احادیث میں غنا اور موسیقی کی حلت

قرآنِ مجید کے حوالے سے پیش کیے گئےگذشتہ مباحث سے درجِ ذیل نکات متعین ہوتے ہیں :

زینتیں اللہ کی تخلیق ہیں۔

اللہ نے اِنھیں اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے۔

دنیا اور آخرت، دونوں میں اِن کی نوعیت اللہ کی نعمتوں کی ہے۔

لہٰذایہ اصلاً پاکیزہ ہیں اورحلال ہیں۔

موسیقی آواز کی زینت ہے، اُسی طرح جیسے شاعری کلام کی زینت ہے۔

چنانچہ قرآن میں مذکور زینتوں کی حلت کا حکم دیگر زینتوں کے ساتھ غنا اور موسیقی کی زینت کو بھی شامل ہے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایتوں سے بھی یہ بات پوری طرح مبرہن ہو جاتی کہ غنا اور موسیقی حلال ہیں، شریعت نے اِنھیں ہر گز حرام قرار نہیں دیا ہے۔ ذیل میں اِس موضوع کی نمایندہ روایتیں درج ہیں۔اِنھیں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے مجموعۂ حدیث ’’علم النبی‘‘ کے باب ’’غنا اور موسیقی‘‘ سے نقل کیا ہے۔ اِن کی شرح و وضاحت میں موسیقی کے جواز پر استدلال نمایاں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے فقہا عموماً اِس کے عدم جواز کے قائل ہیں اور اِسے علی الاطلاق حرام قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ اِس تناظر کا لحاظ کرتے ہوئے روایتوں کی توضیح کی گئی ہے۔