عن نافع، مولى ابن عمر، أن ابن عمر سمع صوت زمارة راع فوضع أصبعيه في أذنيه، [فضرب وجه الناقة،][101] و عدل راحلته عن الطريق، وهو يقول: يا نافع، أتسمع؟ فأقول: نعم، فيمضي حتى [إذا انقطع الصوت،][102] قلت: لا، فوضع يديه، وأعاد راحلته إلى الطريق، وقال: رأيت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسمع صوت زمَارة راع فصنع مثل هذا.
(احمد، رقم4535)
’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے کہ ابنِ عمر نے ایک مرتبہ سفر میں کسی چرواہے کی بانسری کی آوازسنی تو اپنی انگلیاں دونوں کانوں میں ڈال لیں اور اپنی اونٹنی کے چہرے پر ہاتھ مار کر سواری کو دوسری طرف موڑا اور اپنا راستہ بدل لیا ۔ پھر وقفے وقفے سے وہ مجھ سے پوچھتے رہے: نافع، کیا اب بھی وہی آواز سن رہے ہو؟ میں جب ہاں میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے، یہاں تک کہ جب آواز بند ہوگئی اور میں نے کہا: نہیں ، اب کوئی آواز نہیں آ رہی تو اُنھوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لیے اور سواری کو دوبارہ اُسی راستے پر لے آئے، جس پر چل رہے تھے۔ پھر فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو میں نے آپ کو اِسی طرح کرتےدیکھا تھا۔‘‘
اِس روایت سے بھی موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے۔اِس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے راہ چلتے ہوئے بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں سے کان بندکر لیے اور راستہ بدل لیا۔ساتھ ساتھ اپنے ہم راہ حضرت نافع سے پوچھتے رہے کہ کیا ابھی آواز آ رہی ہے یا بند ہو گئی ہے؟ کچھ وقت کے بعد جب نافع نے یہ بتایا کہ اب آواز نہیں آ رہی تو پھر اُنھوں نے اپنے کانوں سے ہاتھ اٹھائے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے نافع کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنا یہ مشاہدہ بیان کیا کہ حضور نے بھی چرواہے کی بانسری کی آواز سن کرایسا ہی کیا تھا ،یعنی کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔
اِس روایت سےبانسری یا دیگر آلاتِ موسیقی کی حرمت کا حکم اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ متعدد روایتوں سے واضح ہے کہ کئی موقعوں پر آپ کے سامنے ساز بجاے گئے، مگر آپ نے نہ کان میں انگلیاں ڈالیں اور نہ ساز بجانے سے منع فرمایا۔ مذکورہ واقعے میں غالب امکان یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اُس وقت کیا ہو گا، جب کسی سفر کے دوران میں بانسری کی آواز آپ کے ذکر اذکار میں مخل ہوئی ہو گی۔ استاذِ گرامی نے اِس روایت کی شرح میں لکھا ہے:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ سفر کے دوران میں سواری پر بیٹھے ہوئے بھی آپ اکثر ذکر وفکر میں مشغول رہتے تھے۔چرواہے کی بانسری کو اِس میں خلل انداز ہوتے دیکھ کر آپ نے کسی موقع پر یقیناً ایسا کیا ہوگا ، مگر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کے لحاظ سے اِس کو بانسری کی آواز سے کراہت پر محمول کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ محض غلط فہمی ہے۔چنانچہ آگے کی روایتوں سے واضح ہو جائے گا کہ بعض موقعوں پر آپ کے سامنے ساز بجاے جاتے رہے اور آپ نے ہرگز اپنی انگلیاں کانوں میں نہیں ڈالیں۔‘‘(علم النبی 444)
یہاں دو باتیں مزید ملحوظ رہنی چاہییں:
ایک یہ کہ روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا سبب مذکور نہیں ہے۔ اِسے نہ ابنِ عمر نے دریافت کیا اور نہ آپ نے واضح فرمایا۔ تاہم، ابنِ عمر نے آپ کے عمل کو غالباً بانسری کی آواز سے کراہت پر محمول کیا اور اُس کی پیروی کو ضروری سمجھا۔
دوسرے یہ کہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کان بند کر لیے، مگر ابنِ عمر کو ایسا کرنے کی ہدایت نہیں فرمائی، بلکہ اِس کے برعکس اُنھیں حکم دیا کہ وہ بانسری کی آواز سنتے رہیں اور بند ہونے پر آپ کو اِس سے آگاہ کریں۔ بعینہٖ یہی طریقہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا۔ یعنی نافع کو کان بند رکھنے کی ترغیب دینے کے بجاے اُنھیں یہ کام سونپ دیا کہ وہ بانسری کی آواز سنتے رہیں، تاوقتیکہ وہ بند ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ یقینی طور پر ناممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر صحابی خود کو ایک ناپسندیدہ کام سے محفوظ رکھیں، مگر اپنے رفیق کو اُسے کرنے پر مامور کریں۔ چنانچہ بانسری کی آواز اگر مکروہ یا حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اُسے سننے سے منع فرماتے اور آپ کی پیروی میں ابنِ عمر بھی یہی طریقہ اختیار کرتے ۔