رخصتی کے موقع پر غنا کی ترغیب

عن عائشة أنها زفت امرأةً إلى رجلٍ من الأنصار، فقال نبي اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’يا عائشة، ما كان معكم لهو؟ فإن الأنصار يعجبهم اللهو ‘‘.

(بخاری، رقم 5162)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اُنھوں نے کسی دلہن کی رخصتی ایک انصاری کے ہاں کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ، کیا تمھارے پاس دل بہلانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا،اِس لیے کہ انصار تو اِس طرح کے موقعوں پر گانے بجانےکو پسند کرتے ہیں؟‘‘

عنِ ابنِ عباس، قال: أنكحت عائشة ذات قرابة لها [رجلًا] من الأنصار، فجاء رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال:’’أهديتم الفتاة؟‘‘ قالوا: نعم، قال:’’أرسلتم معها من يغني‘‘؟ قالت: لا، فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’إن الأنصار قوم فيهم غزل، فلو بعثتم معها من يقول: أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم‘‘.

(ابن ماجہ، رقم1900)

’’عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ نے اپنی ایک عزیزہ کا نکاح انصار کے ایک شخص کے ساتھ کرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس موقع پر وہاں تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا: کیا تم نے لڑکی کی رخصتی کر دی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ نے پوچھا: کیا اُس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجا ہے؟ سیدہ عائشہ نے کہا: جی نہیں۔ اِس پر آپ نے فرمایا: انصار کے لوگوں میں تو گانے کی روایت ہے۔ بہتر ہوتا کہ تم اُس کے ساتھ کسی کو بھیجتے، جو یہ گیت گاتا: ہم تمھارے پاس آئے ہیں، ہم تمھارے پاس آئے ہیں۔ہم بھی سلامت رہیں، تم بھی سلامت رہو۔‘‘

اِن روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب، خصوصاً یثرب کے لوگوں میں موسیقی کو پسند کیا جاتا تھا۔ شادی بیاہ اور خوشی کی دیگر تقریبات میں مغنیوں یا مغنیات کو بلایا جاتا تھا اور وہ گیت گا کر لوگوں کو محظوظ کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’انصار تو اِس طرح کے موقعوں پر گانے بجانےکو پسند کرتے ہیں‘‘ ،اِسی رواج کو ظاہر کرتا ہے۔

شادی کی تقریب میں غنا کا اہتمام نہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اِس موقع پر غنا کا انتظام نہیں کیا گیا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ بہتر ہوتا کہ کسی گانے والے کو دلہن کے ساتھ بھیج دیاجاتا ، کیونکہ انصار گانے کو پسند کرتے ہیں۔یہ فرما کر آپ نے گیت کے الفاظ بھی بتائے۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ اِس موقع پر گیت گائے جاتے اور شادی کی پرمسرت تقریب معاشرتی روایت کے مطابق خوشی کے لوازم سے مزین کی جاتی۔ استاذِ گرامی نے اِس روایت کی شرح میں لکھا ہے:

’’اِس سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےخوشی کے موقعوں پر غنا اور موسیقی کے اہتمام کی ترغیب بھی دی ہے۔تاہم یہ اچھے مضامین کی رعایت کے ساتھ ہی دی گئی ہے۔‘‘ (علم النبی 458 )

ابنِ عباس کی روایت کے الفاظ ’أرسلتم معها من يغني؟‘ (کیا اُس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجا ہے؟) سے واضح ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کوئی ایسا فرد تھا ، جو شادی بیاہ کے گیت گانے کا ماہر ہو۔ ایسا فن کار،ظاہر ہے کہ اُسی معاشرے میں دستیاب ہو سکتا ہے، جہاں غنا اور موسیقی کو سنا جاتا ہو۔

سیدہ عائشہ کی روایت میں’لھو‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ کھیل تماشے کی اُن چیزوں کے لیے مستعمل ہے، جنھیں لوگ دل بہلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غنا بھی اِنھی چیزوں میں شامل ہے، لہٰذا اُس کے لیے بھی بعض اوقات یہی لفظ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اِس سے غنا ہی مرادہے۔ سیدہ عائشہ کی روایت کے بعض دیگر طرق سے یہ بات ہر لحاظ سے مبرہن ہو جاتی ہے کہ بخاری کے طریق میں ’لھو‘ کا لفظ غنا ہی کے معنی میں آیاہے۔ ابنِ حبان میں ہے :

عن عائشۃ قالت: کان فی حجری جاریۃ من الانصار فزوجتھا قالت: فدخل علي رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم عرسھا فلم یسمع غناء ولا لعبًا فقال: ’’یا عائشۃ، ھل غنیتم علیھا أو لا تغنون علیھا؟ ‘‘ثم قال: ’’إن ھذا الحی من الانصار یحبون الغناء‘‘.

(رقم 5875)

’’سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: میرے زیرِ کفالت ایک انصاری لڑکی رہتی تھی۔ میں نے اس کی شادی کر دی۔ شادی کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ اِس موقع پر آپ نے نہ کوئی گیت سنا اور نہ کوئی کھیل دیکھا۔ (یہ صورتِ حال دیکھ کر) آپ نے فرمایا: عائشہ، کیا تم لوگوں نے اِسے گانا سنایا ہے یا نہیں؟ پھر فرمایا: یہ انصارکا قبیلہ ہے، جو گانا پسند کرتے ہیں۔ ‘‘