مغنیہ کا گیت سنوانا

عن السائب بن يزيد أن امرأة جاءت إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم فقال: ”يا عائشة، أتعرفين؟ “ هذه قالت: لا، يا نبي اللّٰه، فقال: ”هذه قينۃ بني فلان، تحبين أن تغنيك؟“ قالت: نعم. قال:فأعطاها طبقاً فغنتها. فقال النبي صلى اللّٰه عليه و سلم: ”قد نفخ الشيطان في منخريها“.(احمد، رقم15720)

’’سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ سے فرمایا: عائشہ، تم اِس عورت کو جانتی ہو؟ سیدہ نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی۔ آپ نے فرمایا: یہ فلاں قبیلے کی گانے والی ہے۔کیا تم پسند کروگی کہ یہ تمھیں کچھ گا کر سنائے؟ سیدہ نے جواب میں کہا: کیوں نہیں۔ سائب کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اُسےایک تھالی دی اور اُس نے سیدہ کو گانا سنایا۔ اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اِس کے نتھنوں میں پھونکیں مار دی ہیں۔‘‘

اِس روایت سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والی خاتون ایک معروف مغنیہ تھی۔ ’هذه قينة بني فلان‘ (یہ فلاں قبیلے کی گانے والی ہے) کے الفاظ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔’قینۃ‘ کا لفظ عربی زبان میں مغنیہ لونڈی کے لیے مستعمل ہے۔یہ غیر مغنیہ لونڈی کے لیےبھی استعمال ہوجاتا ہے، لیکن جب اِس کی نسبت غنا کے فعل سے ہو تو اِسے غیر مغنیہ لونڈی کے معنی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اِس روایت میں یہ غنا ہی کی نسبت سے آیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کو مغنیہ سے متعارف کرایا اور پوچھا کہ کیا وہ اُس کا گانا سننا چاہتی ہیں؟ سیدہ کے دل چسپی ظاہر کرنے پر آپ نے مغنیہ کو گانے کے لیے کہا۔ مغنیہ چونکہ گانا سنانے کے لیے حاضر نہیں ہوئی تھی، نہ اُسے اِس مقصد کے لیے بلایا گیا تھا، اِس لیے وہ اپنا دف یا کوئی اور ساز ساتھ نہیں لائی تھی۔ آپ نے اُسے تھالی دی تاکہ وہ اُسے بجا کر ساز کی ضرورت پوری کر لے۔

جب اُس نے گانا سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تبصرہ ارشاد فرمایا : ’قد نفخ الشيطان في منخريها‘ ، یعنی ’’شیطان نے اِس کے نتھنوں میں پھونکیں مار دی ہیں۔‘‘ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نتھنوں سے سانس کھینچ کر جو آواز نکالی گئی ہے، وہ اِس قدر سحر انگیز ہے کہ شیطان کے لیے آلۂ کار بن سکتی اور سننے والے کو گناہ پر آمادہ کر سکتی ہے۔ یہ کم و بیش اُسی طرح کا تبصرہ ہے، جیسا کہ آپ نے خطابت کی اثر انگیزی سے متعلق اِن الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا: ’إن من البيان لسحرًا‘ (بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں)۔ ایسے تبصروں میں فن کی تحسین بھی مقصود ہوتی ہے اور اِس کے ساتھ اُس کی اثر پذیری اور سحر ناکی سے خبردار کرنا بھی پیش نظر ہوتا ہے۔چنانچہ ’قد نفخ الشيطان في منخريها‘ کے الفاظ سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدہ کو سمجھایا ہے کہ غنا اور موسیقی کو سنتے ہوئے اُن کے غیر معمولی اثرات و نتائج کے بارے میں متنبہ رہنا چاہیے، بسا اوقات یہ لطف و تسکین سے آگے بڑھ کر شیطانی رذائل اخلاق کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ استاذِ گرامی اِن الفاظ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’یعنی جو سانس نتھنوں سے کھینچی جاتی ہے، وہ اِس کے منہ سے شیطان کا جادو بن کر نکلتی ہے۔ یہ سیدہ کو گانا سنوانے کے بعد اُسی طرح متنبہ فرمایا ہے، جس طرح ہاروت و ماروت کے قصے میں بیان ہوا ہے کہ اُن کو جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا، اُسے جب وہ کسی کو سکھاتے تھے تو اُس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کردیتے تھے کہ ’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ، فَلَا تَكْفُرْ‘، ’’ہم تو صرف ایک آزمایش ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو‘‘ (البقرہ2: 102)۔ یہ نہی، ظاہر ہے کہ نتیجے کے لحاظ سے تھی۔گویا مدعا یہ تھا کہ ہمارا یہ علم دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔زیادہ امکان یہی ہے کہ تم لوگ اِسے سیکھ کر برے مقاصد کے لیے استعمال کرو گےاور اِس طرح کفر و شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ یہاں بھی مدعا یہ ہے کہ گانا بجانا اصلاً کوئی بری چیز نہیں ہے۔تم نے اِسے سن لیا، لیکن متنبہ رہو کہ اِس عورت کی آواز میں ایسا سحر ہے کہ اِس کے ذریعے سے شیطان خدا کے بندوں کو شرک اور فواحش کی طرف کھینچ لے جاسکتا اور اُس کی یاد اور نماز جیسی چیزوں سے غافل کرسکتا ہے۔

اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ روایت ٹھیک اُس رویے کو متعین کردیتی ہے، جو غنا اور موسیقی کے معاملے میں ایک بندۂ مومن کو اختیار کرنا چاہیے، یعنی سننے اور سنوانے میں کوئی حرج نہیں ، اِس لیے کہ یہ نہ حرام ہے، نہ مکروہ، اِسے خود پیغمبر نے سنا اور سنوایا ہے، لیکن اِس کے غلط استعمال سے جو آفات لاحق ہوسکتی ہیں، اُن پر متنبہ ضرور رہنا چاہیےتا کہ شیطان اِس کے ذریعے سے انسان کو کسی دوسرے راستے پر نہ لے جائے۔ “(علم النبی 450)

’نفخ الشیطان فی منخریھا‘ کا جملہ اپنی ساخت اور مفہوم میں ’نفخ الشیطان فی انفہ‘ کے جملے کی طرح ہے، جو لغات میں ایک محاورے کے طور پر درج ہے اور جس کے معنی کسی معاملے میں تجاوز کے حدود کو چھو لینے کے ہیں۔ ’’تاج العروس‘‘ میں ہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: یقال للمتطاول الی ما لیس لہ.

(2/ 283)

’’’نفخ الشیطان فی انفہ‘یہ اُس شخص کے لیے بولا جاتا ہے، جو اِس حد تک پہنچ جائے، جو حقیقت میں اُس کے لیے نہ ہو۔‘‘

’’اقرب الموارد‘‘ میں بیان ہواہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: تطاول الی ما لیس لہ. (2/ 1326)

’’شیطان نے اُس کی ناک میں پھونک ماری، یعنی اُس نے اپنے متعلق ایسی بڑھ چڑھ کر باتیں کہیں، جو درحقیقت اُس میں نہیں تھیں۔‘‘