11۔ غرور و تکبر

زیادتی اور سرکشی کی بنیاد غرور و تکبر ہے۔ نافرمانی، حکم عدولی، بغاوت، یہ سب قباحتیں اُس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب انسان خود کو عظیم الشان سمجھنے لگتا ہے۔ اکثر اوقات اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط ہے، مگر محض اپنی انانیت کی تسکین کے لیے وہ حق کے مقابل میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے رسولوں کا انکار کرنے والے اِسی مرض میں مبتلا ہو کر کیفرِ کردار کو پہنچتے رہے ہیں۔ وہ رسول کی حقانیت کو جاننے کے باوجود فقط اِس لیے اُسے ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں کہ اِس کے نتیجے میں اُنھیں رسول کی اطاعت میں آنا پڑے گا۔ غرور و تکبر کا یہ رویہ انسان کے انگ انگ سے ظاہر ہوتا ہے اور اُس کی پوری شخصیت کو بدنما بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے متکبرین کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرًا. (النساء4: 36)

’’اللہ اُن لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اتراتے اور اپنی بڑائی پر فخر کرتے ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کی تفسیر میں تکبر کو اداے حقوق کے منافی ذہنیت سے تعبیر کیا ہے اور اِس کے بارے میں لکھا ہے:

’’...یہ اداے حقوق اور احسان کے منافی ذہنیت کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسباب و وسائل کی فراوانی کو اللہ کا انعام و احسان سمجھتے ہیں، اُن کے اندر تو شکرگزاری اور تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے اور یہ جذبہ اُن کو اِس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن پر احسان فرمایا ہے، اُسی طرح یہ دوسروں پر احسان کریں۔ چنانچہ وہ لوگوں پر احسان کرتے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے سزاوار بنتے ہیں۔ برعکس اِس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو خود اپنی قوت و قابلیت اور اپنی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنے لگتے ہیں، اُن کے اندر تواضع اور شکر گزاری کے جذبے کے بجاے گھمنڈ اور فخر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ لوگوں پر احسان کرنے کے بجاے اُن پر دھونس اور رعب جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ناشکروں اور کم ظرفوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ’’دوست نہیں رکھتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 2/ 298)

قرآنِ مجید نے اِس کے بعض نمایاں مظاہر کا ذکر کیا ہے اور لوگوں کو اِس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس کی بعض صورتوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ تفصیل درجِ ذیل ہے۔