شادی کی تقریب میں لڑکیوں کا گیت گانا

يقول أبو الحسين خالد بنِ ذكوان: كنا بالمدينة يوم عاشوراء، والجواري يضربن بالدف، ويتغنين، فدخلنا على الربيع بنت معوذ، فذكرنا ذلك لها، فقالت: دخل علي رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم صبيحة عرسي، [فجلس على فراشي كمجلسك مني] وعندي جاريتان تتغنيان، وتندبان آبائي الذين قتلوا يوم بدر، [تضربان بالدفوف] وتقولان، فيما تقولان: وفينا نبي يعلم ما في غد، فقال:’’أما هذا فلا تقولوه، ما يعلم ما في غد إلا اللّٰہ ‘‘.

(ابن ماجہ، رقم1897)

’’ابو الحسین خالد بن ذکوان کہتے ہیں: یوم عاشور کو ہم مدینہ میں تھے اور وہاں لڑکیاں دف بجا رہی اور گیت گا رہی تھیں۔ ہم نے یہ دیکھا تو ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور اُن سے اِس کا ذکر کیا۔اِس پر اُنھوں نے بیان کیا کہ میری شادی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت میرے ہاں تشریف لائے اور میرے بچھونے پر اِسی طرح بیٹھ گئے، جس طرح تم میرے سامنے بیٹھے ہو۔ اُس وقت میرے پاس دو لڑکیاں بیٹھی دف بجا کر بدر میں شہید ہونے والے ہمارے آبا کا نوحہ گا رہی تھیں اور اپنے گیت میں وہ یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ اِس وقت ہمارے درمیان وہ نبی موجود ہیں، جو یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: (بیٹیو)،تم یہ بات نہ کہو، آنے والے دنوں میں کیا ہو گا، اِسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘

اِس روایت سے واضح ہے کہ عربوں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات میں گیت گانے کا رواج تھا۔ ایسے موقعوں پر عموماً خواتین اور لڑکیاں گیت گاتی تھیں۔اہل یثرب کے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ رواج حسبِ سابق قائم رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔

ربیع بنتِ معوذ کی شادی کی تقریب میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دو لڑکیاں گیت گا رہی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر نہ اُنھوں نے گانا بند کیا اور نہ کسی نے اُنھیں منع کیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات معلوم و معروف تھی کہ یہ ایک مباح عمل ہے اور دین میں اِس سے روکا نہیں گیا۔

لڑکیاں جو گیت گا رہی تھیں ، اُن کے اشعار جنگِ بدر کے واقعات پر مشتمل تھے۔ گاتے ہوئے جب اُنھوں نے اِس مفہوم کا شعر پڑھا کہ ہمارے درمیان وہ نبی ہیں ، جو کل کی خبر رکھتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کہنے سے منع فرما دیا۔ مطلب یہ تھا کہ یہ اللہ ہی کے شایانِ شان ہے کہ اُسے عالم الغیب کہا جائے۔ انبیا اگر مستقبل کے بارے میں کوئی خبر دیتے ہیں تو وہ اُن کی طرف سے نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گانا گانے سے منع فرمایا، نہ دف بجانے سے روکا۔ جس چیز سے روکا، وہ غنا نہیں، بلکہ کلام تھا، جس میں معنوی غلطی کی وجہ سے آپ نے اُس سے منع فرما دیا۔ استاذ ِ گرامی لکھتے ہیں:

’’ اِس سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے پر کوئی اعتراض کیا ، نہ گانے کے آلات پر، بلکہ صرف وہ بات کہنے سے منع فرمایا، جو آپ کے بارے میں غلط کہی جارہی تھی۔غنا اور موسیقی سے متعلق صحیح رویہ یہی ہے، جو ہر بندۂ مومن کو اختیار کرنا چاہیے۔ اِس روایت میں یہ تعلیم ایسی واضح ہے کہ اِس باب میں کسی دوسری راے کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ ‘‘ (علم النبی456)