قرآنِ مجید نے جب سورۂ بنی اسرائیل میں اخلاق کے فضائل و رذائل کا ذکر کیا ہے تو اُن میں زنا کی شناعت بھی بیان فرمائی ہے۔ اُس مقام پر زنا کے قریب جانے سے روکا ہے اور اِس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ فاحشہ، یعنی کھلی بے حیائی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا. (17: 32)
’’اور زنا کے قریب نہ جاؤ، اِس لیے کہ وہ کھلی بے حیائی اور بہت بری راہ ہے۔‘‘
گویا زنا کی حرمت کا سبب اُس کا فاحشہ ہونا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’’اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَآءَ سَبِیْلًا‘یہ زنا کی ممانعت کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی اور نہایت ہی بری راہ ہے۔ ’کھلی ہوئی بے حیائی‘ یعنی اِس کے برائی اور بے حیائی ہونے پر کسی منطقی بحث و حجت کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ فطرتِ انسانی کی قدیم ترین جانی پہچانی ہوئی حقیقتوں میں سے ایک واضح ترین حقیقت ہے۔ انسان جب سے دنیا میں موجود ہے، اُس نے مرد اور عورت کے آزادانہ تعلق کو کبھی گوارا نہیں کیا، بلکہ اِس پر ہمیشہ نہایت سخت پابندیاں رہی ہیں اور وہ لوگ کبھی خوش دلی کے ساتھ معاشرے میں گوارا نہیں کیے گئے ہیں، جنھوں نے اِن پابندیوں کو توڑا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 4/ 500)
سورۂ نساء میں بھی یہی لفظ زنا کے لیے استعمال ہوا ہے۔ آیت 25 میں غلامی کے ادارے کو بہ تدریج ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ اگر وہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کا موقع نہ پائیں تو مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لیں۔اِس سے اُن کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور وہ خواتین جو زمانے کی ستم ظریفی کے باعث ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو گئی ہیں، خاندانی عورتوں کے برابر ہو کر زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ لیکن یہ لونڈیاں اگر اِس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجاے فواحش کو اختیار کریں تو اِنھیں زنا کی عام سزا سے نصف سزا دی جائے۔ اِس مقام پر زنا کے جرم کو ’فَاحِشَۃ‘ کےلفظ سے ادا کیا گیاہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ مَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنۡکُمۡ طَوۡلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِکُمۡ ؕ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذۡنِ اَہۡلِہِنَّ وَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ ۚ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَی الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ الۡعَنَتَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ.
(النساء 4: 25)
’’اور تم میں سے جو آزاد مسلمان عورتوں کے ساتھ نکاح کی مقدرت نہ رکھتے ہوں، اُنھیں چاہیے کہ تمھاری اُن مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لیں، جو تمھارے قبضے میں ہوں، اور (یہ حقیقت پیشِ نظر رکھیں کہ) اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو۔ سو اُن کے مالکوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور دستور کے مطابق اُن کے مہر بھی اُن کو دو، اِس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن رہی ہوں، بدکاری کرنے والی اور چوری چھپے آشنائی کرنے والی نہ ہوں۔ پھر جب وہ پاک دامن رکھی جائیں اور اِس کے بعد اگر کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو اُن پر اُس سزا کی آدھی سزا ہے، جو آزاد عورتوں کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ نکاح کی یہ اجازت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے ہے، جنھیں گناہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو۔ ورنہ صبر کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور (مطمئن رہو کہ احتیاط کے باوجود کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘