1۔ بیت اللہ کا برہنہ طواف

مشرکین کی بدعات میں ایک نمایاں بدعت بیت اللہ کا برہنہ طواف تھا۔ مرد اور عورتیں، دونوں عبادت کی آڑ میں اِس عریانی کا ارتکاب کرتے تھے۔ بدن کی زینت ــــــ لباس ــــــ کو اتارنے کا حکم دیا جاتا تھا۔دلیل یہ تھی کہ یہ دنیا داری کی آلایش ہے، اِس لیے اِس سے پاک ہو کر بیت اللہ میں داخل ہونا چاہیے۔ اِس ناپاک کام کو اللہ کے حکم اوراپنے آبا و اجدادکی سنت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اِس بے حیائی کی اپنی طرف نسبت کی سختی سے تردید فرمائی ہے اور پوری تنبیہ و تہدید کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ پرایسی بے سند اور بے دلیل بات کی تہمت کیوں لگاتے ہو؟ مزید واضح فرمایا ہے کہ بدن کی زینت کے ساتھ غذا کی زینت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یعنی خور و نوش کے جو طیبات زندگی کی سلامتی اور لذتِ کام و دہن کے لیے گھر در میں استعمال کرتے ہو، وہ مسجدوں میں بھی استعمال کر سکتے ہو۔ جس طرح لباس دین داری کے خلاف نہیں ہے، اُسی طرح کھانے پینے میں اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دین داری کے خلاف نہیں ہے۔ سورۂ اعراف میں بیان ہوا ہے:

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ. فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ.

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ.

(7: 31-28)

’’یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کر کے ایسی باتیں کہتے ہو، جنھیں تم نہیں جانتے؟ اِن سے کہو، میرے پروردگار نے (ہر معاملے میں ) راستی کا حکم دیا ہے۔ اُس نے فرمایا ہے کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اُسی کی طرف کرو اور اطاعت کو اُس کے لیے خالص رکھ کر اُسی کو پکارو۔ تم (اُس کی طرف) اُسی طرح لوٹو گے، جس طرح اُس نے تمھاری ابتدا کی تھی۔ ایک گروہ کو اُس نے ہدایت بخشی، (وہ اِن سب باتوں کو مانتا ہے) اور ایک گروہ پر گم راہی مسلط ہو گئی، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ راہ ہدایت پر ہیں۔

آدم کے بیٹو، ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت کے ساتھ آؤ، اور کھاؤ پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘