عن أنس بن مالك، أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مر ببعض المدينة، فإذا هو بجوار يضربن بدفهن، ويتغنين، ويقلن: نحن جوار من بني النجار ... يا حبذا محمد من جار، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’اللّٰہ يعلم إني لأحبكن ‘‘.
(ابن ماجہ، رقم1899)
’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی ایک گلی سے گزرے تو کچھ لڑکیاں دف بجا کر یہ گیت گا رہی تھیں: ’’ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں، ہماری خوش نصیبی کہ آج محمد ہمارے ہم سایے بنے ہیں‘‘۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ میں بھی تم لوگوں سے محبت رکھتا ہوں۔‘‘
یہ اُس موقع کا بیان ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے ایک فرماں روا کی حیثیت سے یثرب میں داخل ہوئے تھے۔ پورا شہر آپ کی آمد کا منتظر تھا۔ لوگوں نے شہر سے باہر آ کر آپ کا خیر مقدم کیا۔ خواتین اور بچیاں گلیوں میں نکل کر گیت گانے لگیں۔
ایک گلی سے گزرے تو لڑکیوں نے گیت کی صورت میں یہ الفاظ ادا کیے کہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ ہمارے ہم سایے بنے ہیں۔ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں بھی تم لوگوں سے بہت محبت کرتا ہوں۔یعنی آپ نے اُس پاکیزہ گیت کا ہدیہ قبول کیا اور جواب میں اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
روایت میں مذکور ہے کہ لڑکیاں استقبالیہ گیت گانے کے ساتھ دف بھی بجا رہی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ گیت آلۂ موسیقی کے ساتھ گائے جا رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گیت گانے سے روکا، نہ آلۂ موسیقی کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ۔