فرمایا ہے کہ ’ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا‘ (وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں)۔یعنی اللہ نے دنیا میں یہ زینتیں اصلاًاپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اِس ارشادسے دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک یہ کہ اہل ایمان کو اِن کی تمنا کرنی چاہیے اور اِن کے حصول کے لیے تمام جائز طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ اہل ایمان کے لیے پیدا کی گئی ہیں، اِس لیے اِن میں دین و ایمان کے خلاف کسی چیز کی موجودگی کا کوئی تصور نہیں رکھنا چاہیے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’...اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اِس لیے اللہ کا منشا تو بہر حال یہ نہیں ہو سکتا کہ اِنھیں بندوں کے لیے حرام کر دے۔ اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظامِ اخلاق و معاشرت ایسا ہے، جو اِنھیں حرام، یا قابلِ نفرت، یا ارتقاے روحانی میں سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اُس کا یہ فعل خود ہی اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ بھی اُن حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے، جو قرآن نے مذاہبِ باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اِس کو سمجھ لینا قرآن کے طرزِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن 2/ 23)