1۔ الہامِ فطرت کے ذریعے سے

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو بعض حقوق دے کر اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ خیر و شر کے اُس شعور پر مبنی ہیں، جو من جانب اللہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اِنھیں مسلماتِ فطرت اور حقوقِ ثابتہ کے درجے میں رکھتا ہے اور کسی صورت میں اِن سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی حقوق ہیں، جنھیں عرفِ عام میں’پیدایشی حقوق ‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جان ، مال ، آبرو کی حفاظت کے حقوق اِن میں سب سے نمایاں ہیں۔ فکر و عمل کی آزادی کا حق بھی اِسی زمرے سے متعلق ہے۔ والدین اور بچوں کے حقوق بھی اِسی کی مثال ہیں۔ یعنی والدین کا حق ہے کہ اولاد اُن سے حسن سلوک کا رویہ اختیار کرے اور اولاد کا حق ہے کہ والدین اُن کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائیں۔