عن أبي بلج الفزاري، قال: قلت لمحمد بن حاطب: إني قد تزوجت امرأتين، لم يضرب علي بدف، قال: بئسما صنعت، قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم : ’’إن فصل ما بين الحلال والحرام الصوت [الضرب بالدف[28]]‘‘.وعنه في لفظ قال صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’فصل بين الحلال والحرام الدف، والصوت في النكاح ‘‘.(احمد، رقم18280)
’’ابو بلج فزاری کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں دو عورتوں سے شادی کرچکا ہوں، لیکن میری کسی شادی میں دف نہیں بجایا گیا۔اُنھوں نے جواب میں کہا: یہ تم نے بہت برا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ حلال اور حرام میں فرق شادی بیاہ کے موقع پر گھروں سے آنے والی گانے کی آوازوں اور اُن کے ساتھ دف بجانے ہی سے ہوتا ہے۔اِنھی محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں کہ آپ نے فرمایا: نکاح کے معاملے میں حلال و حرام کی تمیز جس چیز سے ہوتی ہے، وہ دف اور نکاح کے موقع پر آنے والی آوازیں ہی ہیں۔‘‘
شریعت کے مطابق نکاح کے لیے ضروری ہے کہ مرد و عورت کا ایجاب و قبول علانیہ ہو۔ یعنی معاشرے کو معلوم ہونا چاہیے کہ فلاں مرد و عورت رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے ہیں۔ اِس سے شریعت کا مقصود خفیہ نکاح اور زنا کے راستوں کو مسدود کرنا ہے، جو معاشرے کے انہدام اور تزکیہ کی پامالی کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ شریعت میں وہی نکاح مقبول اور پسندیدہ ہے، جو معاشرے کو بتا کر کیا جائے۔ شادی کی تقریب اِسی مقصد سے منعقد کی جاتی ہے۔ بارات، ولیمہ اِسی اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔اِس کا ایک طریقہ گانے بجانے کا اہتمام ہے۔ عربوں میں ایسے موقعوں پر دف بجایا جاتا اور گیت گائے جاتے تھے۔
چنانچہ جب محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی کہ ابو بلج فزاری نے دو شادیاں کیں، مگر دونوں دفعہ دف بجانے کا اہتمام نہیں کیا تو اُنھوں نے اُنھیں تنبیہ کی۔ کہا کہ تم نے بہت برا کیا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق گانے بجانے کی آوازیں ہی نکاح کے جائز ہونے کا اظہار ہیں ۔ یہ اظہار اگر نہیں ہوتا تو بہ ظاہر اِس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔خفیہ نکاح کے بارے میں معلوم و معروف ہے کہ یہ زنا کے راستوں کو آسان کردیتا ہے۔
بعض روایتوں میں دف بجانے کے حکم کی یہ علت صراحت سے بیان ہوئی ہے۔ بیہقی کی السنن الکبریٰ میں نقل ہے:
عن علی ابن أبی طالب أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مر ہو وأصحابہ ببني زریق فسمعوا غناء ولعبًا فقال: ’’ما ہذا ‘‘؟ قالوا: نکاح فلان یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: ’’کمل دینہ، ہذا النکاح لا السفاح ولا النکاح السر حتی یسمع دف أو یری دخان‘‘. قال حسین: وحدثنی عمرو بن یحییٰ المازني أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یکرہ نکاح السر حتی یضرب بالدف.(رقم14477)
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ہم راہ بنی زریق کے پاس سے گزرے۔ اِس موقع پر آپ نے اُن کے گانے بجانے کی آواز سنی ۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا :یا رسول اللہ، فلاں شخص کا نکاح ہو رہا ہے ۔آپ نے فرمایا : اُس کا دین مکمل ہو گیا۔ نکاح کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ نہ بدکاری جائز ہے اور نہ پوشیدہ نکاح،یہاں تک کہ دف کی آواز سنائی دے یا دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے۔ حسین نے کہا ہے: اور مجھ سے عمرو بن یحییٰ المازنی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، یہاں تک کہ اُس میں دف بجایا جائے(اور اِس طرح اُس کا عام اعلان کیا جائے) ۔ ‘‘