف مصداقات کا حامل ہو، وہ چاروں ایک ہی کلام میں استعمال ہوئے ہوں اور اِن میں تفریق کرنا بھی ممکن ہو؟

ہمارے نزدیک کسی لفظ کا ایک سے زیادہ مفاہیم اور اطلاقات کے لیے استعمال ہو جانا زبان و بیان کا عام اسلوب ہے۔ قرآنِ مجید سے اِس کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اِن میں سے ایک معروف اور عام فہم مثال لفظِ ’’ذکر‘‘  کی ہے۔ یہ لفظ  کئی مفاہیم کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر:

1۔ سورۂ بقرہ میں یہ  یاد کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ بنی اسرائیل کو فرمایا ہے:

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ. (2: 40)

’’(قرآن تمھارے لیے یہی ہدایت لے کر آیاہے، اِس لیے) اے بنی اسرائیل، میری اُس نعمت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔‘‘

2۔ سورۂ مائدہ میں یہی لفظ زبان سے نام لینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے:

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَ مَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ ۫.

’’وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو: تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے شکار پر دوڑانے کے لیے سدھا لیا ہے، جنھیں تم اُس علم میں سے کچھ سکھا کر سدھاتے ہو، جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے، (اُن کا کیا ہوا شکار بھی حلال ہے)۔

 فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَکۡنَ عَلَیۡکُمۡ وَ اذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ۪ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ. (5: 4)

 اِس لیے جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں، اُس میں سے کھاؤ اور (جانور کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے) اُس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘

3۔ آلِ عمران میں  یہ لفظ اِس طرح آیا ہے کہ دل کی یاد اور زبان کا اظہار، دونوں کو شامل ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ. الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ....

(3: 191-190)

’’(یہ عقل کے اندھے ہیں، اِس لیے پیغمبر پر ایمان کے لیے نشانی مانگتے ہیں، ورنہ) حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کے بنانے میں اور دن اور رات کے باری باری آنے میں اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو بصیرت والے ہیں۔ اُن کے لیے جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے اور زمین اور آسمانوں کی خِلقت میں غور کرتے رہتے ہیں...۔‘‘

4۔ سورۂ انبیاء میں یہ کسی کے بارے میں عام ذکر کرنے یا بات کرنے کےمعنی میں مذکورہے:

قَالُوۡا مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ. قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ. (21:60-59)

’’(اُنھوں نے آ کر بتوں کی یہ حالت دیکھی تو) کہنے لگے: ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے؟ یقیناً وہ بڑا ہی ظالم ہے۔لوگوں نے بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان کو اِنھیں کچھ برا کہتے ہوئے سنا تھا، جس کو ابراہیم پکارتے ہیں۔‘‘

5۔ سورۂ احزاب میں بیان کرنے اور چرچا کرنے کے مفہوم میں آیا ہے:

وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕاِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا.(33:34)

’’اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

6۔ سورۂ مائدہ میں یہ لفظ یاددہانی کے معنوں میں استعمال ہواہے:

وَ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤی اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَہُمۡ فَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ....(5 :14)

’’اِسی طرح ہم نے اُن سے بھی عہد لیا تھا،جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔پھر جس چیز کے ذریعے سے اُنھیں یاددہانی کی گئی، اُس کا ایک حصہ وہ بھی بھلا بیٹھے...۔‘‘

____________