بدکاری جب یاری آشنائی سے آگے بڑھ کر پیشے کی صورت اختیار کر لے اور فواحش کی کھلم کھلا ترغیب کا باعث بن جائے تو اُس کی نوعیت فساد فی الارض کی ہو جاتی ہے۔پھر یہ دین و اخلاق اورمعاشرے کی پاکیزہ اقدار کے خلاف کھلی بغاوت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں ’البغاء‘ کے اسم کو صفتِ قحبہ گری کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر بھی یہ قحبہ گری کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ سورۂ نور میں مردوں کو حکم دیا ہے کہ جو لونڈیاں اُن کی زیرِ نگیں ہوں، اُنھیں وہ پیشہ کرنے پر مجبور نہ کریں۔ ارشاد ہے:
وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ.
(24: 33)
’’اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو۔‘‘
قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر بدکاری کو ’بَغْی‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام راغب کے نزدیک یہ حرام فعل جب پیشے کی صورت اختیار کر لے تو اسے ’بغی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔