قرآنِ مجید نے اِس کے لیے ’فِتْنَۃ‘کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ اِس کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اُس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں۔ اِسی چیز کو انگریزی زبان میں‘persecution’کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِس سے مراد مذہبی آزادی کے اُس حق کو ختم کرنے کی کوشش ہے، جسے عالم کے پروردگار نے انسانوں کو عطا فرمایا ہے۔ یہ وہ آزادی ہے، جس کا شعور ازل سےاُن کی فطرت میں ودیعت ہے اور اِسی بنا پر اُن کا اجتماعی ضمیر اِس کی خلاف ورزی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ اللہ کے پیغمبروں نے ہمیشہ اِس کی حمایت کی ہے اور اِس کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ اِس کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے، لہٰذا اِس کا ارتکاب کرنے اور پھر اُس پر جم جانے والوں کے لیے اللہ نے جہنم میں جلائے جانے کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَتَنُوا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَتُوۡبُوۡا فَلَہُمۡ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَ لَہُمۡ عَذَابُ الۡحَرِیۡقِ.
(البروج 85: 10)
’’جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو ستایااور پھر نہیں پلٹے، اُن کے لیے دوزخ کی سزا ہے اور اُن کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔‘‘
مذہبی جبر کا یہ جرم اصل میں آزمایش کی اُس اسکیم کو برباد کرنے کی جسارت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا کو قائم کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
”... اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے اور اِس میں انسانوں کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے سے جو دین اور جو نقطۂ نظر چاہیں، اختیار کریں، لہٰذا کوئی شخص یا گروہ اگر دوسروں کو بالجبر اُن کا دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ درحقیقت اِس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی پوری اسکیم کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘‘(میزان 595)
یہی وجہ کہ شریعت نے اِسے قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے اور اگر کوئی فرد، گروہ یا قوم اِس کا ارتکاب کرے تو اُس کی تادیب وتعذیب کے لیے سزائیں مقرر فرمائی ہیں۔ جہاد کی نوعیت بھی یہی ہے۔ یعنی مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حکم دیا ہے کہ اگر استطاعت ہو تو فتنےکی سرکوبی کے لیے فتنہ انگیزوں کے خلاف جنگ کا اقدام کیا جائےاور یہ اقدام اُس وقت تک جاری رہے، جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے۔ زمانۂ رسالت میں جب یثرب میں مسلمانوں کی منظم ریاست قائم ہو گئی تو اُنھیں فتنے کے استیصال کی ہدایت فرمائی گئی۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اِس سرزمین میں اسلام لانے والوں کے لیے فتنہ کی جو صورتِ حال پیدا کر دی گئی ہے، اُسے ختم کرنے کے لیے جنگ کریں اور اُسے اُس وقت تک جاری رکھیں، جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ. وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ، وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ. وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ. فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ، کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ. فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ. فَاِنِ انْتَھَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ. ( 2: 190-193)
’’اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو (حج کی راہ روکنے کے لیے) تم سے لڑیں اور (اِس میں) کوئی زیادتی نہ کرو۔بے شک، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اِن لڑنے والوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور اُنھیں وہاں سے نکالو، جہاں سے اُنھوں نے تمھیں نکالا ہے اور (یاد رکھو کہ) فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔ اور مسجدِ حرام کے پاس تم اُن سے (خود پہل کر کے) جنگ نہ کرو، جب تک وہ تم سے اُس میں جنگ نہ کریں۔ پھر اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو اُنھیں (بغیر کسی تردد کے) قتل کرو۔ اِس طرح کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ لیکن اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور تم یہ جنگ اُن سے برابر کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اِس سرزمین میں) اللہ ہی کا ہو جائے۔ تاہم وہ باز آ جائیں تو (جان لو کہ) اقدام صرف ظالموں کے خلاف ہی جائز ہے۔‘‘