قراءت کی آلِ داؤد کے سازوں سے تشبیہ

عن عائشة، قالت: سمع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قراءة أبي موسى، وهو يقرأ في المسجد، [وكان حسن الصوت[52]] فقال صلى اللّٰه عليه وسلم: لقد أوتي هذا مزمارًا من مزامير آل داود.

(مسند اسحاق بن راہویہ، رقم 624)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا۔ وہ نہایت خوش آواز تھے اور اُس موقع پر مسجد میں بیٹھے ہوئے تلاوت کر رہے تھے ۔ آپ نے اُن کی قراءت سنی تو فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ اِس شخص کو آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز ارزانی ہوا ہے۔‘‘

عن بريدة بن الحصيب الأسلمي أنه دخل مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم المسجد، فإذا رجل يصلي يدعو، يقول: اللهم إني أسألك بأني أشهدك أنك لا إلٰه إلا أنت الأحد الصمد، الذي لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفوًا أحد، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:والذي نفسي بيده، لقد سأل اللّٰہ باسمه الأعظم، الذي إذا سئل به أعطى، وإذا دعي به أجاب، وإذا رجل يقرأ في جانب المسجد، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:لقد أعطي مزمارًا من مزامير آل داود، وهو عبد اللّٰه بن قيسٍ [أبوموسى الأشعري[53]]، قال: فقلت له: يا رسول اللّٰه، أخبره؟ فقال:أخبره، فأخبرت أباموسى، فقال: لن تزال لي صديقًا، [ثم قال أبو موسى: لو علمت أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يستمع قراءتي لحبرتها تحبيرًا[54]].

(صحيح ابن حبان، رقم892)

’’بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز میں دعا کرتے ہوئے کہہ رہا ہے: اے اللہ، میں تجھ سے اپنی اِس گواہی کے وسیلے سے مانگتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، یکتا اور سب کا سہارا، جس کا کوئی باپ ہے، اور نہ جس کا کوئی ہم سر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: اُس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔اِس نے واقعی اللہ کے اُس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے، جس کے وسیلے سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور پکارا جائے تو لازماً سنتا ہے۔ پھر آپ نے مسجد کے ایک گوشے میں دیکھا کہ ایک شخص قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ اِس شخص کو آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز ارزانی ہوا ہے۔یہ عبد اللہ بن قیس تھے، جنھیں ابو موسیٰ اشعری کہا جاتا ہے۔ بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا یہ بات میں اُسے بتا دوں؟ آپ نے فرمایا: بتادو۔ چنانچہ میں نے ابو موسیٰ کو بتایا تو اُنھوں نے فرطِ مسرت سے کہا: اب تم ہمیشہ میرے دوست رہو گے۔ پھر کہا: مجھے اُس وقت معلوم ہو جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری تلاوت سن رہے ہیں تو میں اِس سے کہیں زیادہ خوبی کے ساتھ پڑھتا۔‘‘

سیدہ عائشہ اور بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہما سے مروی اِن روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو غنا سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اُن کی تحسین کی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اُنھیں قوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا فرمایا ہے۔ آپ کے الفاظ ہیں: ’لقد أعطي مزمارًا من مزامير آل داود‘۔

’’مزامیر‘‘کے معنی آلاتِ موسیقی کے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اِنھیں تلاوتِ قرآن کی تشبیہ کے لیے اختیار کرنا، اِن کی پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ مطہر کلام الٰہی کی قراءت کے لیے کسی ایسی چیز کو بہ طورِ استعارہ استعمال کریں، جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو اور جسے شریعت نے ممنوع قرار دیا ہو۔

مزید برآں ،اِن الفاظ سے قرآنِ مجید اوربائیبل کے اُن بیانات کی تائید ہوتی ہے ، جن کے مطابق سیدنا داؤد علیہ السلام اور اُن کی قوم کے لوگ اللہ کے حضور میں دعا و مناجات کو گیتوں کی صورت میں گاتے اور سازوں کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ روایت کے مذکورہ الفاظ کی شرح میں استاذِ گرامی نے لکھاہے:

”یہ خدا کی تمجید اور اُس کے حضور میں دعا ومناجات کے لیے سیدنا داؤد علیہ السلام کے اُن دل نواز نغموں کی طرف اشارہ ہے، جو آپ نہایت خوب صورت آواز میں اور سازوں کے ساتھ گاتے تھے۔اِن کا ذکر قرآن اور بائیبل، دونوں میں ہوا ہے۔زبور کے نام سے جو کتاب اُن پر نازل کی گئی ، وہ اِنھی نغموں کا مجموعہ ہے۔“ (علم النبی464)

سورۂ انبیاء میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام جب اللہ کی حمد و ثنا کرتے تواللہ کے اذن سے پہاڑ اور پرندے اُن کے ہم نوا ہو جاتے تھے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَالطَّیْرَ وَکُنَّا فٰعِلِیْنَ. (21: 79)

’’اور پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے داؤد کا ہم نوا کر دیا تھا، وہ (اُس کے ساتھ) خدا کی تسبیح کرتے تھے، اور (اُن کے لیے یہ) ہم ہی کرنے والے تھے۔‘‘

اِس آیت کی تفسیر میں بعض جلیل القدر مفسرین نے درجِ بالا روایتوں میں مذکور اُنھی الفاظ کا حوالہ دیا ہے، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےابو موسیٰ اشعری کی خوش الحانی کی تحسین فرمائی ہے۔ امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

وذلک لطیب صوتہ بتلاوۃ کتابہ الزبور وکان إذا ترنم بہ تقف الطیر فی الہواء فتجاوبہ وترد علیہ الجبال تأویبًا ولھذا لما مر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی أبي موسی الأشعری وہو یتلو القرآن من اللیل وکان لہ صوت طیب جدًا فوقف واستمع لقراء تہ وقال: لقد أوتی ہذا مزمارًا من مزامیر آل داود قال: یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لو علمت أنک تسمع لحبرتک تحبیرًا، وقال أبو عثمان النہدی: ما سمعت صوت صنج ولا بربط ولا مزمار مثل صوت أبی موسیٰ رضی اللّٰہ عنہ.

(3/187)

’’اور یہ اُن کی اچھی آواز کے ساتھ زبور کی تلاوت کرنے کی وجہ سے تھا۔ جب وہ اُسے ترنم سے پڑھتے تو پرندے ہوا میں رک جاتے اور اُس کا جواب دیتے اور پہاڑ اِس تسبیح کا جواب دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس سے گزرے ، جب کہ وہ تہجد کے وقت قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ رک گئے اور اُن کی قراءت سنی ، کیونکہ ان کی آواز بے حد خوب صورت تھی۔ آپ نے فرمایا: بے شک، اِسے آلِ داؤد کے مزامیر میں سے ایک مزمار عطا کیا گیا ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو میں آپ کو اور خوش کرتا۔ ابو عثمان نہدی نے بیان کیا ہے : میں نے کسی ڈھول، بانسری اور بربط کی ایسی (پُرغنا) آواز نہیں سنی، جیسی حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی ہے۔‘‘

مولانا ابوالکلام آزاد اِس آیت سے سیدنا داؤد علیہ السلام کی حمدیہ نغمہ سرائی کا مفہوم اخذ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حضرت داؤد بڑے ہی خوش آواز تھے۔ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے عبرانی موسیقی مدون کی اور مصری اور بابلی مزامیر کو ترقی دے کر نئے نئے آلات ایجاد کیے۔ تورات اور روایاتِ یہود سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھ کر حمدِ الٰہی کے ترانے گاتے اور اپنا بربط بجاتے تو شجر و حجر جھومنے لگتے تھے۔روایاتِ تفسیر سے بھی اِس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ پرندوں کی تسخیر کو بھی دونوں باتوں پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اِس بات پر بھی کہ ہر طرح کے پرند اُن کے محل میں جمع ہو گئے تھے اور اِس پر بھی کہ اُن کی نغمہ سرائیوں سے متاثر ہوتے تھے۔ کتاب زبور دراصل اُن گیتوں کا مجموعہ ہے، جو حضرت داؤد نے الہام الٰہی سے نظم کی تھیں۔‘‘(ترجمان القرآن 2/480)

امام امین احسن اصلاحی نے بھی سورۂ انبیاء کی درجِ بالا آیت کی تفسیربائیبل کی معلومات کے پس منظر میں کی ہے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام کے بارے میں اُنھوں نے لکھا ہے:

’’اُن کے تعلق باللہ کا یہ حال تھا کہ وہ شب میں پہاڑوں میں نکل جاتے اور اُن کے حمدو تسبیح کے نغموں اور گیتوں کی صداے بازگشت پہاڑوں میں گونجتی اور پرندے بھی اُن کی ہم نوائی کرتے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ تورات سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت داؤد نہایت خوش الحان تھے اور اِس خوش الحانی کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر سوزو درد بھی تھا۔ مزید برآں یہ کہ تمام مناجاتیں گیتوں اور نغموں کی شکل میں ہیں اور یہ گیت الہامی ہیں۔ اِن گیتوں کا حال یہ ہے کہ زبور پڑھیے تو اگرچہ ترجمہ میں اُن کی شعری روح نکل چکی ہے ، لیکن آج بھی اُن کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل سینہ سے نکل پڑے گا۔ حضرت داؤد جیسا خوش الحان اور صاحب سوز ودرد جب اُن الہامی گیتوں کو پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر ، سحر کے سہانے وقت میں پڑھتا ہو گا تو یقیناًپہاڑوں سے بھی اُن کی صداے بازگشت سنائی دیتی رہی ہو گی اور پرندے بھی اُن کی ہم نوائی کرتے رہے ہوں گے۔‘‘(تدبر قرآن5/ 174-173)

زبور میں سیدنا داؤد علیہ السلام کےاپنی قوم کے لوگوں کے لیے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:

’’آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں ! اپنی نجات کی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں ۔ شکرگزاری کرتے ہوئے اُس کے حضور میں حاضر ہوں ۔ مزمور گاتے ہوئے اُس کے آگے خوشی سے للکاریں ... خداوند کے حضور نیا گیت گاؤ۔ اے سب اہل زمین ! خداوند کے حضور گاؤ۔ خداوند کے حضور گاؤ۔ اُس کے نام کو مبارک کہو۔ روز بہ روز اُس کی نجات کی بشارت دو۔‘‘ (95: 1۔ 96: 1)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ساز و سرود کو اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر نے اختیارکیا اور باری تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ایک ایسے مقصد کے لیے استعمال کیا، جس کے ارفع و اعلیٰ اور مطہر و مزکی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا اور اِس سے بھی آگے بڑھ کر اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اُنھوں نے کلامِ الٰہی زبور کے مندرجات کو غنا اور موسیقی سے مزین کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔