قال عبد الرحمنِ بن غنم الأشعري: حدثني أبو عامر أو أبو مالك الأشعري، واللّٰہ ما كذبني، سمع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم يقول: ليكونن من أمتي أقوام، يستحلون الحر والحرير، والخمر والمعازف.(بخاری، رقم5590)
’’عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو عامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ــــــ اور بخدا ، اُنھوں نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا ـــــ کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے، جو شرم گاہوں اور ریشم اور شراب اور موسیقی کے سازوں کو حلال کرلیں گے۔‘‘
اِس روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ زنا ، ریشم، شراب اور سازوں کو حلال تصور کریں گے۔’یستحلون‘ (حلال کر لیں گے) کے الفاظ دلیل ہیں کہ یہ چیزیں شریعت میں حرام ہیں۔ مستقبل میں لوگ اِن سے بچنے کے بجاے اِنھیں اُسی طرح اپنالیں گے، جیسے حلال چیزوں کو اپنا لیا جاتا ہے۔
یہ روایت آلاتِ موسیقی کے ایسے استعمال کی حرمت کو بیان کر رہی ہے، جب اُنھیں شرک اور فواحش کے اظہار اور اُن کی ترغیب و ترویج کے لیے استعمال کیا جائے۔ استاذِ گرامی نے روایت کے الفاظ ’یستحلون ‘ کی شرح میں لکھا ہے:
’’مطلب یہ ہے کہ اُس صورت میں بھی حلال کرلیں گے ، جب وہ مشرکانہ تصورات و عقائد اور فواحش کی ترغیب کے لیے استعمال کیے جارہے ہوں ، جس طرح کہ ہمارے اِس زمانے کے زیادہ تر فلمی گیتوں اور نعتوں اور قوالیوں میں بغیر کسی تردد کے استعمال کیے جارہے ہیں۔‘‘(علم النبی 443)
موجودہ زمانے میں موسیقی اور آلاتِ موسیقی کو جس طرح اِ ن مقاصد سے استعمال کیا جا رہا ہے، اُ س سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی صداقت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں نعتیہ اورصوفیانہ موسیقی کو غنا کی ایک باقاعدہ صنف کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ عرس ، میلاد اور عزا داری کی مجالس میں مشرکانہ کلام کو غنا اور آلاتِ غنا کے ساتھ پڑھنے کو مذہبی تقدس حاصل ہے۔ لوگ انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ پورے جذبۂ ایمانی سے ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں، جہاں قوال، نعت خوان اور مرثیہ خواں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب عام موسیقی کا ایک بڑاحصہ فواحش سےآلودہ ہو گیا ہے۔ رقص و سرود کی ہیجان انگیزمحفلیں جو ایک زمانے میں در پردہ ہوتی تھیں اور نوجوانوں ہی کا مشغلہ تھیں، اب کھلے عام ہوتی ہیں اور چھوٹے بڑے، سبھی اُن میں پوری دل جمعی سے اور کسی شرم ساری کے بغیر شریک ہوتے ہیں۔ رہی سہی کسر ذرائع ابلاغ میں اِن کی فراوانی نے پوری کر دی ہے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ معازف، یعنی سازوں کی حرمت مطلق طور پر نہیں، بلکہ شرک اور فواحش کے محرمات سے مشروط ہے۔ استاذِ گرامی کے نزدیک :
’’...یہ شرط اِس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں صراحت کردی ہے کہ خور و نوش کی حرمتوں کے علاوہ اُس نے صرف پانچ ہی چیزیں حرام کی ہیں، یعنی فواحش، حق تلفی، جان ومال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور شرک و بدعت۔‘‘ (علم النبی 443)
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ فقط پانچ چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں موسیقی اور آلاتِ موسیقی شامل نہیں ہیں۔ یعنی موسیقی علی الاطلاق حرام نہیں ہے، بلکہ اُس صورت میں یا اُس موقع پر حرام ہے، جب اُس کے ساتھ مذکورہ پانچ چیزوں میں سے کوئی چیز ملحق ہو گی۔ حرمت کے اِس پہلو پر اگر غور کیا جائے تو واضح ہو گا کہ حرمت کی نسبت موسیقی سے نہیں، بلکہ شرک اور فواحش سے ہے۔ یہ اگرتصنیف و تالیف کے ساتھ، تعلیم و تربیت کے ساتھ، تصویر و تمثیل کے ساتھ یا شعر و ادب کے ساتھ منسلک ہوں گے تو اپنے برےاثرات سے اِن مباحات کو آلودہ کر دیں گے۔
مذکورہ روایت کے بعض دیگر طرق اور اِس موضوع کی دوسری روایتوں کو سامنے رکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ غنا اور آلاتِ غنا کی حرمت کو بیان کرنے کا سبب شراب اور فواحش کی اِن کے ساتھ آمیزش ہے۔ چنانچہ اِن روایتوں میں زنا، شراب نوشی اور موسیقی کو مشترک عمل کے طور پر بیان کیا گیاہے۔ چند روایتیں حسبِ ذیل ہیں:
عن أبی مالک الاشعری قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لیشر بن ناس من أمتی الخمر یسمونھا بغیر اسمھا یعزف علی رؤوسھم بالمعازف والمغنیات یخسف اللّٰہ بھم الارض ویجعل منھم القردۃ والخنازیر.
(ابن ماجہ، رقم4020)
’’ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کئی لوگ شراب کو کسی اور نام سے موسوم کر کے پئیں گے۔ اُن کے سروں پر ساز بجاے جائیں گے اور گانے والی عورتیں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ اُنھیں زمین میں دھنسا دے گا اور اُن میں سے بعض کو بندر اور سؤر بنا دے گا۔‘‘
عن أنس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ قال: دخلت علی عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ورجل معھا فقال الرجل: یا ام المومنین، حدثینا حدیثًا عن الزلزلۃ فأعرضت عنہ بوجھھا قال أنس: فقلت لھا: حدثینا یا ام المؤمنین عن الزلزلۃ فقالت: یا أنس، إن حدثتک عنھا عشت حزینًا و بعثت حین تبعث وذلک الحزن فی قلبک فقلت: یا أماہ، حدثینا فقالت: إن المرأۃ إذا خلعت ثیابھا فی غیربیت زوجھا ھتکت ما بینھا و بین اللّٰہ عزوجل من حجاب وإن تطیبت لغیر زوجھا کان علیھا نارًا و شنارًا فإذا استحلوا الزنی و شربوا الخمور بعد ھذا وضربوا المعازف غار اللّٰہ فی سمائہ فقال للارض: تزلزلی بھم.
(المستدرک علی الصحیحین، رقم8575)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاتشریف لائیں تو ایک شخص اُن کے ہم راہ تھا۔ اُس نے پوچھا: ام المومنین، ہمیں (قیامت کے) زلزلے کے بارے میں بتائیے۔ سیدہ نے اپنا رخ اُس کی طرف سے پھیر لیا ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر میں نے کہا : ام المومنین، ہمیں (قیامت کے) زلزلے کے بارے میں بتائیے۔ سیدہ عائشہ نے فرمایا: انس، اگر میں نے تمھیں اِس سے آگاہ کر دیا تو تم غمگین ہو جاؤ گے اور جب تم قیامت میں اٹھائے جاؤ گے تو اس وقت بھی یہ غم تمھارے دل پر طاری ہو گا۔انس کہتے ہیں کہ میں نے پھرکہا کہ اے ماں، اِس کے باوجود آپ ہمیں بتائیے۔ سیدہ نے فرمایا: جب عورتیں اپنے شوہروں کے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں لباس اتاریں گی (یعنی جب زنا عام ہو جائے گا) تو اُن کے اور اللہ کے مابین شرم و حیا کا پردہ تار تار ہو جائے گا۔ اور جب وہ غیرمردوں کو مائل کرنے کے لیے خوشبو لگائیں گی تو یہ بات اُن کے لیے آگ کے عذاب اور عیب و عار کا سبب بنے گی۔ پھر جب لوگ زنا کو حلال سمجھ لیں گے اور اُس کے بعد شرابیں پئیں گے اور ساز بجائیں گے تو آسمان پر اللہ کی غیرت کو جوش آئے گا اور وہ زمین سے فرمائے گا کہ اِن کو ہلا کر رکھ دے۔‘‘
عن عبد اللّٰہ بن مسعود قلت: یا رسول اللّٰہ، ھل للساعۃ من علم تعرف بہ الساعۃ؟ فقال لی: یا بن مسعود، إن للساعۃ أعلامًا وإن للساعۃ أشراطًا، ألا وإن من أعلام الساعۃ وأشراطھا...أن تظھر المعازف وتشرب الخمور.
(المعجم الکبیر، رقم10404)
’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ،کیا قیامت کی کوئی نشانی ہے، جس سے اُس کے بارے میں جان لیا جائے؟ آپ نے فرمایا : اے ابنِ مسعود، بے شک، قیامت کی نشانیاں ہیں۔ اُن میں سے بعض نشانیاں یہ ہیں ...کہ آلاتِ موسیقی نمایاں ہوں گے اور شرابیں پی جائیں گی۔‘‘
مزید برآں، گذشتہ باب میں رقم متعدد روایتوں سے بھی اِس امر کی تائید ہوتی ہے کہ درجِ بالا روایت کوموسیقی اور آلاتِ موسیقی کی مطلق حرمت کے بیان پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اُن سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے متعدد بار اِن کامظاہرہ ہوا، مگر آپ نے اُس سے منع نہیں فرمایا۔