فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ یہ مفرد اور متعین جرائم نہیں ہیں۔ یہ اُن کے کلیات یا اصولی انواع ہیں۔ اِن میں ہر ایک کے تحت کثیر مجرمانہ اعمال شمار ہو سکتے ہیں۔ ہر نوع شناعت کا الگ پہلو رکھتی ہے۔ شناعت کے یہی پہلو وہ علتیں یا حقیقتیں ہیں، جو اصلاً حرام ہیں۔ چنانچہ یہ جب کسی عمل میں شامل ہوتے ہیں تو اُسے محرمات کے دائرے میں داخل کر دیتے ہیں۔ اِن میں سے ہر ایک کا فرداً فرداً متعین ہونا اور بہ طورِ اصول واضح ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ اِنھیں الگ الگ پہچان سکیں اور اِن کی شناعت کی حقیقت سے آگاہ ہو کر مختلف اعمال پر اِن کا اطلاق کر سکیں۔