درجِ بالا مباحث جن بدیہی نتائج کو لازم کرتے ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:
اول یہ کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ خبائث کے علاوہ محرماتِ شریعت یہی نو (9) ہیں۔ اِن میں نہ کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
دوم یہ کہ قرآن و حدیث میں درج دیگر حرمتوں کو تطہیر ِاخلاق اور تطہیرِ خور و نوش کے اِنھی محرمات کے تحت رکھاجائے ۔ اخلاقی جرائم فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت سے متعلق ہوں اور کھانے پینے کے ممنوعات کو خبائث کے ذیل میں شمار کیا جائے ۔
سوم یہ کہ جو چیزیں قرآن و حدیث میں حرمت کے طور پر مذکور نہیں ہیں اور اصلاً مباح ہیں، اُن میں اگر خبث یا فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت کا کوئی عنصر شامل ہو تو اُنھیں بھی اِن حرمتوں کا مصداق سمجھا جائے ۔ تاہم اُن کی یہ حرمت علی الاطلاق نہیں، بلکہ اِن علل سے مشروط تصور کی جائے۔
اِن نتائج کی روشنی میں جب غنا اور موسیقی کی حلت و حرمت کا سوال پیدا ہوتا ہےتو شریعت کا یہ جواب سامنے آتا ہے:
اولاً، قرآنِ مجید کی نو (9) متعین حرمتوں میں غنا اور موسیقی شامل نہیں ہیں۔
ثانیاً، قرآنِ مجید میں اِن کی الگ سے بھی کوئی ممانعت مذکور نہیں ہے۔
ثالثًا، جن احادیث میں اِن کی حرمت و شناعت کا ذکر آیا ہے، اُنھیں مذکورہ محرماتِ اخلاق کے ماتحت سمجھا جائے گا۔
رابعاً، اگر اِن کی بعض انواع میں مذکورہ محرمات اخلاق شامل ہو جائیں تو وہ ممنوع قرار پائیں گی، اِس سے قطع نظر کہ قرآن و حدیث میں اُن کا ذکر آیا ہے یا نہیں آیا ہے ۔
خامساً، موخر الذکر دونوں صورتوں میں تحریم کی نسبت غنا اور موسیقی سے نہیں، بلکہ شامل ہونے والی اخلاقی حرمت سے ہو گی۔ یعنی اگر کسی موقع پر غنا سے روکا جائے گا تو اُس کا باعث صنفِ غنا نہیں، بلکہ مثال کے طور پر شرک اور فواحش جیسے شرعی محرمات ہوں گے۔ اُنھی کو حرام کہا جائے گا۔
____________