1۔ گلا گھٹنے، گرنے اور زخم لگنے سے مرنے والے جانور

سورۂ مائدہ میں تذکیہ کے بغیر مرنے والے بعض جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔ اِس میں پہلے اُن چار حرمتوں ـــــ مردار، خون، لحم الخنزیر، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ـــــ کا ذکر کیا ہے، جن کے بارے میں اشتباہ ہو سکتا تھا اور پھر اُنھی میں سے مردار کے ذیل میں بعض حرمتوں کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَالۡمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیۡحَۃُ وَمَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ

’’تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے اور (اِسی کے تحت) وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو، سواے اُس کے جسے تم نے (زندہ پا کر) ذبح کر لیا۔ اِسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں، جو کسی آستانے پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ بھی کہ تم (اُن کا گوشت) جوے کے تیروں سے تقسیم کرو۔

ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ.

(المائده 5: 3)

(تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) یہ سب خدا کی نافرمانی کے کام ہیں۔ یہ منکر اب تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں، اِس لیے (اِن حرمتوں کے معاملے میں) اِن سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو۔ تمھارے دین کو آج میں نے تمھارے لیے پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ (سو میرے اِن احکام کی پابندی کرو)، پھر جو بھوک سے مجبور ہو کر اِن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اِس کے کہ وہ گناہ کا میلان رکھتا ہو تو اِس میں حرج نہیں، اِس لیے کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ ‘‘

اِس مقام پر مختلف طریقوں سے مرنے والےپانچ جانوروں کا ذکر ہوا ہے:

مُنْخَنِقَۃُ‘، گلا گھٹنے سے مرنے والا جانور

ii۔’ مَوْقُوْذَۃُ‘، چوٹ لگنے سے مرنے والا جانور

iii۔ ’مُتَرَدِّیَۃُ‘، اوپر سے نیچے گر کر مر نے والا جانور

iv۔ ’نَطِیْحَۃُ‘، کسی جانور کے سینگ سے زخمی ہو کر مرنے والا جانور

v۔ ’مَآ اَکَلَ السَّبُعُ‘ ، کسی درندے کے پھاڑنے سے مرنے والا جانور

اِس فہرست پر ایک نظر ڈالنے ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ وہ جانور ہیں ، جو تذکیہ کے بغیر مر گئے ہیں، لہٰذا اِنھیں مردار کےزمرے کی حرمتوں میں شامل ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ ’مَیْتَۃ‘ (مردار) ہی کی تفصیل ہے اور اِس کا مقصد مردار کے بعض اطلاقات کے معاملے میں ممکنہ اشتباہ کو دور کرنا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس امر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اِس تفصیل کی ضرورت اِس لیے تھی کہ بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ ایک مردار میں جو طبعی موت مرا ہو اور اُس جانور میں جو کسی چوٹ یا کسی حادثہ کا شکار ہو کر اچانک مر گیا ہو، کچھ فرق ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ شبہ اِس زمانے میں بھی بعض لوگ پیش کرتے ہیں، بلکہ بہت سے لوگ تو اِسی کو بہانہ بنا کر گردن مروڑی ہوئی مرغی بھی جائز کر بیٹھے۔ قرآن کی اِس تفصیل نے اِس شبہے کو صاف کر دیا۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 456)

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ’مَیْتَۃ‘ (مردار) سے مراد وہ جانور ہیں، جنھیں عرف عام میں ’مَیْتَۃ‘ (مردار) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جن کا تذکیہ ضروری ہے اور وہ اُس کے بغیر طبعی طریقے سے یا حادثاتی طور پر مر گئے ہوں۔ چنانچہ ایسے جانور جو عرفِ عام میں اِس لفظ کے تحت نہیں آتے، وہ اِس سے مراد نہیں ہیں۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’...’مَیْتَۃ...‘اِن احکام میں عرف و عادت کی رعایت سے استعمال ہوا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ عربی زبان میں اِس کا ایک لغوی مفہوم بھی ہے، لیکن یہ جب اِس رعایت سے بولا جائے تو اردو کے لفظ مردار کی طرح اِس کے معنی ہر مردہ چیز کے نہیں ہوتے۔ اِس صورت میں ایک نوعیت کی تخصیص اِس لفظ کے مفہوم میں پیدا ہو جاتی ہے اور زبان کے اسالیب سے واقف کوئی شخص، مثال کے طور پر، مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کو اِس میں شامل نہیں سمجھتا۔ یہ تخصیص کیوں پیدا ہوئی؟ اِس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ اِس طرح کے جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا کہ نہ نکلے تو اُس سے یہ مردار ہو جائیں۔‘‘

(البیان 1/ 590)