عن أنسِ بنِ مالك، قال: قدم رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم [المدينة من بعض مغازيه، أو أسفاره]، فاستقبله سودان المدينة يزفنون [بين يديه]، ويقولون: جاء محمد رجل صالح بكلامهم، [ويتكلمون بكلام لا يفهمه،] [فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم:”ما يقولون“؟ قالوا: يقولون: محمد عبد صالح]، ولم يذكر أنس أن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم نهاهم.
(السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم 4236)
’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے یا کسی سفر سے واپس مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے کچھ سیاہ فام مردوں نے آپ کا استقبال کیا۔ وہ آپ کے سامنے ناچ رہے تھے اور اپنی زبان میں گاتے ہوئے کہہ رہے تھے: محمد آئے ہیں، وہ ایک صالح انسان ہیں۔ وہ اپنی زبان میں کچھ کہہ رہے تھے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے لوگوں سے پوچھا: یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں: محمد خدا کے صالح بندے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے اِس واقعے میں ایسا کوئی ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اُنھیں اِس طرح ناچنے اور گانے سے روک دیا تھا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد یا دعوت کے کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو مدینہ کے لوگوں کے لیے یہ ایک بہت مبارک گھڑی ہوتی۔ وہ گھروں سے باہر آ کر آپ کا استقبال کرتے۔ عورتیں اور بچیاں دف بجاتیں اور گیت گاتیں اور مرد ناچ گا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔ ایسے ہی کسی موقع پر جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو حبشہ سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام مردوں نے آپ کے آگے ناچنا اور گانا شروع کر دیا۔ وہ اپنی زبان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اصحاب نے بتایا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’محمد صالح انسان ہیں۔‘‘
اِس پوچھنے کااصل مقصد ظاہر ہے،یہ تھا کہ اگر وہ ایسے اشعار پڑھ رہے ہیں، جو دین و شریعت کی رو سے درست نہیں ہیں تو اُنھیں روک دیا جائے۔
روایت سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں ناچنے اور گانے سے منع نہیں فرمایا۔ اگر ناچ گانے کا عمل فی نفسہٖ غلط ہوتا یا اُس میں کسی غیر دینی یا غیر اخلاقی چیز کا معمولی شائبہ موجود ہوتا تو آپ اُنھیں روک دیتے اور حکم دیتے کہ آیندہ ایسا کوئی مظاہرہ آپ کے حضور میں نہ کیا جائے۔
یہ روایت غنا اور موسیقی کے ساتھ رقص کے مباح ہونے کو بھی واضح کر رہی ہے۔ راوی نے اِس بات کو بیان کرنے کے لیے کہ سیاہ فام لوگ ناچ رہے تھے، ’يزفنون‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اِس کے معنی رقص کرنے کے ہیں۔چنانچہ اِسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں اِس لفظ کی وضاحت میں ’یرقصون‘ کا لفظ بھی نقل ہوا ہے۔ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے:
عن أنس قال: کانت الحبشۃ یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ویرقصون و یقولون: محمد عبد صالح فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’ما یقولون؟‘‘قالوا: یقولون: محمد عبد صالح.(رقم 12562)
’’انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حبشہ کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ناچ رہے تھے اور یہ گا رہے تھے: محمد صالح انسان ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ کہہ رہے ہیں: محمد صالح انسان ہیں۔‘‘
مسلم کی ایک روایت میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حبشیوں کے رقص کو ’یزفنون‘ کےلفظ سے ادا کیا ہے:
عن عائشۃ قالت: جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد فدعانی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوضعت رأسی علی منکبہ فجعلت أنظر إلی لعبھم حتی کنت أنا التی أنصرف عن النظر إلیھم.
(رقم2103)
’’عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ عید کے روزحبشی مسجد میں رقص کا مظاہرہ کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نے آپ کے شانے پر سر رکھا او ر اُن کا کرتب دیکھنے لگی۔ (کافی وقت گزرنے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں فرمایا)،یہاں تک کہ میں خود ہی اُنھیں (مسلسل) دیکھ کر تھک گئی ۔‘‘
عربی لغات میں’یزفنون‘ کا معنی ’یرقصون‘ کیا گیا ہے اورنظیرکے طور پرسیدہ عائشہ کی درجِ بالا حدیث نقل کی گئی ہے:
الزفن: الرقص،... ومنہ حدیث عائشۃ، رضی اللّٰہ عنہا: قدم وفد الحبشۃ فجعلوا یزفنون ویلعبون ای یرقصون.
(لسان العرب13/ 197)
’’’زفن‘کے معنی رقص کے ہیں، ... حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا وفد آیا تو وہ ناچنے اور کھیلنے لگ پڑے، یعنی رقص کرنے لگ پڑے۔‘‘
الزفن: الرقص.(الصحاح 5/ 2131)
’’’زفن‘کے معنی رقص کے ہیں۔‘‘