عن أنسِ بن مالك قال: كان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في مسير له، وكان معه غلام أسود يقال له: أنجشة يحدو [بنسائه[39]]، [وكان حسن الصوت،[40]] [فاشتد فِي السياقة[41]]، قال: [فتقدمت إليهما[42]] فقال [له[43]] رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:’’ويحك ياأنجشة، رويدًا سوقك بالقوارير‘‘.
(احمد، رقم13377)
’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ ایک سیاہ فام نوجوان تھا، جس کا نام انجشہ تھا۔ وہ خوش آواز تھا اور قافلے میں آپ کی ازواج کے ساتھ رہ کر حدی خوانی کرتا تھا۔ چنانچہ ایک موقع پر اُس نے قافلے کے اونٹوں کو بہت تیز چلادیا۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ کے اور انجشہ کے قریب ہوا تو سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: تم پر افسوس، انجشہ ، اِن آبگینوں کو ذرا آہستہ چلاؤ۔‘‘
عن عمر بنِ الخطاب قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعبد اللّٰه بن رواحة: لو حركت بنا الركاب. فقال: قد تركت قولي، قال له عمر: اسمع وأطع، قال: اللهم لولا أنت ما اهتدينا فأنزلن سكينةً علينا ولا تصدقنا ولا صلينا، وثبت الأقدام إن لاقينا، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اللهم ارحمه فقال عمر: وجبت.
(السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم8193)
’’عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک سفر میں) عبد اللہ بن رواحہ سے فرمایا: تم ہماری سواریوں کو ذرا تیز چلادیتے۔ عبد اللہ نے جواب دیا: میں حدیٰ خوانی چھوڑ چکا ہوں۔اِس پر عمر نے کہا: سنو اور اطاعت کرو۔چنانچہ اُنھوں نے یہ اشعار گائے: ’’اے اللہ، تیری عنایت نہ ہوتی تو ہم نہ ہدایت پاتے ، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے ، سو اب تو ہم پر سکینت نازل کر اور دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو ثابت قدمی عطا فرما‘‘ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پاکیزہ کلام سنا تو) فرمایا: اے اللہ، اِس پر رحم فرما۔عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: اب تو رحمت لازماً ہوگی۔‘‘
عن سلمة بن الأكوع قال : خرجنا مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه و سلم إلى خيبر، فتسيرنا ليلاً، فقال رجل من القوم لعامر بن الأكوع: [يا عامر،[44]] ألا تسمعنا من هنيھاتك ؟ وكان عامر رجلاً شاعرًا، فنزل يحدو بالقوم، [يرجز باصحاب رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وفيهم النبي صلى اللّٰه عليه سلم، يسوق الركاب وهو[45]] يقول:اللهم لو أنت ما اهتدينا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، [إن الذين قد بغوا علينا ونحن عن فضلك ما استغنينا[46]] فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا، وثبّت الأقدام إن لاقينا وألقين سكينةً علينا، إنا إذا صيح بنا أتينا وبالصياح عولوا علينا، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: من هذ السائق؟ قالوا: عامر، قال: يرحمه اللّٰه، فقال رجل من القوْم: وجبت يارسول اللّٰه....
(مسلم،رقم1802)
’’سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم خیبر روانہ ہوئے۔ یہ رات کا سفر تھا۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے عامر بن اکوع سے کہا: عامر، کیا اپنے کچھ شعر نہیں سناؤ گے؟ عامر رضی اللہ عنہ شعر کہا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ سواری سے اترے اور لوگوں کے لیے حدی خوانی کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور وہ آپ کے صحابہ کے سامنے رجزیہ اشعار پڑھ رہے اورسواریوں کو تیز چلارہے تھے۔ وہ اُس موقع پر کہہ رہے تھے: ’’اے اللہ، تیری عنایت نہ ہوتی تو ہم نہ ہدایت پاتے، نہ نماز پڑھتے اور نہ زکوٰۃ دیتے۔ جن لوگوں نے ہم پر چڑھائی کی ہے، یہ جب فتنہ چاہیں گے تو ہم بھی مزاحمت کریں گے۔ تیری عنایت سے، البتہ ہم کبھی مستغنی نہیں ہوسکتے۔ہم تجھ پر فدا ہوں، سو ہماری وہ خطائیں بخش دے، جو ہم سے سرزد ہوئی ہیں۔دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہم پر سکینت نازل کر۔ہم وہ لوگ ہیں کہ آواز دی جائے تو آتے ہیں اور لوگوں نے ہمیں آواز دی ہے تو اِسی لیے کہ اُنھوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ اشعار سنے تو پوچھا: یہ کون ہے، جو اونٹنیوں کو اِس طرح ہنکا رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: عامر ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ اِس پر رحم فرمائے۔ اِس پر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ، اب تو رحمت واجب ہو گئی...۔‘‘
’’حداء ‘‘ عرب کے ساربانوں کا گیت ہے۔ وہ اِسے اونٹوں کو ہانکنے کے لیے گاتے تھے۔ صحرا کے طویل سفروں میں اِسے سن کر اونٹ سر مست ہو جاتے اور تیز ی سے دوڑنے لگتے۔ مسافر بھی مسرور ہوتے، کیونکہ اِس میں بادیہ نشینوں کی سادہ شاعری کو استعمال کیا جاتا اور سُروں میں بھی سادگی اور بدوی معاشرت کی جھلک نمایاں ہوتی۔
روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفروں میں قافلوں کے ساتھ مشاق حدی خواں ہوتے، جو قافلوں کے لیے حداء سرائی کا کام انجام دیتے۔ تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفروں کے لیے کچھ حدی خوانوں کو مختص کیا ہوا تھا۔ اُن میں سےبعض مردوں کے اونٹوں کے لیے اور بعض عورتوں کے اونٹوں کے لیے حداء سرائی کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی درجِ بالا روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوش نوا حدی خوان انجشہ کو اپنے سفروں میں حدی سرائی کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ ایک سفر کے دوران میں جب اُن کے نغمات سے سر مست ہو کر اونٹ بہت تیز چلنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے احتیاط کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے دل نواز اسلوب میں اُسےپیار سے سمجھایا کہ وہ اونٹوں پر سوار خواتین کا لحاظ کرے، مبادا تیز رفتاری کے باعث اُنھیں کوئی زحمت ہو۔
روایت میں اِس کے لیے ’رويدا سوقك بالقوارير‘ (اِن آبگینوں کو ذرا آہستہ چلاؤ) کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذِ گرامی نے اِن کی شرح میں لکھا ہے:
’’یعنی اُن اونٹنیوں کو آہستہ چلاؤ ،جن پر نازک اندام عورتیں بیٹھی ہیں۔‘‘
(علم النبی486 )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک سفر کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ کوحدی خوانی کا حکم دیا۔ اِس کے لیے آپ نے فرمایا کہ ہماری سواریوں کو ذرا سبک رفتار کر دو۔ یعنی بلند آواز سے اونٹوں کو ہانکنے والے گیت گاؤ تاکہ وہ اُن سے سرشار ہو کر تیزی سے چلنے لگیں۔اُنھوں نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ طویل عرصے سے حدی خوانی نہ کرنے کے باعث مشاق نہیں رہے۔ اِس پر حضرت عمر نے اُنھیں توجہ دلائی کہ عذر پیش کرنے کے بجاے حکم کی تعمیل کرو۔ چنانچہ اُنھوں نے حمدیہ اشعار گانا شروع کر دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُنھیں سن کر خوش ہوئے اور رحمت کی طلب کے اشعار کے جواب میں رحمت کی دعا فرمائی۔
حضرت سلمہ بن اکوع کی روایت بھی اِسی طرح کے ایک واقعے کو پیش کرتی ہے۔ غزوۂ خیبر کے لیے سفر کے دوران میں لوگوں نے حدی خوان عامر بن اکوع سے حدی خوانی کی فرمایش کی۔ اُنھوں نے جنگ میں فتح کے لیے دعائیہ اشعار گا کر اونٹوں کو ہنکانا شروع کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِس حداء سرائی سے خوش ہوئے۔ آپ نے اُن کا نام پوچھا اور اُن کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔