خالق کائنات نے انسانی معاشرت میں تعاون و تناصر کی بنا جن اصولوں پر رکھی ہے، اُن میں وحدتِ الٰہ اور وحدتِ آدم کے بعد تیسرا اصول اشتراکِ رحم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسانوں کا ایک ہی خالق و مالک اور ایک ہی باپ ہے، اُسی طرح رحم مادر بھی ایک ہے، جس کی وساطت سے اُنھیں اِس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ رحم مادر کو انسانی رشتوں میں اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرت کا سارا نظام اِن رشتوں کے ربط و اتصال پر قائم کیا ہے، اِس لیے اُس نے رشتوں کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا. (النساء 4: 1)
’’لوگو، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور اِن دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں۔ اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور ڈرو رشتوں کے توڑنے سے۔ بے شک، اللہ تم پر نگران ہے۔‘‘
آیت کے الفاظ ’وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ‘ (اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور ڈرو رشتوں کے توڑنے سے) سے واضح ہے کہ اللہ اور رحم کے حقوق ادا کرنا سب انسانوں کے لیے لازم ہے۔ اللہ نے اُنھیں تخلیق کیا ہے اور رحم نے اُن کی پرورش کی ہے۔ رشتوں کو توڑنا اصل میں اللہ اور رحم ، دونوں کی حق تلفی ہے، جو بدترین جرم ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’ارحام‘ سے مراد رحمی رشتے ہیں۔ اِس کو ’اللّٰہ‘ پر عطف کر کے اِس کی وہ اہمیت واضح فرمائی ہے، جو دین میں اِس کی ہے۔ اِس سے ثابت ہوا کہ خدا کے بعد پہلی چیز جو تقویٰ اور احترام کی سزاوار ہے، وہ رشتۂ رحم اور اُس کے حقوق ہیں۔ خدا سب کا خالق ہے اور رحم سب کے وجود میں آنے کا واسطہ اور ذریعہ ہے، اِس وجہ سے خدا اور رحم کے حقوق سب پر واجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِسی بنیاد پر رحم کا یہ درجہ رکھا ہے کہ جو اُس کو جوڑتا ہے، خدا اُس سے جڑتا ہے اور جو اُس کو کاٹتا ہے، خدا اُس سے کٹتا ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 2/ 246)
حدیثِ قدسی ہے :
عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ”إن الرحم شجنة من الرحمٰن، فقال اللّٰه: من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته“. (بخاری، رقم 5988)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ رحم کا تعلق رحمٰن سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ جو اُس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے، میں بھی اُس کو اپنے آپ سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اُسے توڑتا ہے، میں بھی اپنے آپ کو اُس سے توڑ لیتا ہوں۔‘‘