مزید فرمایا ہے: ’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی)۔ یعنی زینت کی یہ چیزیں آخرت میں صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہوں گی۔ پوری بات کا مطلب یہ ہے کہ مختلف نعمتوں کی صورت میں زینت کی چیزیں اصلاً اہل ایمان کا حق ہیں۔ دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ نے اِن میں منکرین کو بھی شریک کر دیا ہے، مگر یومِ آخرت کے بعد یہ پوری طرح مومنوں کے لیے خاص ہو جائیں گی۔ استاذِ گرامی نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’... اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا نہ ایمان کے منافی ہے، نہ دین داری کے، نہ تقویٰ کے۔ اللہ نے تو یہ چیزیں پیدا ہی اہل ایمان کے لیے کی ہیں، لہٰذا اصلاً اُنھی کا حق ہیں۔ اُس کے منکروں کو تو یہ اُن کے طفیل اور اُس مہلت کی وجہ سے ملتی ہیں، جو دنیا کی آزمایش کے لیے اُنھیں دی گئی ہے۔ چنانچہ آخرت میں یہ تمام تر اہل ایمان کے لیے خاص ہوں گی، منکروں کے لیے اِن میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، وہ ہمیشہ کے لیے اِن سے محروم کر دیے جائیں گے۔ قرآن کا یہ اعلان، اگر غور کیجیے تو ایک حیرت انگیز اعلان ہے۔ عام مذہبی تصورات اور صوفیانہ مذاہب کی تعلیمات کے برخلاف قرآن دینی زندگی کا ایک بالکل ہی دوسرا تصور پیش کرتا ہے۔ تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کے لیے دنیا کی زینتوں سے دستِ برداری کی تلقین کے بجاے وہ ایمان والوں کو ترغیب دیتا ہے کہ اسراف و تبذیر سے بچ کر اور حدود الٰہی کے اندر رہ کر زینت کی سب چیزیں وہ بغیر کسی تردد کے استعمال کریں اور خدا کی اِن نعمتوں پر اُس کا شکر بجا لائیں۔‘‘ (البیان 2/ 148- 149)