عن أبي هريرة ، أنه سمع النبي صلى اللّٰه عليه و سلم يقول: ما أذن اللّٰه سبحانه وتعالى لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت ]يتغني[ بالقرآن يجهر به.(بخاری، رقم7544)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کا کوئی نبی خوش الحانی کےساتھ اور بلند آواز سے قرآن پڑھے تو اللہ تعالیٰ جس توجہ سے اُس کو سنتا ہے، کسی چیز کو اُتنی توجہ سے نہیں سنتا۔‘‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اِس روایت میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا نبی جب قرآن کو غنا سے پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی قراءت کو بہت توجہ سے سنتے ہیں۔ روایت میں اِس کے لیے ’حسنِ الصوت بالقرآن‘ کے الفاظ آئے ہیں۔حسن صوت یہ ہے کہ کسی کلام کو پڑھتے ہوئے آواز کو خوب صورت بنایا جائے اور اِس مقصد کے لیے لَے، لحن اور ترنم کو اختیار کیا جائے۔ اِسی کو غنا کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ صحيح مسلم، رقم793 کے طریق میں ’حسن الصوت‘ کی جگہ ’يتغنى‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں ۔
کلام کو غنا کے ساتھ پڑھا جائے تو اُس کےابلاغ اور تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ لحن و غنا کا سب سے بہتر استعمال یہ ہے کہ اُسے کلام الٰہی کو پڑھنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ کام اگر اُس ہستی سے صادر ہو، جس پر یہ کلام آسمان سے براہِ راست نازل ہوا ہے تو اُس کی رفعت و عظمت بے نہایت ہو گی۔ چنانچہ اللہ نے اُس کے بارے میں اپنی خاص پسندیدگی کا اظہار فرمایاہے۔
اِس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ تلاوتِ قرآن کے لیے لحن اور غنا کے جو قواعد مرتب کیے گئے ہیں، وہ فن موسیقی کے قواعد سے مختلف ہیں۔ اِس کی بڑی وجہ اِس کے اسلوب کی ندرت ہے۔ ’’اِس میں نثر کی سادگی اور ربط و تسلسل ہے، لیکن اِسے نثر نہیں کہا جا سکتا۔ یہ نظم کا غنا، موسیقی اور حسن تناسب اپنے اندر لیے ہوئے ہے،لیکن اِسے نظم بھی نہیں کہہ سکتے۔‘‘ لہٰذا اِس کی قراءت کے لیے آہنگ کے اُن قواعد کو استعمال نہیں کیا جا سکتا، جو عام شاعری کے لیے اختیار کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کی قراءت کے لیے غنا کا ایک مختلف اور منفرد اسلوب وضع کیا گیا ہے۔ یہ اسلوب قراءت کو غنا اور موسیقی کے عام اسالیب سے منفرد اور ممتاز کر دیتا ہے۔ تاہم، اِس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ آواز میں لَے اور لحن کا امتزاج اور لہجے کی شیرینی و لطافت جیسے غنا کے بنیادی لوازم، دونوں فنون میں یکساں طور پر مطلوب ہیں ۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ دونوں فنون غنائیت کی مشترک اساس کے حامل ہیں اور اِس لحاظ سے ایک نوعیت کی مماثلت بہرحال رکھتے ہیں۔