عن أبي هريرة، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:الجرس مزمار الشيطان.
(احمد، رقم8783)
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی شیطان کا ساز ہے۔‘‘
عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تصحب الملائكة رفقةً فيها كلب أو جرس.
(احمد، رقم7566)
’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں کتا یا گھنٹی ہو، فرشتے اُس کے ہم راہ نہیں ہوتے۔‘‘
وعن أمّ سلمة، زوج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قالت: سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم يقول: لا تدخل الملائكة بيتًا فيه جرس ولا تصحب رفقةً فيها جرس.
(السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم 9483)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جس گھر میں گھنٹی ہو، فرشتے اُس میں داخل نہیں ہوتے اور جس قافلے میں گھنٹی ہو،وہ اُس کے ہم راہ بھی نہیں ہوتے۔‘‘
عن عائشة أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمر بالأجراس أن تقطع من أعناق الإبلِ يوم بدر.
(احمد، رقم25166)
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کو کاٹ دیا جائے۔‘‘
اِن روایتوں سے بھی آلاتِ موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے۔ اِن میں بیان ہوا ہے کہ گھنٹی شیطان کے سازوں میں سے ایک سازہے۔ فرشتے مسافروں کی اُس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے، جس میں گھنٹیاں بج رہی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے موقع پر حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کو کاٹ دیا جائے۔
اِن روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھنٹی سے ناپسندیدگی کے وجوہ بیان نہیں ہوئے۔ اِنھیں اگر دیگر روایتوں کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی جائے تو دومختلف پہلو سامنے آتے ہیں:
1۔گھنٹی کی آواز کے بارے میں ناپسندیدگی کا باعث اُس کا کسی موقع پر تسبیح و تقدیس میں حارج ہونا ہو سکتا ہے۔ یعنی کسی سفر کے دوران میں اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی گھنٹیوں کی مسلسل آواز آپ کی تسبیحات اور مناجات میں مخل ہوئی ہو اور اِس بنا پر آپ نے اِس کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہو۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’آگے اور پیچھے کی روایتیں پیش نظر ہوں تو یہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی کہ یہ غالبًا اُسی موقع پر فرمایا ہے، جب قافلے میں مسلسل بجتی ہوئی گھنٹیوں کی آواز کسی وقت آپ کے ذکر وفکر اور تسبیح و تہلیل میں خلل انداز ہوئی ہے۔ راوی نے اِسے علی الاطلاق بیان کردیا ہے۔لیکن اِس فن کے ناقدین جانتے ہیں کہ روایتوں میں اِس نوعیت کے تصرفات بالعموم ہوجاتے ہیں۔اِن پر متنبہ رہنا چاہیے۔‘‘ (علم النبی 446)
یہی سبب فرشتوں کی ناپسندیدگی کا بھی ہو سکتا ہے۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’... فرشتے ہمہ وقت تسبیح وتقدیس میں مشغول ہوتے ہیں، جب کہ گھنٹی بجنے سے نہیں رکتی اور کتے بھونکنے سے باز نہیں رہتے، لہٰذا اُن کے اِس پاکیزہ شغل میں مسلسل دخل انداز ہوتے رہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلوں میں فرشتوں کی حاضری جیسی کچھ رہتی ہوگی، اُس کے پیشِ نظر اگر آپ نے یہ تنبیہ فرمائی ہے تو اِس کو سمجھا جاسکتا ہے۔اِس سے عام قافلوں کے بارے میں کوئی حکم اخذ کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوگا۔‘‘(علم النبی 447)
گھروں میں گھنٹی لٹکانے سے روکنے کا حکم بھی اِسی نسبت سے معلوم ہوتا ہے۔ ’’علم النبی‘‘ میں بیان ہوا ہے:
’’دیہات کے گھروں میں دیکھا ہے کہ گھنٹیاں بعض اوقات کمروں میں آنے جانے کے دروازوں پر لٹکا دی جاتی ہیں اور گزرنے والوں سے ٹکراکر مسلسل بجتی رہتی ہیں ۔اِس طرح کی صورتِ حال گھر یا قافلے میں، جہاں بھی پیدا ہو، اُس سے فرشتوں کے اِبا کی وجہ ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں اور قافلوں میں اُن کی آمد و رفت جیسی کچھ رہتی ہوگی ، یہ آپ نے غالبًا اُسی کے پیشِ نظر اور اپنے ہی گھروں اور قافلوں کے بارے میں فرمایا ہے ، جسے روایت کرنے والوں نے موقع ومحل سے قطع نظر کر کے اِس طرح علی الاطلاق بیان کردیا ہے۔‘‘(448)
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیات میں گھنٹی جیسی ایک آواز بھی شامل تھی۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ وحی نازل ہونے کی شدید ترین صورت یہ ہوتی کہ اُس موقع پر آپ کو گھنٹی بجنے جیسی آواز سنائی دیتی۔بخاری میں ہے :
عن عائشۃ أم المومنین رضی اللّٰہ عنھا أن الحارث بن ہشام سأل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّٰہ، کیف یأتیک الوحی؟ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : یأتیني أحیانًا مثل صلصلۃ الجرس و ھو أشدہ علی فیفصم عنی وقد وعیت عنہ ما قال.
(رقم2)
’’ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:یا رسول اللہ، آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے، جیسے گھنٹی کی جھنکار ہو اور وحی کی یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے۔ پھر جب فرشتے کا کہا مجھے یاد ہو جاتا ہے تو یہ موقوف ہو جاتی ہے۔‘‘
گھنٹی کی آواز اگر اصلاً مکروہ ہے یا اُس میں کسی شیطانی آلایش کا عنصر پایا جاتا ہے تو یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ نزولِ وحی جیسے نہایت پاکیزہ موقع پر اللہ کی طرف سے اِس کا التزام کیا جائے۔
2۔ جہاں تک بدر کے موقع پر اونٹوں کی گھنٹیوں کو کاٹ دینے کے حکم کاتعلق ہے تو اِس کی وجہ کوئی جنگی ضرورت ہو سکتی ہے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’جنگ کے موقع پر ، خاص کر رات کی تاریکی میں ہونے والے حملوں سے بچنے کے لیے اِس طرح کی تدبیروں کی ضرورت ہوتی ہےتاکہ دشمن لشکر کے پڑاؤ کی طرف راستہ نہ پاسکے ۔بدر کے موقع پرفرشتوں کی ایک بڑی جماعت بھی مسلمانوں کی نصرت کے لیے موجود رہی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، ہوسکتا ہے کہ اُن کی رعایت سے یہ ہدایت فرمائی ہو، جیسا کہ آگے کی روایتوں میں بیان ہوا ہے۔ اِسے علی الاطلاق گھنٹیوں کی حرمت یا کراہت کا حکم نہیں سمجھنا چاہیے، جس طرح کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔‘‘
(علم النبی446)
صاحبِ ’’لسان العرب‘‘ نے ’جرس‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے درجِ بالا روایت نقل کی ہے اور حکم کی یہی علت قیاس کی ہے:
والجرس: الذی یضرب بہ. وروی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: لا تصحب الملائکۃرفقۃ فیہا جرس. ھو الجلجل الذی یعلق علی الدواب. قیل: إنما کرھہ لانہ یدل علی أصحابہ بصوتہ، وکان علیہ السلام یحب أن لا یعلم العدو بہ حتی یأتیھم فجاۃ.
(6/36)
’’گھنٹی وہ ہے، جسے بجایا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں گھنٹی ہو، فرشتے اُس کے ہم راہ نہیں ہوتے۔ یہ جلجل (چھوٹی گھنٹی) ہے، جسے جانوروں کے گلے میں باندھا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِسے ناپسند فرماتے تھے، کیونکہ یہ اپنی آواز کے ذریعے سے آپ کے ساتھیوں کا پتا دیتی تھی اور آپ یہ پسند فرماتے تھے کہ دشمن اُن کے بارے میں بے خبر رہیں، یہاں تک کہ وہ اچانک اُن کے پاس پہنچ جائیں۔ ‘‘
اِس موضوع کی احادیث و آثار کی تاویل امام سرخسی نے بھی اِسی پہلو سے کی ہے ۔ ’’شرح السیر الکبیر‘‘ میں لکھتے ہیں :
وتأویل ہذہ الآثار عندنا أنہ کرہ اتخاذ الجرس للغزاۃ فی دار الحرب فإنہم إذا قصدوا أن یبیتوا العدو علم بہم العدو بصوت الجرس فیبدرون بہم فإذا کانوا سریۃ علم بہم العدو فأتوہم فقتلوہم فالجرس فی ہذہ الحالۃ یدل المشرکین علی المسلمین فہو مکروہ.
(1/88-87)
’’ہمارے نزدیک اِن روایات کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارالحرب میں مجاہدین کے لیے گھنٹی کے استعمال کو ناپسند فرمایا، کیونکہ اگر مجاہدین دشمن پر شب خون مارنا چاہتے ہیں تو گھنٹی کی آواز سے دشمن چوکنا ہو جائے گا اور مجاہدین پر پیشگی حملہ کر دے گا اور اگر لشکر جا رہا ہو تو دشمن گھنٹی کی آواز سے اُن کا پتا لگا کر اُن پر حملہ آور ہو گا اور اُنھیں قتل کر دے گا۔ تو چونکہ اِس صورتِ حال میں گھنٹی مشرکین کو مسلمانوں کے بارے میں باخبر کر دیتی ہے، اِس لیے اِس کا استعمال ناپسندیدہ ہے۔‘‘
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ روایت میں’جرس‘سے وہ گھنٹی مراد ہے، جو اونٹوں اور دوسرے جانوروں کے گلے میں لٹکائی جاتی تھی۔ اِس کا مقصد بہ ظاہر یہ ہوتا تھا کہ راعی یا ساربان اپنے جانوروں سے متعلق باخبر رہیں ۔ متعدد روایتوں میں اِس کا ذکر اونٹوں کے گلے میں لٹکائی جانے والی گھنٹی ہی کے حوالے سے آیا ہے:
عن أم سلمۃ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رأی أبعرۃ فی بعضھا جرس، فلما سمع صوتہ قال: ما ھذا؟ قال رجل: ھذا الجلجل فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: وما الجلجل؟ قال: الجرس قال: نعم، فاذھب فاقطعہ ثم ارم بہ ففعل ثم رجع الرجل فقال: یا رسول اللّٰہ، ما لہ؟ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن الملائکۃ لا تصحب رفقۃ فیھا جرس.
(المعجم الکبیر ، رقم 1001)
’’ام سلمہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹ دیکھے۔ اُن میں سے بعض کے (گلے میں) گھنٹی تھی۔ جب آپ نے اُس کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ ایک آدمی نے عرض کیا: یہ جلجل ہے۔ آپ نے پوچھا: جلجل کیا ہے؟اُس نے کہا: گھنٹی۔ آپ نے فرمایا:اچھا، تم جاؤ اور اُسے کاٹ کر پھینک دو۔ اُس نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی۔ پھر اُس آدمی نے واپس آ کر عرض کیا:یا رسول اللہ، یہ حکم آپ نے کس وجہ سے دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں گھنٹی ہو، فرشتے اُس کے ہم راہ نہیں ہوتے۔‘‘
عن خالد بن معدان قال: مروا علی النبی بناقۃ فی عنقھا جرس فقال: ھذہ مطیۃ شیطان.
(مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم 32599)
’’خالد بن معدان بیان کرتے ہیں: (کسی سفر کے دوران میں) کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک ایسی اونٹنی کے ساتھ گزرے جس کی گردن میں گھنٹی تھی۔ آپ نے فرمایا: یہ شیطان کی سواری ہے۔‘‘
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ مذکورہ گھنٹی سے جانوروں کے گلے میں یا گھروں کے دروازوں پر لٹکائی جانے والی گھنٹی مراد لینا چاہیے۔ گھنٹی کے یہ دونوں استعمال نہ موسیقی پیدا کرتے ہیں اور نہ اِن سے موسیقی کا حظ اٹھایا جاتا ہے۔عرب معاشرت میں اِسے آلاتِ موسیقی میں شامل بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘میں ڈاکٹر جواد علی نے ’’آلاتِ الطرب‘‘ کے زیر عنوان جہاں عرب کے آلاتِ موسیقی کے بارے میں بیان کیا ہے،وہاں جرس کا ذکرنہیں ہے:
وآلات الطرب عند العرب ثلاثۃ: آلات ذات أوتار کالعود وآلات نفخ، وآلات ضرب کالصنوج والطبل والدف. (5/108)
’’عرب کے آلاتِ موسیقی تین قسم کے تھے : ایک تار والے جیسا کہ ستار، دوسرے پھونک سے بجانے والے اور تیسرے ضرب لگا کر بجانے والے، جیسے ڈھول ، طبل اور دف وغیرہ۔‘‘
اِس کے ذیل میں مصنف نے دف، بربط، صنج، ون، ونج، معزف،طبل، طنبور ، کوبہ، قنین اور مزمار کا ذکر کیا ہے، مگر جلجل یا جرس کا ذکر نہیں کیا۔