انسان اپنے پسندیدہ جانوروں کو کھانے کے لیےاُن کی جان کو تلف کرتا ہے۔گویا پہلے اُنھیں بے جان یا مردہ کیا جاتا ہے اور پھر کھایا جاتا ہے۔ جان لینے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ تذکیہ ہے ۔ یعنی زندہ حالت میں اُسے ذبح کر کے سارا خون بہا دیا جائے اور پھر اُسے کھانےکے قابل سمجھا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اِنھی حلال اور پسندیدہ جانوروں میں سے اگر کوئی خود سے مر جائے یا اِس طرح جان دے دے کہ اُس کا خون نہ بہایا جا سکا ہو تو کیا اُسے کھا لینا چاہیے؟ اِس کے جواب میں ایک راے یہ ہو سکتی ہےکہ جانور بھی حلال ہے اور اُس کی جان بھی تلف ہو گئی ہے، اِس لیے اُسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اِس کے برعکس، دوسری راے یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ ہم نے اِسے خود ذبح کر کے نہیں مارا ،اِس لیے اِسے نہیں کھانا چاہیے۔ اب اِن دونوں میں سے کون سی راے اختیار کی جائے؟ یہ وہ اشتباہ ہے، جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اُس نے بتا دیا ہے کہ اِس نوعیت کا حلال جانور چونکہ تذکیے کے بغیر مرا ہے، اِس لیے اِسے خبائث کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور کھانے کے لیے حرام سمجھا جائے گا۔