اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی مقررہ فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یہ فطرت اُن کے ظاہر و باطن، دونوں کو شامل ہے۔ باطن میں خیر و شر کا شعور اور خیر کو اپنانے اور شر سے بچنے کا جذبہ ودیعت ہے۔ ظاہر میں متناسب اعضا و جوارح اور متوازن انداز و اطوار عطا فرمائے ہیں۔ یہ نوشتۂ تقدیر ہیں، جن میں رد و بدل کی کوشش اللہ کے فیصلوں میں مداخلت کی جسارت ہے۔ چنانچہ قرآن نے فطرت کی پیروی کا حکم دیا ہے اور اپنے پیغمبر کے توسط سےاللہ کی قائم کردہ فطرت میں تبدیلی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ.
(الروم 30:30)
’’تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، (اے پیغمبر)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کے الفاظ’لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے، اُس کو بدلنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا خالق ہے، وہ اپنی مخلوقات کے مقاصد و مقتضیات کو جتنے بہتر طریقے پر جانتا یا جان سکتا ہے، کوئی دوسرا نہیں جان سکتا کہ وہ کسی چیز میں ترمیم و تغیر کرنے کا حق دار بن سکے۔ اگر کوئی شخص اِس کی جسارت کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی چیز کی اصلاح کا مدعی ہے، جو بالبداہت ایک حماقت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ خدا نے آنکھیں پیشانی کے ساتھ لگائی ہیں، کوئی اُن کو گدی یا پاؤں کے ساتھ لگانے کی کوشش کرے یا اللہ تعالیٰ نے عورت کو عورت اور مرد کو مرد بنایا، لیکن عورت مرد بننے کے لیے زور لگائے یا مرد عورت بننے کا خواہش مند ہوجائے۔ اِس قسم کی سعی نامراد کا نتیجہ بگاڑ اور فساد کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا۔ بالکل یہی حال دین فطرت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کے جو مبادی فطرت کے اندر ودیعت فرمائے ہیں، اُنھی پر انسان کی دنیا میں صلاح اور آخرت میں فلاح منحصر ہے۔ اگر انسان اُس سے ذرا سا انحراف اختیار کرے تو وہ خدا کی صراط مستقیم سے ہٹ جائے گا، جس کا لازمی نتیجہ اُس کے دین اور اُس کی دنیا،دونوں کی تباہی ہے، اگرچہ وہ یہ انحراف علم اور سائنس کے کتنے ہی بلند بانگ دعاوی کے ساتھ کرے۔‘‘
(تدبرقرآن6/ 95)
یہی چیز ہے، جس کی طرف انسانوں کو راغب کرنے کے لیے شیطان نے پورے ادعا کے ساتھ یہ کہا تھا کہ میں اُنھیں سکھاؤں گا تو وہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑ دیں گے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف جو اقدام بھی کرتے ہیں، وہ اپنے خلقی حدود سے تجاوز، مشیتِ ایزدی سے انحراف اور اپنے خالق کے فیصلے سے بغاوت کے مترادف ہے۔ چنانچہ یہ جرائم اپنی نوعیت میں بغی ہی کے دائرے سے متعلق ہیں۔ اِس طرح کے جو انحرافات زمانۂ رسالت میں رائج تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے منع فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مردوں اور عورتوں کے بارے میں ملامت کا اظہار فرمایا، جو اپنی وضع قطع میں تبدیلی کر کے اُس سے مختلف جنس ظاہر کرتے ہیں، جس پر اللہ نے اُنھیں پیدا کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:
لعن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم المخنثين من الرجال، والمترجلات من النساء، وقال:”أخرجوهم من بيوتكم ‘‘. (بخاری، رقم 6834)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مردوں پر لعنت کی ہے، جو خود کو مخنث ظاہر کریں اور اُن عورتوں پر لعنت کی ہے، جو مردانہ وضع اختیار کریں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے افراد کو اپنے گھروں سے نکال دو۔‘‘
ابوداؤد میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
عن ابن عباس، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: أنه لعن المتشبهات من النساء بالرجال، والمتشبهين من الرجال بالنساء. (رقم 4097)
’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘