1۔ حرام اشیا کے دیگر استعمالات

خور ونوش کی جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اُن کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کھانے کے علاوہ اُن کے دیگر استعمالات کی کیا نوعیت ہو گی۔ مثال کے طور پر اگر اُن کا تعلق جانوروں سے ہے تو اُن کی کھال، دانت، سینگ اور ہڈی وغیرہ کے مختلف استعمالات کی کیا نوعیت ہو گی ؟ اِسی طرح الکحل یا کسی اور نشہ آور چیز کو بہ طورِ دوا استعمال کیا جاتا ہے تو اُس کا حکم کیا ہو گا؟

استاذِ گرامی کے نزدیک خور و نوش کے علاوہ اُن کے دیگر استعمالات کی ممانعت نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’یہ سب چیزیں،جس طرح کہ قرآن کی اِن آیات سے واضح ہے، صرف خور و نوش کے لیے حرام ہیں۔ رہے اِن کے دوسرے استعمالات تو وہ بالکل جائز ہیں۔ کسی صاحبِ ایمان کو اِس معاملے میں ہرگز کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے:

قال: تصدق علی مولاۃ لمیمونۃ بشاۃ فماتت، فمر بھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال: ھلا أخذتم إھابھا فدبغتموہ فانتفعتم بہ؟ فقالوا: إنھا میتۃ، فقال: إنما حرم أکلھا.

(مسلم ، رقم 806)

’’سیدہ میمونہ کی ایک لونڈی کو بکری صدقے میں دی گئی تھی، وہ مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: تم نے اِس کی کھال کیوں نہیں اتاری کہ دباغت کے بعد اُس سے فائدہ اٹھاتے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ تو مردار ہے۔ آپ نے فرمایا:اِس کا صرف کھانا ہی حرام ہے۔‘‘‘‘

(میزان 641)