آیت 32 کے الفاظ ’قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ‘ (اِن سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا؟) کےاسلوب سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی جسارت ہر گز گوارا نہیں ہے کہ لوگ اُن چیزوں کو حرام ٹھہرائیں، جسے اُس نے حلال ٹھہرایا ہے۔یہ دین سازی ہے اور اللہ نے اِس کا اختیار کسی کو نہیں دیا ہے۔ چنانچہ اُس نے اُن مذہبی پیشواؤں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور مذہب کے نام پر اُس کی حلال کی ہوئی زینتوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ استاذِگرامی لکھتے ہیں:
’’...دین کی صوفیانہ تعبیر اور صوفیانہ مذاہب تو (زینت کی) اِن سب چیزوں کو مایا کا جال سمجھتے اور بالعموم حرام یا مکروہ یاقابل ترک اور ارتقاے روحانی میں سد راہ قرار دیتے ہیں، مگر قرآن کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے۔ اُس نے اِس آیت میں نہایت سخت تنبیہ اور تہدید کے انداز میں پوچھا ہے کہ کون ہے، جو رزق کے طیبات اور زینت کی اُن چیزوں کو حرام قرار دینے کی جسارت کرتا ہے، جو خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں؟ یہ آخری الفاظ بہ طورِ دلیل ہیں کہ خدا کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ اُس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں تو اِسی لیے پیدا کی ہیں کہ حدودِالٰہی کے اندر رہ کر اُس کے بندے اِنھیں استعمال کریں۔ اِن کا وجود ہی اِس بات کی شہادت ہے کہ اِن کے استعمال پر کوئی ناروا پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (البیان 2/ 148)
____________