وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا.(الفرقان 25: 72)
’’ اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں، جو کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور جب کسی بے ہودہ چیز پر اُن کا گزر ہوتا ہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔‘‘
بعض مفسرین نے اِس آیت کے لفظ ’الزُّوْر ‘سے مراد غنا لیا ہے اور اِس بنا پر موسیقی کو باطل قرار دیا ہے۔ یہ راے تفسیری روایات میں منقول مجاہد اور محمد بن حنفیہ کے اقوال پر مبنی ہے۔ اِن کے مطابق ’زور‘ سے مراد غنا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے حوالے سے بھی ابوبکر جصاص نے اِس کے معنی غنا ہی نقل کیے ہیں:
قوله تعالى: ’وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ‘ عن أبي حنيفة الزور الغنا. . . قال أبو بكر يحتمل أن يريد به الغنا على ما تأولوه عليه ويحتمل أيضًا. ( احکام القرآن 3/448)
’’امام ابو حنیفہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ‘ میں ’الزور‘ (جھوٹ) کی تفسیر ’’گانا‘‘ (غنا) سے کی ہے۔ … ابو بکر نے کہا: اِس سے مراد گانا بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے۔‘‘
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزیک ’الزُّوْر‘ کے معروف اور مستعمل معنی باطل اور جھوٹ کے ہیں۔ نہ زبان و بیان کی رو سےاِس کےمعنی غنا ہو سکتے ہیں اور نہ سیاقِ کلام کی روشنی میں اِس سے غنا مراد لیا جا سکتا ہے۔
’’لسان العرب‘‘ میں ہے:
والزور: الکذب والباطل، وقیل: شہادۃ الباطل.
(4/336)
’’’زور‘ کے معنی جھوٹ اور باطل کے ہیں اور باطل گواہی کو بھی ’زور‘ کہا گیا ہے۔‘‘
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
قیل للکذب زور لکونہ مائلًا عن جہتہ، قال : ظلمًا وزورًا.
(المفردات فی غریب القرآن217)
’’(’زور‘کا معنی ہے منحرف ہونا) اور جھوٹ کے لیے ’زور‘ کا لفظ اِس لیے استعمال ہوتا ہے کہ جھوٹی بات بھی راہ ِ حق سے منحرف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (کفار کا دعویٰ) ظلم اور جھوٹ ہے۔‘‘
سورۂ فرقان کی اِس آیت کو اُس کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ اُن کے ذیل میں جہاں فروتنی،عبادت گزاری، عمل صالح اور توبہ و انابت کے اوصاف بیان کیے ہیں، وہاں یہ وصف بھی بیان کیا ہے کہ وہ کسی جھوٹ اور باطل میں شریک نہیں ہوتے اور لغویات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’’زور ‘ کذب و باطل کو کہتے ہیں اور ’لغو‘ سے مراد وہ باتیں اور کام ہیں ،جو ثقہ و سنجیدہ لوگوں کے شایانِ شان نہ ہوں ۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے کسی باطل کام میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز کے پاس سے گزرنا ہی پڑ جائے تو نہایت وقار و شرافت سے وہاں سے گزر جاتے ہیں، جس طرح ایک گندی جگہ سے ایک صفائی پسند آدمی گزر جاتا ہے۔ سورۂ قصص کی آیت 55میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے :
وَاِذَا سَمِعُوْا اللَّغْوَاَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ .
’’اور جب وہ لغو باتیں سنتے ہیں تو اُن سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے ساتھ تمھارے اعمال ، ہمارا سلام لو، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔‘‘ ‘‘ (تدبرقرآن 5/489)
یہاں واضح رہے کہ اگر کسی جائز چیز میں باطل کو داخل کر لیا جائے تو اُس کے نتیجے میں وہ جائز چیز باطل قرار پا سکتی ہے۔ یعنی اگر تجارت میں دھوکا شامل ہو جائے، مال میں خیانت داخل ہو جائے، غذا کو غیراللہ سے منسوب کیا جائے تو یہ چیزیں باطل سے آلودہ ہو جائیں گی۔ اِسی طرح اگر کوئی شاعری شرک پر مبنی ہو یا کوئی موسیقی فحاشی سے مملو ہو تو اُنھیں باطل کے زمرے میں شمار کرنا بالکل درست ہو گا۔ اِسی پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے بعض مفسرین اگرغنا کو ’زور‘ کے دائرے میں شامل سمجھتے ہیں تو اِسے غلط نہیں کہا جائے گا۔ تاہم اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہو گا کہ ’زور‘ کا معنی یا مصداق موسیقی ہے اور اِس بنا پر اُسے حرام ٹھہرانا چاہیے۔ امام ابنِ جریر طبری نے اِس نکتے کو بہت خوبی سے واضح کیا ہے اور سمجھایا ہے کہ ایسے عمومی الفاظ کا مصداق کسی خاص چیز کو بلا قرینہ یا بلا دلیل قرار دینا درست نہیں ہوتا۔ وہ لکھتے ہیں:
قال أبو جعفر(طبری): وأصل الزور تـحسين الشيء، ووصفه بخلاف صفته، حتـى يخيـل إلـى من يسمعه أو يراه، أنه خلاف ما هو به، والشرك قد يدخـل فـي ذلك، لأنه مـحسن لأهله، حتـى قد ظنوا أنه حق، وهو بـاطل، ويدخـل فـيه الغناء، لأنه أيضًا مـما يحسنه ترجيع الصوت، حتـى يستـحلـي سامعه سماعَه، والكذب أيضًا قد يدخـل فـيه، لتـحسين صاحبه إياه، حتـى يظنّ صاحبه أنه حق، فكل ذلك مـما يدخـل فـي معنى الزور. فإذا كان ذلك كذلك، فأولـى الأقوال بـالصواب فـي تأويـله أن يقال: والذين لا يشهدون شيئًا من البـاطل، لا شركًا، ولا غناء، ولا كذبًا ولا غيره، وكل ما لزمه اسم الزور، لأن اللّٰه عم فـي وصفه إياهم، أنهم لا يشهدون الزور، فلا ينبغي أن يخص من ذلك شيء إلا بحجة يجب التسلـيـم لها، من خبر أو عقل.
(تفسیر الطبری 17/ 523)
’’ابو جعفرطبری کی راے ہے: ’زور‘ کا اصل معنی کسی چیز کو بہتر بنا کر پیش کرنا اور اُسے اُس کی حقیقت کے برعکس ظاہر کرنا ہے، مقصد یہ ہوتا ہے کہ سننے یا دیکھنے والے کو یہ محسوس ہو کہ وہ حقیقت ہے، حالاں کہ وہ حقیقت نہیں ہوتی۔ چنانچہ شرک بھی ’زور‘ کے دائرے میں داخل ہے، کیونکہ اُسے اُس کے ماننے والوں کے لیے خوب صورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ باطل ہوتاہے۔ غنا بھی ’زور‘ کے دائرۂ اطلاق میں داخل ہے، کیونکہ آواز کے اتار چڑھاؤ سے وہ خوش نما لگتا ہے، جس سے سننے والا اُس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ جھوٹ بھی ایسی ہی چیزہے، کیونکہ بولنے والا اُسے خوب صورت بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ سننے والا اُسے سچ سمجھ لے۔لہٰذا، اگر یہ سب باتیں ’زور‘ کے مفہوم میں داخل ہیں تو درست بات یہ ہے کہ ’لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ ‘ کا معنی یہ کیا جائے کہ وہ لوگ کسی باطل کی گواہی نہیں دیتے، نہ شرک کی، نہ غنا کی، نہ جھوٹ کی اور نہ کسی اور طرح کے باطل کی۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اِس وصف کو تعمیم کے اسلوب میں ارشاد فرمایا ہے، کسی خاص مصداق کی تخصیص نہیں فرمائی ہے۔چنانچہ جب تک کسی عقلی یا نقلی دلیل سے کسی تخصیص کا تعین نہیں ہو جاتا ، اِس لفظ کو عموم پر محمول کیا جائے گا۔‘‘
یہی پہلو ہے، جس کا لحاظ کرتے ہوئے امام طبری کے علاوہ دیگر جلیل القدر مفسرین نے بھی یہاں غنا یا کسی اور چیز کی تخصیص نہیں کی ہے۔زمخشری، رازی اور آلوسی نے ’زور‘ سے باطل اور کذب ہی مراد لیا ہے اور ’لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ ‘ کے معنی جھوٹی گواہی نہ دینےکے بیان کیےہیں۔ شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ہے: ’’اور وہ جو شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں‘‘۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اِن سے مراد ’’جھوٹی شہادت‘‘ لیا ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد نے لکھا ہے: ’’جو جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے‘‘ ۔اِسی طرح صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِسی عمومی مفہوم کو اختیار کرتے ہوئے اِس کا ترجمہ ’’وہ جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے‘‘ کیا ہے۔ اِن علما میں سے کسی نے بھی اپنی تفسیر میں اِن الفاظ کا مصداق طے کرتے ہوئے غنا یا آلاتِ غناکی تخصیص نہیں کی ہے۔