4۔ ’سٰمِدُوْنَ‘ (غافل ہونے والے)بہ معنی غنا

ہٰذَا نَذِیۡرٌ مِّنَ النُّذُرِ الۡاُوۡلٰی. اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ. لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ. وَ تَضْحَکُوْنَ وَ لَاتَبْکُوْنَ. وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ. فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا. (النجم 53: 62-56)

’’ یہ(قرآنِ مجید) اگلے نذیروں ہی میں سے ایک نذیرہے۔آنے والی آپہنچی۔ اللہ کے سوا اِسے کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔ پھر کیا ہماری اِس بات پر تعجب کرتے ہو؟ ہنستے ہو، روتے نہیں؟ تم (پندار کے نشے میں) غافل پڑے ہو؟ سو (ہوش میں آؤ اور) اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ اور اُس کی بندگی کرو۔‘‘

سورۂ نجم کی اِن آیات سے بھی حرمتِ موسیقی کے لیے استدلال کیا جاتا ہے۔ بناے استدلال ’سٰمِدُوْن‘ کا لفظ ہے۔ چند تفسیری اقوال ، خصوصاً حضرت عبداللہ بن عباس کےقول کی روشنی میں اِسے غنا کے معنی پر محمول کیا گیا ہے۔اِسی بنا پر بعض مفسرین نے اِن سے موسیقی مراد لیا ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کا ترجمہ ’’اور گا بجا کر اُنھیں ٹالتے ہو‘‘ کیا ہے اور اُس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’اصل میں لفظ ’سَا مِدُوْنَ‘ استعمال ہوا ہے، جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ابنِ عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں ’سُمُود‘کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اِس طرف ہے کہ کفارِ مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسرے معنی ابنِ عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ ’السّمود البرْ طَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا، کانوا یمرون علی النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم غضابا مبرطمین‘۔ یعنی ’سُمود‘تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں، کفارِ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے جب گزر تے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔‘‘

(تفہیم القرآن 5/ 224)

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک اِس آیت کے مذکورہ الفاظ کو ’غنا‘کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ زبان اور سیاق و سباق، دونوں اِسے قبول کرنے میں مانع ہیں۔

اِس کے لغوی معنی غافل اور بے پروا ہونے کے ہیں۔ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

السامد اللاہي الرافع رأسہ. من قولہم سمد البعیرفی سیرہ. قال: وَأَنْتُمْ سامِدُونَ.

(المفردات فی غریب القرآن241)

’’سامد وہ غافل شخص ہے، جو اپنا سر اونچا رکھے ۔اہل زبان کہتے ہیں : اونٹ نے چلتے ہوئے اپنےسر کو اٹھائے رکھا۔ قرآنِ مجید میں آیا ہے: ’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘، یعنی: اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو ۔‘‘

علامہ زمخشری نے لکھا ہے:

وَأَنْتُمْ سامِدُونَ: شامخون مبرطمون. وقیل: لاھون لاعبون. وقال بعضہم لجاریتہ: اسمدي لنا، أي غني لنا. (الکشاف 4/430)

’’’وَأَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کے معنی مغرور اور غضب ناک ہونے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اِس سے مراد لہو و لعب ہے۔ اور اہل عرب اپنی لونڈی سے یہ بھی کہتے ہیں: ’اسمدی لنا‘،یعنی ہمارے لیے گاؤ۔‘‘

امام رازی کی تفسیرہے:

(وَأَنْتُمْ سامِدُونَ) أي غافلون.

(التفسیر الکبیر29/287)

’’’وَ أَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کے معنی ہیں تم غافل ہو۔‘‘

قرآنِ مجید میں یہ لفظ سورۂ نجم کی اختتامی آیات کا حصہ ہے۔ سورہ کے مطالعے سے واضح ہے کہ یہ آخرت کی جزا و سزا کے اثبات کو بیان کر رہی ہیں ۔ یہ اِس پس منظر میں نازل ہوئی ہیں کہ مشرکین عرب ایک جانب قرآنِ مجید کے الہامی ہونے پر بے سروپا شبہات کا اظہار کررہے تھے اور دوسری جانب اپنے کاہنوں اور نجومیوں کی خرافات کو بے سوچے سمجھے مان رہے تھے۔چنانچہ سورہ کی تمہیدمیں مخاطبین سے یہ کہا ہے کہ قرآنِ مجید ایساکلام نہیں ہے، جیسا تمھارے کاہن اور نجومی پیش کرتے ہیں۔یہ وحی الٰہی ہے، اِس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ لہٰذا اِس پر نکتہ چینی کرنے کے بجاے اِسے شرحِ صدر سے قبول کرو۔ خاتمۂ سورہ میں بھی اِسی بات کی تذکیر و تنبیہ کی ہے اور فرمایا ہے کہ قیامت تمھارے بالکل قریب ہے اور تم اُس سے غافل ہوکر مذاق میں پڑے ہوئے ہو، دراں حالیکہ یہ ہنسنے کا نہیں، بلکہ رونے کا مقام ہے۔

اِس سیاق و سباق میں ’سٰمِدُوْنَ ‘ کے معنی غافل ہونے، مدہوش ہونے، بے اعتنائی برتنے کے ہیں، اِن کے علاوہ یہاں کوئی اور معنی نہیں لیے جا سکتے۔ چنانچہ استاذِ گرامی نے ’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کا ترجمہ ’’تم (پندار کے نشے میں) غافل پڑے ہو‘‘ کیا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’اِن کے حال پر اظہارِ تعجب ہے کہ جو کتاب تمھیں اتنے بڑے عذاب کے قرب کی خبر دے رہی ہے، تم اُس کے انداز پر تعجب کر رہے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کدھر سے اور کیوں آ جائے گا ! آگاہ ہو جاؤ کہ یہ چیز ہنسنے اور مذاق اڑانے کی نہیں ، بلکہ رونے اور سر پیٹنے کی ہے ، لیکن تم رونے کی جگہ اِس پر ہنس رہے ہو!

’سمد‘ اور ’سمود‘ کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں ۔ یعنی یہ کتاب تو تمھیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے ، لیکن تم غفلت کے بستروں پر پڑے سو رہے ہو ۔ خیریت چاہتے ہو تو جاگو اور دوسرے دیویوں اور دیوتاؤں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ کرو اور اُسی کی بندگی کرو ۔ اُس کے سوا کوئی اور اِس آفت سے نجات دینے والا نہیں بنے گا۔‘‘

(تدبرقرآن 8/80)

امام ابنِ جریر طبری نے اگرچہ حضرت ابن عباس کے مذکورہ قول کو نقل کیا ہے، مگر خود اِس سے مراد وہ لوگ لیے ہیں، جو غفلت میں پڑے ہیں اور قرآن سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی تفسیر ’’جامع البیان‘‘ میں ہے:

وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ. يقول: وأنتم لاهون عما فيه من العبر والذكر، معرضون عن آياته.

( 22/ 96)

’’’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کا مطلب ہے: تم لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہو، اُن باتوں سے دھیان ہٹائے ہوئے ہو، جن میں عبرت اور نصیحت ہےاور اللہ کی آیات سے منہ موڑے ہوئے ہو۔‘‘

امام قرطبی کا درجِ ذیل اقتباس حضرت ابنِ عباس کے قول کی تفہیم میں اہمیت کا حامل ہے۔ اُنھوں نے پہلے ’سٰمِدُوْنَ‘ کا معنی غافل اور منہ موڑنے والے کیا ہے۔ پھر حضرت ابنِ عباس کا قول نقل کر کے یہ واضح کیا ہے کہ لوگوں کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا تو وہ اُس سے اعراض کرنے کے لیے گانے بجانے اور کھیل کود میں مشغول ہو جاتے۔ لکھتے ہیں:

(وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ) أي لاهون معرضون. عنِ ابن عباس، رواه الوالبي والعوفي عنه. وقال عكرمة عنه: هو الغناء بلغة حمير، يقال: سمِد لنا أي غنِ لنا، فكانوا إذا سمعوا القرآن يتلى تغنوا ولعبوا حتى لا يسمعوا.

( الجامع لاحکام القرآن 17/ 123)

’’’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ یعنی: تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو اور منہ موڑنے والے ہو۔ یہ تفسیر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جسے والبی اور عوفی نے اُن سے روایت کیا ہے۔اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ’سٰمِدُوْن‘ کا مطلب گانا بجانا ہے، (یمن کے ایک قبیلے) حمیر کی زبان میں ’سمد لنا‘ کا مطلب ہوتا ہے: ’’ہمارے لیے گاؤ‘‘۔چنانچہ جب لوگ قرآن کی تلاوت سنتے تو یہ گانے اور کھیل میں مشغول ہو جاتے تاکہ وہ قرآن کو نہ سن سکیں۔‘‘

بیش تراردو مترجمین اور مفسرین نے اِن الفاظ کو غنا اور موسیقی کے مفہوم میں نہیں لیا۔ شاہ عبدالقادر نے اِس کے معنی ’’اور تم کھلاڑیاں کرتے ہو‘‘ کیے ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے اِس کا ترجمہ ’’اور تم متکبرانہ انداز میں گزر جاتے ہو‘‘ کیا ہے۔مولانا شبیر احمد عثمانی نے اِن سے مراد ’’کفار کی ہنسی‘‘ لیا ہے اور اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:’’یعنی قیامت اور اُس کے قرب کا ذکر سن کر چاہیے تھا کہ خوفِ خدا سے رونے لگتے اور گھبرا کر اپنے بچاؤ کی تیاری کرتے۔ مگر تم اِس کے برخلاف تعجب کرتے اور ہنستے ہواور غافل و بے فکر ہو کر کھلاڑیاں کرتے ہو۔‘‘

اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو گئی ہے کہ سورۂ نجم کے لفظ ’سٰمِدُوْنَ ‘ کا معنی گانا گانے والے نہیں کیا جا سکتا۔ زبان و بیان اور سیاقِ کلام میں اِس کی گنجایش نہیں ہے۔ تاہم، برسبیل تنزل اگر یہاں گانا بجانا مراد لے لیا جائے، تب بھی اِس سے حرمتِ غنا کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ‘ کے الفاظ یہاں ’ھٰذَا الْحَدِیْثِ‘، یعنی’’اللہ کی بات‘‘ کے الفاظ کے تقابل میں آئے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ یا کلام الٰہی کے مقابلے میں اگر کوئی جائزکام بھی کیا جائے تو وہ ناجائز قرار پائے گا۔ یعنی اگر قرآن سنایا جا رہا ہو اور مخاطبین اُسے سننے کے بجاے کھیل کود میں، کھانے پینے میں، کام کاج میں مشغول ہو جائیں تو یہ حد درجہ سوءِ ادب ہو گا، جسے گوارا نہیں کیا جائے گا۔ اِس بات کو سورۂ جمعہ میں مذکورخرید و فروخت اور تجارت چھوڑ دینے کےحکم سے سمجھنا چاہیے۔ اِن چیزوں کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، لیکن اگر یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کو چھوڑ کر کیے جائیں گے تو قابلِ مذمت قرار پائیں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ. ...وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ.

( 62: 11-9)

’’ایمان والو، (پیغمبر کی قدر پہچانو اور) جمعہ کے دن جب (اُس کی طرف سے) نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانو۔ .. .. اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشے کی چیز دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تمھیں کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ اِن سے کہو: جو اللہ کے پاس ہے، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس تنبیہ کے پس منظر کے حوالے سے منقول روایات کا ذکر کیا ہے اور تنبیہ کی نوعیت کو پوری صراحت سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ ...روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ، عین خطبۂ جمعہ کے وقت مدینہ میں داخل ہوا۔ اُس نے اعلان و اشتہار کے لیے، رواج کے مطابق، اپنے ڈھول اور دف جو بجائے تو کچھ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اُس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اِس طرح کے قافلے اُس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ضروری چیزوں کی خرید و فروخت اُنھی کے ذریعہ سے ہوتی، اِس وجہ سے لوگوں کو اُن کا انتظار رہتا اور جب وہ آتے تو ہر شخص اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے اور اپنا مال فروخت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا، ظاہر ہے کہ اُن پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح چڑھا نہیں تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبۂ جمعہ کی اہمیت سے بھی اچھی طرح واقف نہیں تھے۔ اُن کے نزدیک اہمیت صرف نماز ہی کی تھی۔ اُنھوں نے خیال کیا ہو گا کہ نماز سے پہلے پہلے قافلہ کو دیکھ کر واپس آ جائیں گے۔ بہرحال اُن سے جو غلطی ہوئی ،اُس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ، خطبۂ جمعہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایسی ہدایات نازل ہو گئیں، جو اُس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔ آیت میں بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے، لیکن یہ امر واضح رہے کہ یہ فعل، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صادر کچھ ناتربیت یافتہ لوگوں ہی سے ہوا۔ قرآن کا عام اندازِ موعظت یہی ہے کہ وہ تعین کے ساتھ ملامت کرنے کے بجاے عام الفاظ ہی میں تنبیہ کرتا ہے تاکہ جماعت کا ہر شخص اُس سے فائدہ اٹھائے اور کسی خاص گروہ کو اُس سے رسوائی کا احساس نہ ہو۔ ’تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا‘ سے اِس واقعہ کی سنگینی کا ایک خاص پہلو یہ واضح ہوتا ہے کہ خطبہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے۔ حضور کے خطبہ کو اِس طرح چھوڑ کر چل دینے میں سوءِ ادب اور دین کی ناقدری کے جو پہلو مضمر ہیں، وہ نہایت اہم ہیں۔ یہ بعینہٖ وہی روش ہے، جو یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اختیار کی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے اُن کے دل، جیسا کہ سورۂ صف میں بیان ہوا ہے، کج کر دیے۔ اِس وجہ سے قرآن نے اُن پر پہلے ہی مرحلہ میں گرفت فرمائی۔‘‘

(تدبر قرآن 8/ 387)

____________