عن عائشة، قالت: دخل [علي[30]] أبو بكر وعندي جاريتان من جواري الأنصار تغنيان بما تقاولت الأنصار يوم بعاث، [وتدففان، وتضربان[31]] [بدفين، ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجًّى على وجهه الثوب لا يأمرهن ولا ينهاهن،[32]] قالت: وليستا بمغنيتين، فقال أبو بكر: أمزامير الشيطان في بيت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم؟ وذلك في يوم عيد، [فكشف رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجهه[33]]، فقال: ’’[دعهن[34]] يا أبا بكر، إن لكل قوم عيدًا وهذا عيدنا‘‘، [فلما غفل غمزتهما فخرجتا[35]].
(بخاری، رقم 952)
’’سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے۔ اُس موقع پر انصار کی دو لونڈیاں دف بجاتے ہوئے وہ گیت گا رہی تھیں، جو انصار نے جنگِ بعاث کےدن ایک دوسرے کے لیے گائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اپنا چہرہ کپڑے سے ڈھانپے ہوئے آرام فرما رہے تھے، لیکن اُنھیں کچھ کہہ رہے تھے، نہ روک رہے تھے۔ سیدہ کہتی ہیں کہ وہ دونوں لونڈیاں پیشہ ور گانے والی نہیں تھیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا توتعجب سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں موسیقی کےیہ شیطانی آلات؟ اُس دن عید تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی یہ بات سنی تو چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر، اِن بچیوں کو گانے دو۔ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید کا دن ہے۔ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی توجہ دوسری جانب ہوئی تو میں نے لڑکیوں کو اشارہ کیا، چنانچہ وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں۔‘‘
روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے دن دو لونڈیاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دف بجا کر اُنھیں گیت سنانے لگیں ۔ یہ اصل میں وہ ترانے تھے، جو انصار کے دو قبائل ـــــاوس اور خزرج ـــــ نے بعاث کی جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف گائے تھے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم قریب میں آرام فرما رہے تھے۔ چنانچہ آپ لونڈیوں کے آنے اور گیت سنانے سے آگاہ تھے۔
لڑکیوں کے گانے کے دوران میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے۔ اُنھوں نے جب لڑکیوں کو گاتے ہوئے دیکھا تو سیدہ سے مخاطب ہوئے اورتعجب اور خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول کے گھر میں اِن شیطانی سازوں کا بھلاکیا کام! اِس موقع پر اُنھوں نے لڑکیوں کے گانے کو شیطانی ساز سے تعبیر کیا۔
حضرت ابوبکر نےجب لڑکیوں کو گانے سے روکنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور آپ نے اُنھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ اِنھیں گانے دو، کیونکہ آج تو ہماری عید کا دن ہے۔
اِس روایت کے توضیحی نکات درجِ ذیل ہیں:
اولاً، اِس سے واضح ہے کہ غنا اور موسیقی کی ممانعت کا کوئی تصور زمانۂ رسالت میں موجود نہیں تھا۔ اِس کا اگر کوئی اشارہ بھی ہوتا تو نہ گانے والی لونڈیاں بیت النبی میں داخل ہونے کی جسارت کرتیں اور نہ سیدہ عائشہ اُن کا گانا سننے کے لیے آمادہ ہوتیں۔
ثانیاً، حضرت ابوبکر کے یہ الفاظ کہ ’أمزامير الشيطان في بيت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟‘ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں موسیقی کےیہ شیطانی آلات؟) ، ظاہر ہے کہ غنا اور موسیقی کی اُن صورتوں کے حوالے سے تھے، جو شرک اور فواحش سے مملو ہو کر شیطان کے آلات کی وضع اختیار کر لیتی ہیں اور اِس بنا پر ممنوع قرار پاتی ہیں۔ تاہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِ س معاملے میں توازن قائم رکھنے کا درس دیا اور اپنے علم و عمل سےاِس کی اچھی اور بری صورتوں میں فرق کرنے کی ہدایت فرمائی۔ استاذِ گرامی نے سیدنا ابوبکر کے تبصرے کے حوالے سے لکھا ہے:
’’یہ تبصرہ عرب جاہلی میں آلاتِ موسیقی کے اُس استعمال کی رعایت سے ہوا ہے، جو ہم اپنے زمانے میں بھی شب وروز دیکھتے ہیں۔ روایتوں میں جگہ جگہ یہ تعبیر اِسی پہلو کی رعایت سے اختیار کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے واضح کردیا کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی اصلاً ممنوع نہیں ہے۔یہ اِن کا غلط یا صحیح استعمال ہے، جو کبھی ممانعت اور کبھی جواز یا ترغیب کا باعث بن جاتا ہے۔آپ نے اِن کے اچھے اور برے استعمال میں جس فرق کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ، اُس کے بعد، ظاہر ہے کہ سیدنا ابو بکر کی یہ راے نہیں رہی ہوگی۔‘‘ (علم النبی461 )
ثالثًا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی قابل غور ہے کہ ’إن لكل قوم عيدًا وهذا عيدنا‘ (ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید کا دن ہے)۔ یعنی بیت النبی کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اُس میں لہو و لعب کے مشاغل ہوں، مگر عید جیسے خوشی کے موقع پر اگر اہل خانہ نے کچھ ہلکی پھلکی تفریح کا اہتمام کر لیا ہے تو اُس سے روکنا نہیں چاہیے۔
رابعاً، روایت سے اِس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گانے والی لونڈیوں کو گھر میں بلایا اور نہ اُن کا گانا سنا۔ وہ سیدہ کو گیت سناتی رہیں اور آپ دوسری جانب کپڑا اوڑھ کر آرام فرماتے رہے۔ مزید برآں ، راوی نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ گانا سنانے والی لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں۔ اِس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اِس کے بارے میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’اِس وضاحت کی ضرورت غالباً اِس لیے پیش آئی کہ پیشہ ور گانے والیوں کا گھروں میں آکر گانا عرب کی روایات میں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔‘‘ (علم النبی 460)