بت پرستی شرک کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ قرآنِ مجید میں بت پرستی کوبدترین جرم کہا گیا ہے اور اُس کے مرتکب کو ابدی جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ جلیل القدر انبیا سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام میں مبعوث ہوئے، وہ شرک کو مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے تھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اِن پیغمبروں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اُنھیں اِس ضلالت سے نکالیں۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اِس معاملے میں پچھلی اقوام سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔اُنھوں نے اپنے لیے نہ صرف نئے بت تراش لیے تھے، بلکہ قوم نوح کی قدیم ترین تماثیل کو بھی مرجع عبادت بنا لیا تھا۔ انتہا یہ تھی کہ بیت اللہ جیسی روے زمین کی سب سے مقدس جگہ کو اُنھوں نے بتوں کی غلاظت سے بھر دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے اُنھیں رجس، یعنی گندگی قرار دیا اور اُن کے بارے میں خود ساختہ عقائد کو جھوٹی بات سے تعبیر فرمایا:
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْر.(الحج 22: 30)
’’سو بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی (جو اُن کے حوالے سے کسی چیز کو حلال اور کسی کو حرام ٹھیرا کر اللہ پر باندھتے ہو)۔‘‘
لات، منات اور عزیٰ قریش کے مقبول ترین بت تھے۔ یہ عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھے۔ اہل عرب اِن کی پوجا کرتے، اِن کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے اور اِن کے تقرب کے لیے اِنھی کی ساخت پر مجسمے تراش کر اوراِنھی کی شبیہ پر تصویریں بنا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔ مشرکین عرب کے نزدیک یہ فرشتوں کے بت تھے۔ وہ فرشتوں کواللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور اُن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر وہ اُن کی عبادت کریں گے تو وہ آخرت میں اللہ کے حضورمیں اُن کی سفارش کریں گے۔قرآنِ مجید نے اُن کی اِن خرافات کو ہر لحاظ سے ناجائز قرار دیا اور واضح کیا کہ اِس تصور اور اِس کے اِن مظاہر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔یہ لات، منات، عزیٰ اور دوسرے بت تو محض نام ہیں، جو اُن کے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اِن کی پرستش کرنے والے درحقیقت اپنے مشرکانہ مذہب کی اساس بے بنیاد گمانوں پر قائم کیے ہوئے ہیں، جن کی حق کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
أَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی. وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی. أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثٰی. تِلْکَ إِذًا قِسْمَۃٌ ضِیزٰی. إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَّا أَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی... اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلآئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی. وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا. فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا. ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی.
(النجم53: 19 - 23، 27-30)
’’(اِس کے برخلاف جو کچھ تم مانتے ہو، اُس کا ماخذ کیا ہے)؟ ذرا بتاؤ، تم نے اِس لات اور عزیٰ اور تیسری، مگر درجے میں دوسری منات کی حقیقت پر کبھی غور بھی کیا ہے؟ (تم اِنھیں خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ سبحان اللہ)، تمھارے لیے بیٹے ہیں اور اُس کے لیے بیٹیاں؟ پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ نہیں، یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اِن کے حق میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ (اِن کی حماقت پر افسوس)، یہ محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہیں، حالاں کہ اِن کے پاس اِن کے پروردگار کی طرف سے نہایت واضح ہدایت آ چکی ہے۔ ... جو آخرت کو نہیں مانتے، وہی فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں، حالاں کہ اُنھیں اِس معاملے کا کوئی علم نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ اِس لیے، (اے پیغمبر)، اُن سے اعراض کرو جنھوں نے ہماری یاددہانی سے اعراض کیا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں ہے۔ اُن کا مبلغ علم یہی ہے۔ (اُن کو اب اُن کے حال پر چھوڑ دو)، اِس میں شبہ نہیں کہ تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور وہ اُن کو بھی خوب جانتا ہے جو (اُس کی) ہدایت پر ہیں۔‘‘
استاذ ِگرامی اِن بتوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’... یعنی کہاں جبریل امین جیسی ہستی اور اُن کے غیرمعمولی مردانہ اوصاف اور کہاں یہ دیویاں جنھیں تم خدا کی بیٹیاں بنائے بیٹھے ہو! آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ یہ فرشتوں کے بت تھے، جنھیں مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں قرار دے کر اُن کی پرستش کرتے تھے۔ اِن کی عظمت تمام مشرکین کے نزدیک یکساں مسلم تھی اور اِن کی نسبت اُن کا عقیدہ تھا کہ’تلک الغرانیق العلی، وان شفاعتہن لترتجٰی‘ (یہ بڑے مرتبے کی دیویاں ہیں اور پوری امید ہے کہ اِن کی شفاعت قبول کی جائے گی)۔ اِن میں سے لات کا نام ’الالہۃ‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ اہل عرب جس طرح معبود اعظم کو ’الالٰہ‘ کہتے تھے، اُسی طرح سب سے بڑی دیوی کے لیے اُنھوں نے ’الالہۃ‘ کا لفظ اختیار کیا،جو کثرت استعمال سے ’اللات‘ہوگیا۔ ’عزٰی‘ ’عزیز‘ اور’اعز‘کی مونث ہے۔ صاف واضح ہے کہ یہ نام اللہ ہی کے ایک نام ’العزیز‘کی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ ’منات‘’منیۃ‘کے مادے سے ہے، یعنی وہ دیوی جس کے قرب کی تمنا کی جائے یا جو تمناؤں کے بر آنے کا ذریعہ ہو۔‘‘
(البیان 5/ 68)
درجِ بالا مقام پر ’اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی‘ سے واضح ہے کہ شرک کرنے والے محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہوتے ہیں۔ یہ بہ ذاتِ خود ایک بڑا جرم ہے، لیکن اللہ کی ہدایت سامنے آنے کے باوجود اگر اِس پر جمے رہنے کا سلسلہ جاری رہے تو یہ ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔ استاذِ گرامی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’... اِس سے بڑھ کر بدنصیبی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید کی صورت میں خدا کی واضح ہدایت آجانے کے بعد بھی یہ اپنے ظنون و اوہام اور خواہشات نفس کی پیروی پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ شرک کا ماخذ بالعموم یہی دو چیزیں ہوتی ہیں۔ نفس چاہتا ہے کہ خدا کے تقرب اور اُس کی جنت کے حصول کی کوئی آسان راہ نکالی جائے اور شیطان اِس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ظنون و اوہام کی ایک پوری دیو مالا بنا کر لے آتا ہے کہ فلاں اور فلاں کو خدا کے ہاں یہ درجہ حاصل ہے، اُسے معبود بنا لو، دنیا اور آخرت، دونوں کی سعادتیں تمھارے دروازے پر ہوں گی۔‘‘ (البیان 5/ 69- 70)